ہمیں کچھ زخم ایسے بھی ملے ہیں – سماویہ وحید




ہمیں کچھ زخم ایسے بھی ملے ہیں
دشمنوں نے نہا دیا ہے خون کی ندیوں میں
اٹھی جب تلواریں, کٹ گئے دل جب
کردیا خون ,خون سے الگہمیں کچھ زخم ایسے بھی ملے ہیں
منہ سے کی میٹھی باتیں, اندر جلاتے رہے شمع
حکمرانوں نے جب خود ہی کی سازشیں
تو بھائی بھائی کے خلاف ہوا کھڑا
ہمیں کچھ زخم ایسے بھی ملے ہیں
اقتدار کی ہوس میں, لالچی حکمرانوں نے
اپنے مفاد کی خاطر, پیٹ کی خاطر
راکھ کردیا  مغرب و مشرق پاکستان
اس لیے ہمیں کچھ زخم ایسے بھی ملے ہیں
اسلامی تاریخ گواہ ہے ہماری
مسلمان اپنے قریبوں سے ہی کرتا رہا ہے غداری
اپنوں سے تو کرتا رہا میٹھی باتیں , باہر اگلتا رہا زہر
جب ہی تو ہمیں کچھ زخم ایسے بھی ملے ہیں
کہ ہم سب ایک دوسرے سے نفرت کرنے ہیں لگے
بھائی بھائی کو مارنے پر تُلا ہوا
سب ایک دوسرے کے گریبان کھینچ رہیں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں