امن کے راہی! – حمیرا حیدر




(یوم دفاع پر افواج پاکستان کے نام)
ٹھٹھرتے جاڑوں میں
سنگلاخ چوٹیوں پر
لہو کو برفاب کرتی وادیوں میں
امن کے راہی!!!
چلچلاتی دھوپوں ،سلگتے صحراوں میں
وطن کی حرمت پہ جان و تن وارتے
امن کے راہی !!
بپھرتی موجوں، تند طوفانوں سے لڑتے
سمندروں کی گہرائیوں میں اترتے
وہ دشمنوں سے سب محاذوں پے لڑتے
امن کے راہی !!!
گہری راتیں ، چمکتی صبحیں دھیمی شامیں
وطن کے نام کرتے
وہ موج آب بھی ، فضا کے عقاب بھی
دشمنوں پر عذاب بھی
امن کے راہی!!!
زلزلے ،طوفان یا سیلاب میں
ملک و ملت کے لئے ہر دم تیار ہیں
وہی تو قوم کی آواز ہیں
امن کے راہی!!
بوڑھی ماں
معصوم بچے ،جواں سال شریک حیات
وہ لوٹ آنے کی امید میں منتظر نگاہیں
انتطار کرتی ہی رہ جاتی ہیں اور
سلامی دیتا اک دستہ
پرچم میں لپٹا اک لاشہ۔
جائے دھماکہ سے بس اک جوتا یا ایک رقعہ
جو رونے گریہ کرنے سے روکتا ہے
امن کے راہی۔۔۔
دھرتی ماں پہ خود کو وارتے ہیں
وہ اپنے خوں سے ہمارے کل کو اجالتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں