Home » حیا تکریم انساں ہے – اسماء صدیقہ
شاعری

حیا تکریم انساں ہے – اسماء صدیقہ

محبت اور وفا کے رنگ
جو اٹ جائیں کثافت سے
کسی بھٹکی حکایت سے
نہیں ممکن کبھی ایسا….!
جو ان کا میل ہو جائے
کسی الجھی روایت سے
محبت تو عطا سے ہے
لطافت کی رضا سے ہے
گواہی ہے وہ عفت کی صداقت کی ضیاء سے ہے
وفا کی عظمتیں جانو ….!
منزہ اک لطافت میں
دمکتا نور یزداںہ ہے
ابھرتا شرف انساں ہے
بنا حرمت بنا عزت
سرا اس کا نہیں ملتا
کوئی جوہر نہیں کھلتا
حیا الفت سے بچھڑے تو
ہوس رستہ بناتی ہے
شقاوت کے تمدن سے
گھنے جنگل اگاتی ہے
رگوں میں نسل انساں کے
نئی دہشت سماتی ہے
تب ہی جیون سہمتا ہے
عداوت پنپی جاتی ہے
حیا سے کیا گریزاں ہو
حیا تشکیل ایماں ہے
یہی تکریم انساں ہے
یہی تکمیل پیماں ہے

Add Comment

Click here to post a comment