جمعیت ایک فخر ایک سرمایہ




تحریر : عمرزبیر
ایک احساس ایک کرب
لوگ کہتے ہیں کہ جمعیت ایک تخریک کا نام ہے۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں!۔ مجھےتو اتنا پتا ہے کہ آج اگر جمعیت مجھے نہ ملی ھوتی تو میں بھی اس بگڑے ھوے معاشرے کا کوی شاہکار ھوتا۔ کسی گرلز کالج کے باہر تاڑتا ہوا بدنما داغ ہوتا۔ یا سینما گھر کا ایک طواف ہوتا۔ جمعیت تو دراصل اس اضطراب کا نام ہے جو سینوں میں ٹھاٹیں مارتے جذبات کو ایک سمت دیتا ہے۔ جو جوانی کے اس شتر بے لگام کو نکیل دیتا ہے۔ اس سسکتی ہوی انسانیت میں ایک امید کی کرن جس سے یہ دل و دماغ جب منور ہوتا ہے تو طاغوت کے تاروپید بکھیر دیتا ہے۔پھر معاشرے کی تاریکیوں سے جو روشن اور تابناک چہرے نموندار ہوتے ہیں وہ معاشرے کا جھومر بن جاتے ہیں۔کوئی کرنل شیر خان بن کر نشان حیدر پاتا ہے اور کوئی ملا فضل اللہ بن کر تحتہ دارپر چڑھ جاتا ہے، پر لبیک کی صدا تو ایک ہی رہتی ہے۔ مشن تو ایک ہی رہتا ہے۔ اسلام اور پاکستان سے محبت۔ کوئئ مانے یا مانے پر ہے تو یہ حقیقت، کسی فانی پر تو ثابت بھی تو نہیں کرنا کچھ ۔ ہاںعبداللہ بن ابی تو نبی ﷺ کے زمانے میں بھی تھا۔ مانا تو حضرت نوح کا بیٹا بھی نہیں تھا۔ اسی طرح وہ جمعیت جس نے ماں کی طرح پرورش کی ہے اپنے بچوں کی اس کی کوکھ نے حسین حقانی، مشاھد حسین، قمر زمان کائرہ اور مجاھد کامران کو بھی جنم دیا۔ ان کے کردار نہ سہی مگر ان کے اپنی جگہ نام کمانے سے کوی انکار نہیں کر سکتا۔جمعیت تواس نرسری کا نام ہے جس نے حسب نسب پوچھے بغیر صرف مشن کو ہی اول و آخر جان کر سب کی تربیت کی ہے۔ کہ جان پر تو انچ آ سکتی ہے مگر اسلام اور پاکستان کا نام نیچا نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے جمعیت کا ہر قدم ملک کے نوجوانوں کو ایک سمت دینے ، اپنی تنہایوں اور محافل کو پاکبازی کا درس سکھانے کے لیے تھا۔ آج بھی ایک ایسی اجتماعیت کی موجودگی جس کے ہاتھوں میں ماں باپ اپنے بچوں کا ھاتھ تھماتے ہوے باعث فخر سمھجیں ایک سرمایہ ہے۔ مجھے فخر ہے کہ اس تابناک تاریخ کا میں بھی ایک ادنٰی سا حصہ ہوں۔

2 تبصرے “جمعیت ایک فخر ایک سرمایہ

اپنا تبصرہ بھیجیں