خطا پے اپنی شرمندہ ہوں میں




تیری ہی رحمت کا گرویدہ ہوں میں
ہر خطا پے اپنی شرمندہ ہوں میں
بھول کر آداب تخلیق میں کیوں
اِس ادا پے اپنی رنجیدہ ہوں میں
مرتے ہیں سب لمحہ لمحہ یہاں پر
اک عطا سے تیری بس زندہ ہوں میں

خطا پے اپنی شرمندہ ہوں میں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں