زمیں جس رب کی ہے نظام اس کا ہی لانا ہے! – سمیرا غزل




حسین رضہ کلمہ حق کہنے نکلے ہیں
کہ یہ ہے جہاد اکبر
اسی پر ہوگئے قرباں قاسم و اکبر
مری آنکھوں کے سامنے ہیں ننھے اصغر
گلا تھا خشک اب خون سے تر ہے
سکینہ پیاسی ہیں عم کو بلاتی ہیں
کہ اس پیاس پر مر مٹے عباس
حر کے بیٹے معرکے میں آگے آئے تھے
حر شہید ہوگئے عدو کو خاطر نہ لائے تھے
حبیب بڑھاپا کربلا سے پیچھے چھوڑ آئے تھے
کیا کیا جوہر دلیری کے جواں مرد نے دکھائے تھے
بہتر تھے ہزاروں پہ وہ چھائے تھے
کہ جب حسین رضہ سجدے میں سر کو جھکائے تھے
اسی لمحے تاج شہادت پائے تھے
زینب دیکھتی ہیں قربان آنکھوں سے
نکلتی جارہی ہے جان آنکھوں سے
رہتی دنیا کو حسین رضہ نے نمونہ یہ دکھایا ہے
کہ ہو باطل زمانہ تو جاں کو آزمانا ہے
زمیں جس رب کی ہے نظام اس کا ہی لانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں