Home » انگڑائی – اسماء صدیقہ
شاعری

انگڑائی – اسماء صدیقہ

شفق کی رنگت نکھار بن کے
فضاء میں ایسے کھلی ہوئی ہے
غم والم کے ہزار موسم
مسرتوں میں بدل رہے ہیں
یہ خوش گمانی نہ ہے یہ دھوکہ
خزاں رتوں کے طویل عرصے
گلوں کی نکہت میں ڈھل رہے ہیں
بھٹکنے والے سب ہی مسافر
یقیں کے رستوں کا بھید پاکر
بس ایک جانب کو چل رہے ہیں
بکھرنے والے سنبھل رہے ہیں
دل ونظر میں فقط خدا ہے
اسی کے صدقے سے دل ملا ہے
عطا پہ اس کی ہر اک فدا ہے
جو وسعتوں کا گذر ہوا ہے
تو الفتوں کا بھی در کھلا ہے
بدلتا منظر جو دکھ رہا ہے
ہدایتوں کا یہ معاملہ ہے
خدائے رحماں کا آسرا ہے
بشارتوں کا یہ سلسلہ ہے
یہ آسرا ہی تو ابتدا ہے
نئی کرن کا جو در کھلا ہے

Add Comment

Click here to post a comment