قاتل سے سوال – طاہرہ فاروقی




الحادکے پرچم بردارو! 
اےظلمتِ شب کےدلدادو!
جب نور بجھانے جاٶگے
تب ظلمت لیکے آٶگے
ظلمت کانشانہ خودکو ہی
نا سمجھی میں بنواٶ گے
جب ظلمت میں گھر جاٶگے
تب راہ کہیں نہ پاٶگے!!
جب غدر اٹھانا چاہوگے
خود کو ہی بھینٹ چڑھاٶگے
ایمان کو پہلے گنواٶگے
پھر جاں بھی بچا نا پاٶگے
تم تنہا خود ہوجاٶ گے
جب حق کو ہی ٹھکراٶگے
تم جدھرنظر دوڑاٶ گے
 لشکرکو عدو کےپاٶ گے
تب اپنے لاشے اٹھوانے
تم کس کس کو بلواٶگے
اس دن کے آنے سے پہلے
کیا ہوش میں تم نہ آٶگے؟

6 تبصرے “قاتل سے سوال – طاہرہ فاروقی

اپنا تبصرہ بھیجیں