اے رمضاں! – اریبہ سموں




اے رمضاں!
تم جارہے ہو؟
اتنا جلدی بھی کوئی جاتا ہے؟
مہمان رحمت ہوتا ہے
لیکن تم تو رحمتوں کے خزانے ہو
تمہاری پرنور ساعتوں کا ہر ایک لمحہ
ہماری تاریکیوں کو چیرتا ہے
ہمارے بے وقعت آنسووں کا نذرانہ
تمہارے دم سے ہے مول پاتا
اے رمضاں!
ہم مانتے ہیں
ہم اچھے میزباں نہیں ہیں
تمہاری میزبانی کا حق
ہم نے ادا نہیں کیا ہے
لیکن ہماری دعاوں کے ٹوٹے لفظوں میں
سسکیوں میں آہ و فغاں میں
ہمارے روزوں کے صبر اور
شکرانے کی ہر اک صدا میں
تمہارے لمحہ لمحہ کا
شکر چھپا ہے
بس ہم سے یہی میزبانی ہوسکی ہے
اے رمضاں!
تمہیں الوداع کیسے کہہ دیں؟
گیارہ ماہ کی طویل جدائ کیسے سہہ لیں؟
کسے پتہ ہے زندگی کی ڈور کب ٹوٹ جائے
ہمارا تم سے یہ رشتہ ناطہ کب چھوٹ جائے..
سنو!
جارہے ہو تو بس اک کام کردو
ہمارے دل کی تاریکیوں کو تمام کردو
جارہے ہو تو جاو،مگر !
جلد لوٹ آنا کہ
دل ابھی بھی شفاء ہیں چاہتے
کیونکہ ہمیں،
تمہاری مسیحائی بھا گئی ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں