نئے سے نیا سال – ڈاکٹر شکیل احمد سعید




الہی جو اب کے نیا سال آئے
کرونا کی جیسی وبا ٹال آئے

ہو آزاد کشمیر بھی اے خدایا
کہیں سب ہی دل سے نیا سال آئے

نہ ہوں غم گزشتہ برس کی طرح سے
پرانا نہ ہو وہ نیا سال آئے

کہ خوشیوں سے بھرجائیں دامن سبھی کے
بس ایسا ہی اب کے نیا سال آئے

وطن پر مرے وہ کرم کر خدایا
کہیں دل سے سب ہی نیا سال آئے

شکیل اپنی یہ ہی دعا ہے خدا سے
نئے سے نیا ہو نیا سال آئے

اپنا تبصرہ بھیجیں