یہ تو آبگینے ہیں!! – کشف مریم




آؤ انمول تمھیں آج بتاؤں
کیا پایا میں نے زندگی سے
محبت خلوص و قربانی کے جذبے
صرف افسانوں میں ملتے ہیں
مگر ایسی بھی عورتیں ہوتی ہیں
جو حق کو پانے کی خاطر میں
عصمتیں لوٹاتی پھرتی ہیں

دندناتے پھرتے ہیں سڑکوں پہ
یہ بھوکے خونی بھڑیے
اپنی عصمت کی حفاظت کی خاطر
گھروں کو پناہ گاہ بناتی ہے
انمول پوچھتی ہوں میں تم سے
کہاں گئیں ہیں وہ مائیں
جن کے تقدس میں سب کہتے ہیں
کہ یہ تو آبگینہ ہیں
کہ یہ تو آبگینے ہیں

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں
ختم الرسل کی امت پر
یہ دور کیونکر آیا ہے
ان سوالوں کا جواب آج میں نے پایا ہے
ایسی بھی عورتیں ہوتی ہیں
رب کے ایک حکم پہ جو
لحاف سے خود کو ڈھانپتی ہیں

ہزاروں دکھوں کو سہتے سہتے
مظبوط چٹانیں بن جاتی ہیں
ماؤں کے کردار کو اپناتی ہیں
کبھی فاطمہ تو کبھی عائشہ بن جاتی ہیں
اپنی عصمتوں کی خاطر سب سہنے والی
شاید ایسی بھی عورتیں ہوتی ہیں
کہ یہی تو آبگینہ ہیں

میں آج کی عورت کو دیکھتی ہوں
حیرت میں ڈوب جاتی ہوں
نہ گھر بنانے کی فکر اس کو
نہ تربیت اولاد کی فکر اس کو
ایسی بھی عورتیں ہوتی ہیں
آزادی کا نعرہ لگاتی سڑکوں پہ آ جاتی ہیں

انمول میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں
پھر کیوں یہ شکوہ کرتی ہیں
کہ عصمتیں کیوں لٹ جاتی ہیں
بری نظریں کیوں ڈالی جاتی ہیں
کیا ایسی بھی عورتیں ہوتی ہیں
کیا یہی وہ آبگینے ہیں
کیا یہی وہ آبگینے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں