سانحہِ پشاور – عمیمہ ساجد




ملبوس تھا جن کے جسم پر سبز لباس
وہ بچے ایک دُکھی، پر باہمت شام دے گئے
وہ شہداء برائی کو اسکا انجام دے گئے
افسوس! نہ سمجھ سکے گا دشمن کہ وہ حصولِ علم کا پیغام دے گئے
پس!جان لے یہ دشمن بھی کہ وہ معصوم قلم کو شمشیر کا مقام دے گئی
ان مسکراتے چہروں سے ہمیں مقصد حیات ملا ہے
راستۂ حق سے جو ہم ہیں آشنا وہ انکی ہی قربانی کا صلہ ہے
ان شہداء کی داستان آج اہلِ قلم بھی لکھتے ہیں
سنا ہے وہ جنت کے پھول ماؤں سے خوابوں میں ملتے ہیں
دیکھ لے غلام ِابلیس بھی کہ علم کا دریا آج بھی رواں ہے
ناکبھی تھم سکے گا کیونکہ یہ علم والوں کا کارواں ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں