مناجاتِ ابن انشاء – جویریہ سعید




انسان کا اللہ سے کیسا رشتہ ہے ۔ وہ جو بے نیاز ہو کر بھی پوری توجہ رکھتا ہے ۔ اور وہ جو نظریں چراتے چلتے ہیں اور پھر بھی دھیان اس کے پاس لیے لیے جاتا ہے۔ اپنے دل کی تنہائی میں جب بندے اور خدا کے بیچ حجاب اٹھنے لگتے ہیں تو بندہ کیسے راز و نیاز کرتا ہے ، کیا کیا کہتا ہے۔ اس سے جو دور ہو کر بھی کس قدر قریب ہے ، وہ جو نگاہوں سے اوجھل ہوکر بھی کیسے دکھائی دیتا رہتا ہے۔
ابن انشاء کی یہ مناجات پڑھیے۔
کچھ دےاسےرخصت کرکیوں آنکھ جھکالی ہے
ہاں در پہ ترے مولا ! انشاؔ بھی سوالی ہے
اس بات پہ کیوں اس کی اتنا بھی حجاب آئے
فریاد سے بے بہرہ کشکول سے خالی ہے
شاعر ہے تو ادنیٰ ہے ، عاشق ہے تو رسوا ہے
کس بات میں اچھا ہے کس وصف میں عالی ہے
کس دین کا مرشد ہے ، کس کیش کا موجد ہے
کس شہر کا شحنہ ہے کس دیس کا والی ہے ؟
تعظیم کو اٹھتے ہیں اس واسطے دل والے
حضرت نے مشیخت کی اک طرح نکالی ہے
آوارہ و سرگرداں کفنی بہ گلو پیچاں
داماں بھی دریدہ ہے گدڑی بھی سنبھالی ہے
آوارہ ہے راہوں میں ، دنیا کی نگاہوں میں
عزت بھی مٹا لی ہے تمکیں بھی گنوا لی ہے
آداب سے بیگانہ ، در آیا ہے دیوانہ
نے ہاتھ میں تحفہ ہے ، نے ساتھ میں ڈالی ہے
بخشش میں تامل ہے اور آنکھ جھکا لی ہے
کچھ در پہ ترے مولا ، یہ بات نرالی ہے
انشاؔ کو بھی رخصت کر ، انشاؔ کوبھی کچھ دےدے
انشاؔ سے ہزاروں ہیں ، انشاؔ بھی سوالی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں