سبزیوں پھلوں کی کاشت




سبزیاں یا پھل ہم گھر میں خود اگائیں گے تو وہ صحت بخش بھی ہوں گی ،ساتھ ساتھ گھر کے بجٹ پر بھی دباؤ کم پڑے گا۔
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسانی صحت بیماریوں کو شکار نہیں ہوگی ۔ یہ ایک بہترین مشغلہ بھی ہےگھر میں سبزیاں اگی ہونے کی صورت میں جب چاہیں آسانی سے میسر آجاتی ہیں جو کہ نہ صرف تازہ ہوتی ہیں بلکہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہوتی ہیں۔ باغبانی انسان کے ذہنی اور جسمانی نظام کو درست رکھتی ہے۔ مختلف کاموں کی وجہ سے جسم متحرک رہتا ہے جو کیلوریز کو جلانے کا سبب بن کر جسم انسانی کو سلم اور اسمارٹ رکھتا ہے۔ باغبانی اعصابی دباؤ کو ختم کرتی ہے اس طرح چڑچڑے افراد کے لئے فائدہ مند ہے وہ بھی پودوں کے پاس خوشی محسوس کرتے ہیں آس پڑوس کے لوگوں میں سبزیاں دینے سے تعلقات مزید مستحکم ہوتے ہیں…… گھریلو باغبانی کے لئے جگہ کا انتخاب: باغبانی کا آآغاز چھوٹی سے چھوٹی جگہ سے آسانی کے ساتھ ہوسکتا ہے ۔ آپ کے پاس کیاری یا کچی زمین کا ٹکڑا نہیں ہے تو گملوں میں بھی آسانی کے ساتھ پودے اگائے جاسکتے ہیں ۔
آپ اپارٹمنٹس یا کسی چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں تو پھر بھی آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ فلیٹ چھوٹے بھی ہوتے ہیں ۔بعض اوقات وہاں جگہ کی کمی کے ساتھ دھوپ کی کمی کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔اس مسئلے کا حل انڈور گارڈننگ ہے۔ یعنی ایسی سبزیاں اگائی جائیں جن کو دھوپ کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔جیسے جڑوں والی سبزیاں اور پتوں والی سبزیاں اور جگہ کی کمی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ گھر کی دیواروں، بالکنی یاگیلریز کو استعمال کریں۔ وال ہینگنگ پوٹس استعمال کرسکتے ہیں۔ ورٹیکل گارڈن بھی بنا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے مارکیٹ میں پوٹس گملے مل جاتے ہیں ورنہ کسی پرانے ٹب یا بالٹی میں ایک سے زیادہ سبزیوں کے پودے اگائے جاسکتے ہیں۔
مٹی: باغبانی میں استعمال ہونے والی مٹی کوبالومٹی کہا جاتا ہے یہ وہی مٹی ہے جو کنسٹریکشن کے کاموں یعنی عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے۔ نامیاتی کھاد:گھر میں کمپوسٹ بنانا آسان ہے۔ اس کے علاوہ گائے کا گوبر بہترین فرٹیلائیزر ہے ۔ باغبانی میں استعمال ہونے والے برتنوں کا انتخاب: گھر میں سبزیاں لگاتے ہوئے یہ خیال رہے کہ وہی سبزی سب سے پہلے لگائیں جو آسانی سے لگا سکیں ۔پہلے دوچار سبزیوں سے ابتدأ کریں ۔کامیابی ہوجائے تو تعداد بڑھادیں ۔باغبانی کے دوران ہر قسم کی ساخت کے برتن استعمال ہوسکتے ہیں مارکیٹ میں مختلف پودوں کے لئے مختلف ساخت کے برتن دستیاب ہوتے ہیں ،جیسےپلاسٹک پوٹ ،کلے پوٹ ،کاپر پوٹ ،سریمک پوٹ ،ٹیرا کوٹا پوٹ ،دھاتی پوٹ ،لکڑی کے پوٹ ،فائبر گلاس پوٹ ،ہینگنگ باسکٹس وغیرہ سبزیاں اگانے کے لئے مٹی کے پوٹ اور لکڑی کے بکس بہترین ہیں ۔ گھر میں استعمال نہ ہونے والے بیکار برتن، آئل اور کولڈڈرنکس کی بوتلیں، پولیتھین بیگز، بیکار پرس اور بیگز، استعمال ہوسکتے ہیں۔ جو بھی سامان پودا اگانے کے لئے لیا جائے اس میں پانی کے نکاس کا انتظام ہو ورنہ پانی رکنے سے پودا خراب جائے گا۔ گھر میں ذرا ایک بار نظر دوڑائیں پودے لگانے کے لئے بہت سا سامان گھر میں سے ہی مل جائے گا جس کو اکثر فالتو سمجھ کر اسٹور یا کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ آپ اس بیکار سامان میں پودے لگا کر اس کی قدروقیمت میں چار چاند لگا سکتے ہیں۔
سبزی کی مناسبت سے گملے کا سائز: کچھ پودے اور ہربل پودے کم گہرائی زیادہ چوڑائی میں لگا ئے جاتے ہیں کیونکہ ان کی جڑیں گہرائی سے زیادہ چوڑائی میں پھیلتی ہیں جیسے پودینہ، پیاز لہسن وغیرہ۔ بعض پودوں کی جڑیں گہرائی میں پھیلتی ہیں ان کےلئے زیادہ گہرائی والے گملے کی ضرورت ہوتی ہے مثلاًبھنڈی، ٹماٹر، سویا، دھنیا، کھیرا، بینگن، گاجر، مولی، آلو، مرچیں، بھٹہ، سلاد پتہ، لوکی، کدو، کریلہ، گوبھی، میتھی، اروی، ہلدی، سرسوں، پالک، پھلیاں باسل، تلسی، وغیرہ ۔ یہ سبزیاں گہرے گملے میں آسانی سے اپنی نشوونما کرتی ہیں ان کے لئے بالترتیب 10 ،18،24 انچ کے گملے مناسب ہیں ۔پیاز، لہسن شلجم ،چقندر ادرک ،ہلدی ،اروی اور دوسری جڑوں والی سبزیاں اپنا سائز اور تعداد بڑھاتی ہیں ان کے لئے زیادہ سے زیادہ چوڑے اور گہرے گملے کی ضرورت ہوگی۔گھر کی ضرورت کے لحاظ سے سبزیاں: سبزیاں اگاتے ہوئے پہلے اس بات کاخیال کریں کہ کون کون سی سبزیاں گھر میں زیادہ استعمال ہوتی ہیں ، کونسی سبزیاں گھر کے افراد شوق سے کھاتے ہیں۔ پھر اس کے مطابق یہ فیصلہ کریں کہ کون سی سبزی کے کتنے پودے رکھنےہیں۔ مرچ، ٹماٹر، پودینہ، دھنیاں، تو ہر گھر میں وافر مقدار میں استعمال ہوتا ہے ان کے پودے زیادہ رکھے جائیں۔ باقی لہسن، پیاز کے لئے جگہ زیادہ ہے تو اچھی بات ہے لیکن گملے میں ان کی مقدار ایک گھر کی ضرورت تو پوری نہیں کرے گی لیکن پھر بھی گھر میں اگانے سے ان کے سبز پتوں کی ضرورت پوری ہوجائے گی ۔مرچ، ٹماٹر، سلادپتہ، کے تین سے چار پودے کافی ہیں پودینہ کو دو بڑے کنٹینر میں لگائیں۔ مارکیٹ سے خریدنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
کڑی پتہ کا ایک پودا کافی ہے۔ دھنیا بھی دس انچ کے گملے میں لگالیں ۔دو سے تین گملے کافی ہیں ۔ ادرک کو دس سے بارہ انچ گہرے گملے میں لگالیں ۔ اروی بھی دس سے بارہ انچ میں لگائی جاسکتی ہے۔ آپ اپنی فیملی کی ضرورت کے لحاظ سے پودے لگاسکتے ہیں ۔کم دھوپ میں لگائی جانے والی سبزیاں: سبزی کے پودے کو روزانہ کم ازکم چھ سے آٹھ گھنٹے کی دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دھوپ اگر صبح کی ہو تو بہت اچھا ہے۔ کچھ سبزیاں اور جڑوں والی سبزیاں کم دھوپ میں بھی لگائی جاسکتی ہیں ۔ادرک، ہلدی، اروی، چقندر، گوبھی، سیلیری، پودینہ، شلجم، سلاد پتہ، مولی، ہرے پتوں والی سبزیاں، وغیرہ کو اگر دو روزانہ دو گھنٹے کی دھوپ بھی مل جائے تو کافی ہے ۔ بعض اوقات بیج بونے کے بعد جرمینیشن نہیں ہوتی ۔اس مقصد کے لئے ھومیو پیتھک میڈیسن سلیشیا30 کے استعمال سے سلیشیا واٹر بناسکتے ہیں۔ اس کا رزلٹ بہت بہترین ہے۔ بیج بونے کے طریقے: بیج دوطریقے سے بوئے جاتے ہیں:ڈائیریکٹ بیج بونا،ان ڈائیریکٹ بیج بونا۔بڑا بیج ڈائیریکٹ زمین یا گملے میں لگادیا جاتا ہے جہاں اس کو پھل آنے تک اپنی نشوونما کرنا ہوتی ہے ۔گملے میں مٹی اور کمپوسٹ آدھی آدھی مقدار میں مکس کرکے بیج کو ایک سے ڈیڑھ انچ نیچے مٹی میں لگادیں اوپر سے مٹی اور کمپوسٹ سے ڈھانپ دیں پانی دے دیں ایک ہفتہ کے اندر پودے نکل آئیں گے ۔
