سوشل میڈیا کا مثبت اور منفی استعمال – مبشر سفیر




سوشل میڈیا نے دنیا کو سمیٹ کر موبائل میں بند کر دیا ہے۔ ہر انسان دوسرے کے ساتھ سوشل میڈیا پر رابطے میں ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو سٹار بنا دیا ہے، ادھر کچن میں کچھ بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں، ادھر داد و تحسین سیمٹ لیں، بلی کے بچے نے شرارت کی، آپ نے ریکارڈ کی، سوشل میڈیا پر لاکھوں سراہیں گے۔

بچے نے پہلے الفاظ بولے یا پہلا قدم اٹھایا، آپ کا پورا خاندان ایک ساتھ سوشل میڈیا پر اس خوشی میں شریک ہو سکتا ہے۔ کتنے ہی لوگوں کی قسمت سوشل میڈیا نے بدل دی, ننھے احمد شاہ کی وڈیو اس کے ٹیچر نے اَپ لوڈ کی تھی, لاکھوں لوگوں  نے اس وڈیو کو دیکھا, ٹی وی چینلز سے آفرز آئیں, آج احمد شاہ ایک سٹار ہے, یوٹیوب سے بھی کما رہا ہے۔ سوشل میڈیا کو لوگ اپنے بزنس کے پھیلاؤ کے لئے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ تمام ہی بڑے اور چھوٹے برینڈز فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹویٹر پر موجود ہیں۔ کتنے ہی صارفین آن لائن خریداری کرتے ہیں اور یوں برینڈز کا کاروبار پھل پھول رہا ہے، اس سے صارفین کے لئے بھی خریداری کرنا آسان ہوگیا ہے۔ کورونا لاک ڈائون میں زیادہ تر لوگ گروسری بھی آن لائن کر رہے تھے اور ادویات بھی گھر کے دروازے تک پہنچ رہی تھیں۔

اس دوران وٹس ایپ اور فیس بک خریداری کے لیے بہت زیادہ استعمال ہوئے۔ اگر ہم بات کریں سیاسی، سماجی اور شوبز شخصیات کی تو وہ بھی سوشل میڈیا کا سہارا لے کر اپنا پیغام پہنچاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو تعلیمی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ سکول، کالجز اور یونیورسٹیز کے پیجز بھی بنے ہوئے ہیں اور یہاں سے انتظامیہ طالب علموں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران تمام طالب علم آن لائن کلاسز لیتے رہے۔ بہت سے افراد سوشل میڈیا پر خدمتِ خلق بھی کر رہے ہیں اور لوگوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔

جہاں سوشل میڈیا کے اتنے مثبت پہلو ہیں، وہاں اس کے منفی پہلو بھی بہت نمایاں ہیں۔ سب سے زیادہ تو یہ کہ لوگ اس پر بہت وقت ضائع کرتے ہیں، سارا سارا دن فون ہاتھ میں ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر تو وہ سب کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں لیکن جو ساتھ بیٹھے حقیقی رشتہ دار ہوتے ہیں، ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لوگ سوشل میڈیا کو جعلسازی کے لئے استعمال کرتے ہیں، یہاں خواتین کے نام سے جعلی اکائونٹس بناکر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اور ان سے رقم ہتھیا لی جاتی ہے۔ لوگوں کی تصاویر اور وڈیوز کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ لوگوں کے اکائونٹس ہیک کر لیے جاتے ہیں۔ بعض افراد اچھی چیزوں پر بھی اپنا خبثِ باطن عیاں کرنے سے باز نہیں آتے اور غلط اور غلیظ کمنٹس کرتے ہیں۔ بعض منفی ذہنیت کے حامل افراد نے سوشل میڈیا پر باقاعدہ ٹیمیں بنا رکھی ہیں جہاں سے وہ لوگوں کو نشانہ بناتے اور ان کے خلاف مہمیں چلاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں