Apple has started developing Google’s alternative search engine:




کیلیفورنیا: سرچ انجن کا مقصد ورلڈ وائڈ ویب پر ٹیکسٹ کی صورت میں مخصوص معلومات کے لیے منظم طریقے سے تلاش کرنا ہے اور ایپل نے گوگل کے متبادل کے طور پر اپنا سرچ انجن بنانے کی تیاری شروع کردی۔

عالمی سائنس میگزین کے مطابق انٹرنیٹ پر کوئی بھی چیز تلاش کرنے کے لیے سرچ انجن استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سرچ انجن دراصل سافٹ وئیر پر مشتمل ایک مربوط نظام ہے جو انٹر نیٹ پر مواد تلاش کرنے کا ذریعہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق  حال ہی میں بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے خبر سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایپل نے گوگل کے متبادل کے طور پر اپنا سرچ انجن بنانے کی تیاری شروع کردی  جبکہ  ایپل نے گوگل سے دوری اختیار کرنے کے لیے کافی عرصے پہلے سے کام شروع کردیا ہے۔

خبر رساں کے مطابق کمپنی کا ایپل بوٹ 2014 میں پہلی بار سامنے آیا تھا اور بتدریج ویب سائٹ تک پہنچا ہے  اور آئی او ایس 14 کی ہوم اسکرین کے سر پر ایپل نے ویب سائٹس کو ڈائریکٹ لنک کرکے گوگل کو مکمل طور پر بائی پاس کردیا ہے جبکہ  ایپل نے 3 سال قبل گوگل کے آرٹی فیشل انٹیلی جنس شبے کے سربراہ جان گیاننا ندیرا کی خدمات حاصل کی تھیں جو اب ایپل کے مشین لرننگ اور اے آئی اسٹرٹیی کے سنیئر نائب صدر ہیں۔

دوسری جانب ایپل سرچ انجن کی شکل کیا ہوگی یعنی ویب سائٹ کی شکل یعنی گوگل ڈاٹ کام کی طرح ہوگا یا کوئی اور ابھی واضح نہیں ہے۔

واضح رہے اس وقت دنیا میں 500 کے قریب سرچ انجنز موجود ہیں  اور ان میں سے زیادہ تر  وہ سرچ انجنز ہیں جو کچھ مخصوص علاقوں میں، مخصوص کاموں اور مخصوص زبانوں میں سرچ (تلاش) کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں