Home » مناجات – اسماء صدیقہ
شاعری

مناجات – اسماء صدیقہ

مالک تیرے غلام ہیں سر کو جھکائے ہم
درپہ تیرے کھڑے ہیں نظریں بچھائے ہم

مانا کہ زندگی کے ستم بےشمار ہیں
اور بندگی میں راہ کے پتھر ہزار ہیں

لیکن تیری عطا کے امیدوار ہیں
آنکھوں سے آنسوؤں کے موتی لٹائے ہم

مشکل بڑی ہے یارب عہد جدید میں
رہتے ہیں ہر گھڑی ہم یاس ووعید میں

لیکن تیرا نشاں ہے حبل ورید میں
بےشک اسی یقین پہ گرنے نہ پائے ہم

یارب یہ ارتقاء ہے یاکہ جمود ہے ؟
انسان کے آستاں پہ خدائی نمود ہے

جلتے ہوئے دہر میں گویا وجود ہے
کب تک جئیں گے آخر دھشت کے سائے ہم

Add Comment

Click here to post a comment