Home » سلام ایسی جسارتوں کو – اسماء صدیقہ
شاعری

سلام ایسی جسارتوں کو – اسماء صدیقہ

سلام ایسی قیادتوں کو
دل و نگاہ کی سعادتوں کو
رضائیں اتریں خدا کی تم پر
در نبی کی محبتیں بھی
کھڑی ہیں ہمراہ حفاظتوں کو
ستم گروں نے کیا ہے اعلاں
غلام بن کر جیئں گے انساں
شہر کو سارے کیے ہراساں
وڈیرہ شاہی ذھن ہے رقصاں
سوال کرتی ہے ارض مہراں
یہ زعم کیسا ہے مثل شاہاں
یہ دور نو میں نہیں ہے آساں
بپھر گیا ہے شعور انساں

سنا جو تم نے تو اٹھ گئے تھے
حرف انکار سے بھرے تھے
تمہارا دم تھا نکل پڑے تھے
ٹھٹھرتے موسم میں ڈٹ گئے تھے
تو فاصلے سب سمٹ گئے تھے
سلام ایسی جسارتوں کو
بصیرتوں کو بصارتوں کو

وہ جس کی زد میں یہاں زمیں ہے
فرعون دوراں کا جانشیں ہے
تو مضطرب سا ہر ایک مکیں ہے
ہر اک لب پہ نہیں نہیں ہے
ہاں بات دل میں یہ جاگزیں ہے
خدا کی نصرت بہت قریں ہے
علم اٹھائے ہوئے یقیں ہے
اسی کے اگے یہ خم جبیں ہے

سلام ایسی جسارتوں کو
نئے سفر کی مسافتوں کو
سعادتوں کو صداقتوں کو
وفا کی سچی امانتوں کو!

Add Comment

Click here to post a comment