مظلوم راتیں – سماویہ وحید




راتیں بہت ادھوری ہوگئی ہیں
آنسو رواں ہیں……
خون سے زمینیں تر ہیں
مظلوموں کی چیخیں فریاد کر رہی ہیں
درد دلوں کو کاٹ رہا ہے
انگاروں پر لٹایا جارہا ہے
راتیں تاریک ہیں
کرفیو بھوکا مار رہا ہے
جنازے پر جنازے لے کے جائے جارہے ہیں
تنہائی کا ماحول ہے…….
معصوموں کی آوازیں بلا رہی ہیں
خون سے لپٹی لاشیں دفنائی جارہی ہیں
میرے مولا! تیری ناچیز بندی…
تجھ سے التجا کرتی ہے
اے دو جہاں کے مالک! تجھے تیری رحیمی کا واسطہ
تجھے تیری غفور و رحیمی کا واسطہ
مولا! رحم فرما…..
معصوموں کا درد بانٹنے والا بنا
آسانیاں پیدا فرما…..
تو ہی ہمارا مالک ہے
تو ہی حاجتیں سنتا ہے….
ان مظلوموں کو تھام لے
تو ہی ہمارا مولا ہے
ہم تیرے ہی بندے ہے
تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے
ہمیں مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے والا بنا…..

اپنا تبصرہ بھیجیں