بـارشـــوں کے موســم مـیں




بارشوں کے موسم میں
دل کی سر زمینوں پر
گَرد کیوں بکھرتی ہے؟
اس طرح کے موسم میں پھول کیوں نہیں کِھلتے؟
لوگ کیوں نہیں مِلتے؟
کیوں فقط یہ تنہائی ساتھ ساتھ رہتی ہے؟
اِتنی تیز بارش سے دل کے آئینے پر سے
اشک کیوں نہیں دُھلتے؟
زخم کیوں نہیں مِٹتے؟
نیند کیوں نہیں آتی؟
بارشوں کے موسم میں آنکھیں کیوں برستی ہیں؟
اشک کیوں نہیں تھمتے؟
صبح کیوں نہیں ہوتی؟
رات کیوں نہیں ڈھلتی؟


آسماں پہ سائے بھی
منجمند سے رہتے ہیں
اور دل کے دروازے
کیوں کبھی نہیں کُھلتے؟
سائے کیوں نہیں ڈھلتے؟
چاند کیوں نہیں آتا؟
آسماں سجانے کو
اور یہ ستارے بھی
کیوں نہیں نکلتے ہیں؟
بارشوں کے موسم میں
تم ہی ہم کو سمجھاؤ
لوگ کیوں نہیں مِلتے
پھول کیوں نہیں کِھلتے؟
اشک کیوں نہیں تھمتے؟؟
نیند کیوں نہیں آتی

بـارشـــوں کے موســم مـیں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں