Home » تکریم نسواں تحفظ زن – زرافشاں فرحین
شاعری

تکریم نسواں تحفظ زن – زرافشاں فرحین

(8 مارچ عالمی یوم خواتین سے پہلے۔۔۔ اظہار تشکر)

یہ ہزار برس کا قصہ ہے
پل دو پل کی بات نہیں
برہنا پا میں چلتی تھی
درد میں سانجھی ساتھ نہیں
آنکھوں میں ویرانی تھی
دل بھی میرا شانت نہیں
اجلے دن میں نا کھیلی تھی
گھور اندھیری رات میں بھی
حصہ میں جس کے آتی تھی
وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی
آنسو پی کے جیتی تھی
ذلت کا نشانہ بنتی تھی
یا خاک میں زندہ رلتی تھی
ہرس و ہوس کا سمبل تھی
یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی
چند ٹکوں میں بکتی تھی
آہ میری بے مایہ تھی
سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی
پر دور کہیں برسات نہیں

یہ کرم ہوا پھر خوب ہوا
ان (محمدﷺ) کے دم سے ہر غم دور ہوا
بابا نے انگلی تھامی سر پہ رداء شفقت دی
آ ہیں سن کر بھیا نے مجھ کو صداء قوت دی

قدموں تلے جنت رکھ دی
سارے جہاں کی نعمت دی
بناکر رحمت میری ہستی
مجھ کو شان و شوکت دی
قوی بازؤں کا حصار دیا
بیٹوں نے بھی پیار دیا
کیسی نایاب قسمت تھی
جو میں نے اپنے ہاتھوں گم کردی
تکریم بھی ملی تعظیم بھی ملی
تقدیس کی تقدیر ملی
میں جو پلٹ کر اس راہ پہ چلوں
جو سائباں کو جاتی ہو
منزل ملے خوشی امر کرلوں

ڈھونڈو ں کوئ کنارا ہو
ڈوبتے کا سہارا ہو
عرش والے نے دعا کچھ یوں سن لی
عظمت وہ ہو جو مقام دلاتی ہے

مالک نے مجھے پھر عطا کردی
وہ بانہ جو “قوام “کہلاتی ہے

Add Comment

Click here to post a comment