نئی پرائیویسی پالیسی پر سربراہ واٹس ایپ کی وضاحت – Urdu News – Today News




کیلیفورنیا: معروف سوشل اینڈ میسجنگ موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی پر شدید تنقید کے بعد سربراہ ول کیتھ کارٹ نے وضاحت پیش کی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے اپنے پیغام میں کہناہےکہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی سے صارفین متاثر نہیں ہوں گے نہ ہی اُن کا ڈیٹا کسی کو فراہم کیا جائے گا۔

I’ve been watching a bunch of discussion this week about the privacy policy update we’re in the process of making @WhatsApp and wanted to share some thoughts.

Thread 👇

— Will Cathcart (@wcathcart) January 8, 2021

ول کیتھ کارٹ کا کہناتھا کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے باعث واٹس اور فیس بک نجی پیغامات یا کالز کو نہیں دیکھ سکتے، جبکہ وہ ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عالمی سطح پر اس کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔

ول کیتھ کارڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پالیسی کو شفافیت کے لیے اپ ڈیٹ کیا ہے اور اس میں پیپل ٹو بزنس آپشنل فیچرز کی بہتر وضاحت کی گئی ہے۔

I want to share how committed everyone @WhatsApp is to providing private communication for two billion people around the world. At our core, that’s the ability to message or call loved ones freely protected by end-to-end encryption and that’s not changing.

— Will Cathcart (@wcathcart) January 8, 2021

سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس پالیسی کو اکتوبر میں تحریر کیا تھا، جس میں واٹس ایپ میں موجود کامرس کو بھی شامل کیا تھا۔

It’s important for us to be clear this update describes business communication and does not change WhatsApp’s data sharing practices with Facebook. It does not impact how people communicate privately with friends or family wherever they are in the world.

— Will Cathcart (@wcathcart) January 8, 2021

واٹس ایپ کے سربراہ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتا یا کہ ہر ایک کو شاید علم نہیں کہ متعدد ممالک میں کاروباری اداروں کے واٹس ایپ پیغامات کتنے عام ہیں، درحقیقت روزانہ 17 کروڑ سے زیادہ افراد کسی ایک بزنس اکاؤنٹ کو میسج کرتے ہیں، اور متعدد ایسا کرنا چاہتے ہیں۔

سربراہ واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ ہمارا دیگر کے ساتھ پرائیویسی میں مقابلہ ہے جو کہ دنیا کے لیے بہت اچھا ہے، لوگوں کے پاس انتخاب ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے واٹس ایپ نے اپنی پالیسی تبدیل کر دی ہے اور صارفین کو 8 فروری تک کا وقت دیا ہے کہ وہ اسے قبول کریں ورنہ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا جائے گا جبکہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے نوٹیفکیشن پوری دنیا بھر میں صارفین کو مل چکے ہیں۔

اس نوٹیفکیشن میں اہم اپ ڈیٹس کے بارے میں بتایا گیا کہ صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور منیج کرسکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں