قلم اٹھتا ہے تو سوچیں بدل جاتی ہیں




قلم اٹھتا ہے تو سوچیں بدل جاتی ہیں
اک شخص کی محنت سے ملتیں تشکیل پاتی ہیں
کیا خوب تھا وہ شخص جس نے دنیا کو بتایا
کس طرح غوروفکر سے بےنام قوم نام پا جاتی ہیں
گر لکھنے بیٹھوں تو بہت کچھ لکھوں اس ذات پر
جس پڑھنے کے لیے ہر صاحب فہم کو بےچین پاتی ہوں
دعاگو ہوں اپنے لیے اپنے رب کریم سے
ہے اگر جائز تمنا میری تو قبول کر
مجھ کو بھی اقبال جیسی فہم و فراست نصیب کر

قلم اٹھتا ہے تو سوچیں بدل جاتی ہیں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں