مرے مولی تو مجھ پہ مہربانی کر – سمیرا غزل




کلیم طور سینا سے ذرا سی آگہی دے دے
کہ عیسی کی مسیحائی سے کر روشن ذہن میرا
مجھے سکھلا دے دعائے خلیل اللہ
مجھے سکھلا دے آداب ذبیح اللہ
عطا کردے اطاعت ہاجرہ مجھ کو
میرے مولی میں تجھ سے گڑگڑا کر مانگتی ہوں
خضر کو میرا راہ بر کردے
مری دعاوں میں اثر کردے
کہ آقائے دوجہاں کے در پہ میرا سر کردے
میں یہاں ہوں مجھے ادھر کردے
خاک طیبہ سے مری آنکھیں گوہر کردے
تو اپنے در کو میرا گھر کردے
بنادے راستہ میرا نقش قدم ان کے
ہتھیلی پہ لیے پہنچوں در پہ سر ان کے
مرے مولی تو میری پشت بانی کر
مرے مولی تو مجھ پہ مہربانی کر

اپنا تبصرہ بھیجیں