دنیا کی سب سے بڑی شہد کی مکھی زندہ مل گئی




انڈونیشیا میں سائنسدان شہد کی اس مکھی کو عشروں بعد ایک بار پھر ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بارے میں خیال پایا جاتا تھا کہ شائد اب وہ ناپید ہو چکی ہے۔
سائنسدانوں نے اس مکھی کو انتہائی مطلوب مکھی قرار دیا تھا۔ بلیک بی کے نام سے مشہور اس مکھی کی جسامت انسانی انگوٹھے کے برابر ہے اور اس کے پروں کا گھیر اڑھائی انچ تک ہے۔ اس مکھی کا ایک اور نام میگاکائل پلوٹو بھی ہے اور اسے ماہرِ حشرات رسل ویلس کے نام پر ’ویلس جائنٹ بی‘ بھی کہا جاتا ہے لیکن اس کا سادہ نام بلیک بی ہے۔
کئی روز کی تلاش کے بعد جنگلی حیات کے ماہرین انڈونیشا کے جنگلوں میں صرف ایک زندہ مکھی کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ماہرین نے اس مکھی کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی ہیں۔ نیچرل ہسٹری فوٹوگرافرکلے بولٹ نے، جس نے زندہ بلیک مکھی کی پہلی فوٹو لی اور اس کی ویڈیو بنائی، کہا کہ اڑتے ہوئے بل ڈاگ کو دیکھ پر وہ بہت خوش ہوئے اور انھیں یقین بھی نہیں تھا کہ وہ اب بھی زندہ ہے۔
پچھلی بار سائنسدانوں نے اس بڑی مکھی کو 1981 میں انڈونیشیا کے جزیروں پر ڈھونڈا تھا لیکن اس کے بعد اسے کوئی دیکھ نہیں پایا۔ حالانکہ کچھ ایسے اطلاعات تھیں کہ اس مکھی کی کئی اقسام آن لائن پر فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ جنوری میں سائنسدانوں نے اس مکھی کو ڈھونڈنے کے لیےاسی راستے پر جانے کا فیصلہ جہاں رسل ویلس نے 1858 میں اس مکھی کو ڈھونڈا تھا۔
بلیک بی کی مادہ مکھی دیمک کے گھروں میں اپنا چھتہ بناتی ہے۔ وہ اپنے چھتے کو بنانے کے لیے درختوں سے چیڑ حاصل کر کےاپنے چھتے کو جوڑتی ہے اور پھر دیمک سے اس کی حفاظت کرتی ہے۔
یہ مکھی عام طور پرنشیبی جنگلی علاقوں میں رہتی ہے۔
رسل والس نے، جنہوں نے چارلس ڈارون کے ساتھ ارتقا کے نظریے کو تیار کیا تھا، ایک بھڑ نما کالی مکھی کی خصوصیات بیان کی تھیں۔ انڈونیشیا کے جزیرے شمالی مولکس پر بلیک بی کی دریافت سے اس بات کی امید ہو چکی ہے کہ جزیرے کے جنگلات میں اب ناپید حشرات موجود ہیں۔ ابھی تک اس مکھی کی تجارت کو روکنے کے لیے کوئی پابندیاں عائد نہیں ہیں۔
اس مکھی کی تلاش کے لیے بھیجی جانے والی ٹیم کے تمام اخراجات ماحول کے لیے کام کرنے والے گروپ ‘گلوبل وائلڈلائف کنزویشن’ نے برداشت کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں