بچا لینا حشر میں – عشرت زاہد




میرے مالک، میرے خالق اے میرے پالنے والے
میری ہر ہر خطا کو درگزر میں ڈھالنے والے 

 کبھی آئے کوئی مشکل، کوئی موذی بیماری ہو
اسی مشکل گھڑی کو رحمتوں سے ٹالنے والے

کہیں کوئی کمی ہو جائے ،گر میرے عمل میں تو
میرے اس عیب کو رحمت سے اپنی ڈھانپنے والے 

کبھی حد سے نکل جاؤں، تو مجھ کو کھینچ لے واپس
تو ایسا ہی نگہباں ہیں ، اے مجھ ک و چاہنے والے

 
سمندر کو دیا پانی ، پہاڑوں کو دئے ہیں رنگ ،
اے عرض و سماں کو چھ دنوں میں ڈھالنے والے 

درختوں میں اگائےپھل اورکھلیانوں میں ہریالی،
کرشمہ تیری قدرت کا، اے دانہ پھاڑنے والے

یہ ہر دم خیر اور نیکی کی دی توفیق تونے ہی
تو ہی دے گا اجر بھی دس گنا، اے بانٹنے والے

تجھی پر ہے توکل، اور تیرا ہی آسرا ہے رب
بچا لینا حشر میں، نیکیوں کے چھانٹنے والے 

اپنا تبصرہ بھیجیں