Home » ذات ذر- عمرین راشد
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

ذات ذر- عمرین راشد

اکسیویں صدی میں اصل جنگ دو تہزیبوں کے درمیان ہوگی. ایک مغربی تہزیب اور دوسری اسلامی تہزیب ۔اور بالأخر فاتح وہی تہزیب ہوگی جنکی بنیاد انکی دائمی قدروں پر ہوگی۔ مغرب نے اپنی ٹقافتی یلغار کیلئے اپنا پسندیدہ میدان تعلیمی اداروں کا انتخاب کرلیا ہے ۔حال ہی میں اسکا ثقافتی دائرہ ہمارے تعلیمی اداروں کیطرف گھومتا دکھائ دیتا ہے۔ انکے سیاسی ایجنڈے کی اصل بنیاد لبرل نظریہ ہے جسے وہ تعلیمی اور ابلاغی پروگراموں کے ذریعے نئ نسل کے ذہنوں میں راسخ کرنا چاہتا ہے یہ بات ہم سب جانتے ہیں تعلیم تو وہ ذات ذراور وہ بار ہاۓ جواہر ہے۔ جو اگلی نسلوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ در حقیقت نظام تعلیم میں تہزیبی و تمدنی شعور اور تجربات کو بنیادی حیٹیت حاصل ہے ۔جسکی بنیاد پر قومیں تشکیل پاتی ہیں ۔

تاریخ شاہد ہے کہ مغربی قوموں کے عروج و زوال میں انسانوں نے مختلف ادوار میں جو فلسفیانہ افکار سمیٹے وہ حواس و قیاس کی دی ہوئی معلومات پر مبنی ہیں جو ہر نۓ دن بدلتے اورغلط ثابت ہوجاتے ہیں ۔ یہ معلومات گمان تو فراہم کرسکتی ہیں لیکن یقین اور ایمان نہیں دے سکتیں۔ جب ہم بیسویں صدی کے عالمی دور پر نظر دوڑاتے ہیں تو ان گمان کردہ مذہبی و عقلی عقیدوں پر مشتمل نام نہاد لبرل تعلیم کے پھیلاؤ سے انسانی دنیا میں بے حسی اور ظلم و جبر میں کی گناہ اضافہ ہوا ۔پوری دنیا میں خاندانوں کی تباہی،جرائم کی رفتار میں تیزی دیکھی گئ ظالم قوموں نےاقتدار کی ہوس میں لاشوں کے انبار لگادئے ۔یہ واقعات ان قوموں کی اخلاقی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ لبرل تعلیم کو عام کرنے کیلئے انہیں ایسے گمشدہ معلم کی تلاش ہے جو نئ نسل کو انکے تہزیبی ورثے سے بیگانہ کردےاور یہ ہماری نسل کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس دنیا سے متعلق حیاتیاتی جبلی ضروریات ہی نصاب تعلیم کا مرکز و محور ہیں ۔اور اس مقصد کی تکمیل کیلیے ایک مستقل سیاسی ایجنڈا بناکر جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے لبرل تعلیم کے ساتھ ساتھ لبرل خواہشات کی تکمیل کیلئے ایک آزاد فضا کی راہ ہموار کی جارہی ہے ۔تاکہ ہماری نسلیں مغربی تہذیب کی مقلد بن جائیں۔

ہمارے نوجوانوں کی شخصی ترقی کو بنیاد بناکر انتہائ شاطرانہ انداز میں اپنی گرفت میں لیکر ایسے تربیتی عمل سے گزارتے ہیں اور یہ فکرو نظر پروان چڑھاتے ہیں کہ مسلم شناخت ثقافت کی وجہ سے ہے۔ کوئی مستقل چیز نہیں یعنی مسلم اقدار و نظریات شناخت اور ثقافت قابل تغیر ہیں تاکہ کسی بھی معاشرے میں قابل قبول ہونے کے لئےتبدیل کئے جاسکتے ہیں اسطرح یہ نئ نسل لبرل تعلیم ہی کے ذریعے مسلم مذہب و ثقافت اور اسلامی اقدار کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردیتے ہیں ۔انہیں سیکولر طریقے یعنی موسیقی و سرور کی محفلوں ناچ گانوں اور مخلوط ماحول میں الجھاکر انکی حیا بھی چھین لینا چاہتے ہیں۔
یہ بات بھی ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سیکولر نصاب تعلیم نظریہ پاکستان اور اسکے دستور کے خلاف ایک کھلی جنگ ہے۔ جسمیں ہمارے نام نہاد مفکرین کٹھ پتلی حکمران مغربی سامراج کے ساتھ ملکر اپنے سیاسی فریب سے مسلم دنیا کے تعلیمی نظام کو پراگندہ کررہے ہیں۔ نئ نسل میں یہ سوچ پیدا کررہے ہیں کہ بقاۓ ذات کے لئے مادی منعفت ہی اصل تعلیمی مقصد ہے یہ مسلم نوجوان کے عقیدہ آخرت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اگر اسوقت بھی ہمیں اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو کوئی بچاسکتا ہے ۔تو وہ قرآن و حدیث کاعلم ہے ۔جو آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے جو مغربی سامراج کی غلامی میں بھی اپنی ایمانی روح کو سلامت رکھے ہوۓ ہے ۔

مغربی فرما رواؤں کو اس بات کا پورا ادراک ہے۔ مسلمان قوم ایک ایسا ضابطہ حیات کے حامل ہیں جو آج بھی اگر آدھی دنیا میں بھی نافذ ہو گیا تو انکے کھوکھلے قلعے مسمار ہونا شروع ہو جائیں گے اور پوری دنیا کی قیادت امت مسلمہ کے پاس ہوگی۔