بہت چھوٹے بیج کی عموما پنیری لگائی جاتی ہے گملے میں بیجوں کو بکھیر کر ڈالدیں پھر اوپر سے باریک کمپوسٹ سے ڈھانپ کر پانی دے دیں۔ ایک ہفتے کے اندد پودے نکل آئیں گے جب یہ پودے بیس سے پچیس دن کے ہو جائیں تو کسی بڑے گملے یا زمین میں شفٹ کردیں ۔یہ چھوٹے پودے ہی پنیری ہے ۔ پنیری لگانا: پنیری ایسے بیجوں کے پودے ہوتے ہیں جن کو ڈائیریکٹ اس جگہ نہیں لگاتے جہاں پر پودا بڑا کرنا ہوتا ہے۔ اس کو کسی چھوٹے گملے میں بیجوں کو بکھیر کر ڈال دیتے ہیں پھر ایک سے دوانچ کمپوسٹ سے ڈھانپ کر پانی دیتے ہیں۔ پودا نکلنے کے بعد جب بیس سے پچیس دن کا ہوجا ئے تو کسی بڑے گملے میں منتقل کرنا ہوتا ہے اگر اس کے بیجوں کو بہت چھوٹے کنٹینر میں ایک یا دو پودے ایک کنٹینر کے حساب سے بھی لگا سکتے ہیں پھر ان پودوں کو دوسری جگہ منتقل کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔پنیری ہر پودے کی نہیں بنتی جو بیج بہت چھوٹے ہوتے ہیں جیسے مرچ، ٹماٹر، بینگن، کی پنیری بنتی ہے اس کے علاوہ پیاز، سلاد پتہ کی پنیری بھی بنا سکتے ہیں ۔
پنیری کو منتقل کرنا: پنیری کودوسرے گملے میں منتقل کرنے کے لئے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ذرا سی بے احتیاطی سے اس کی جڑیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ سب سے پہلے پودوں کی تعداد کے لحاظ سے گملے تیار کرلیں پھر ان گملوں میں بالو مٹی اور گھر کی بنی ہوئی کمپوسٹ آدھی آدھی مقدار میں مکس کرکے ڈالدیں اب پنیری کے پودوں میں پانی دیں گے اس طرح پودا آسانی سے نکل آئے گا اور جڑیں متاثر نہیں ہونگی اب کسی کانٹے یا فورک کی مدد سے آہستگی سے پودا نکال کر دوسرے گملے میں لگادیں اس گملے میں پہلے ہی اس پودے کی جگہ بنا لیں ۔ اگر زمین میں لگانا ہو تو زمین میں لگا دیں اب اس کو پانی دینا ضروری ہے اس پودے کو دو تین دن سایہ میں رکھیں دھوپ میں مرجھا جائے گا ۔ پودے کا شاک میں آنا یا مرجھانا: بعض اوقات پنیری کو منتقل کرتے ہوئے یا گملے سے بڑا پودا کسی بھی دوسری جگہ منتقل کرتے ہوئے کچھ ضروری باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے اگر دھیان نہ رہے تو پودا مرجھا جاتا ہے اور کبھی کبھی بالکل ہی ختم ہوجاتا ہے اس مرجھانے کو پودے کا شاک میں آنا کہا جاتا ہے ۔ کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے: دھوپ میں پودا نہیں نکالیں صبح یا شام میں بہتر ہے نکالنے سے پہلے پنیری کو پانی دیں اور بڑے پودے کو ایک دن پہلے کافی پانی دیں نکالتے ہوئے مٹی خشک نہ ہو ورنہ جڑیں ٹوٹ جائیں گی ۔پنیری کو فورک نما کسی اوزار سے نکالیں جبکہ بڑے پودے کو الٹاکر اس کے پیندے کے سوراخ سے دباؤ دینے سے جڑوں سمیت نکل آئے گا ۔
لہسن اگانا: لہسن بہت زیادہ فوائد رکھتاہے۔ قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے ۔اس کو گھر میں اگانابہت آسان ہے۔اکتوبر نومبر میں اس کو لگانا زیادہ آسان ہے ،جب اس کی کلیوں یا جووں سے ہرے پتے بنتے نظر آئیں فریج میں کافی دن رکھنے سے بھی جڑیں اور پتے بننا شروع ہوجاتے ہیں۔ اپنی گھر کی ضرورت کے لحاظ سے جتنی مقدار اگانا ہے اتنا چوڑا اور اور تقریبا تین سے چار انچ گہرا گملہ لیں گے ۔گملے میں مٹی اور کمپوسٹ کی برابر مقدار مکس کرکے لہسن کا ایک ایک جوا تین انچ کے فاصلے سے لگادیں کیونکہ اس کا سائز آہستہ آہستہ بڑا هو گا

اپنا تبصرہ بھیجیں