حواریانِ مشرف کے نام




تحریر : فیض اللہ خان
لندن ،انٹاریو اور گجرات میں موجود کمانڈو کے حامیان درست کہتے ھیں ،بالکل درست کہ غداری کا مقدمہ تنہا مشرف پر نہیں ھونا چاھئے بلکہ اسکے سارے حامی چاھے انکا تعلق فوج سے ھو ،سویلینز ھوں ،مولوی ھوں ،گانے بجانے والے ھوں ،بھانڈ ھوں ،صنعت کار ھوں ،بیوروکریٹس ھوں یا کوئی اور ،ان سب پر ھونا چاھئے کیونکہ ھر کوئی کسی نہ کسی درجے میں شریک جرم ضرور تھا،اگر تاب رکھتے ھو تو سنو اس ظالم کے جرائم کیا تھے ۔
یہ وہ شخص تھا جس نے ایک ٹیلی فون کے بعد اپنے اعلی سول و عسکری حکام کی مشاورت سے اپنی بری بحری اور فضائی حدود طاغوت اعظم کی چوکھٹ پہ لا کے رکھ دی ، اسی نے قبائل و بلوچستان کو اس دوزخ میں دھکیلا کہ جس سے نکلنے کا راستہ سجھائی ھی نہیں دیتا ، اسی کے دور میں “بارہ مئی” کا خون آلود دن اھلیان کراچی کا مقدر بنا ، سننے کا حوصلہ رکھتے ھو تو سنو یہی و٥ وقت کا فرعون تھا جس نے کئی عفت ماب “آسیہ” کی بیٹیاں فروخت کر ڈالی جن میں عافیہ سر فہرست ھے ،یہی وہ بھیڑیا تھا جس نے عرب و عجم کے کتنے ھی ھیرے کوڑیوں کے مول بیچ ڈالے ، اور ھاں یہی وہ درندہ صفت تھا جس نے ملا ضعیف کو برھنہ حالت میں اپنے “رب” امریکا کو دیا ،ملا ضعیف آج بھی پاکستان آنے سے انکاری ھیں ۔
میرے دیس کے سادہ باسیو! یقین رکھو الطاف و قادری اور شجاعت بھی اس جرم میں برابر کے شریک تھے ،اپنے گمان کو سورج کیطرح روشن سمجھو کہ اس سارے اقدامات کی بے نظیر بھٹو کی حمایت و تائید بھی حاصل تھی ،اس ظالمانہ احکامات کو سیکیولر لابی اور انکے زیراثرلوگوں و اداروں کی بھی مدد تھی ، کچھ درباری ملا بھی مشرف کو “شرعی جواز” فراھم کیا کرتے تھے ، درست فرمایا جناب “مشرف تنہا مجرم نہ تھا ” اور ھاں بات بات پہ بیان جاری کرنے والا آئی ایس پی آر ،مشرف کے بیان پہ یوں خاموش ھے ،جیسا شریک جرم پرانا دوست، ویسے یہ عدالتی نظام مشرف کو سزا دینے کا اختیار ھی نہیں رکھتا ۔
جامعہ حفصہ کی آبگینوں جیسی نازک بہیں اس نمردو کی بھڑکائی آگ میں یوں جھلسیں کہ اصحاب الاخدود کی یاد تاز٥ ھو گئی ، جب شریعت کے نفاذ کی صدا لگانے والی معصوم طالبات “کمانڈو” کی بہادری کا نشانہ بنیں اور پھر ارض پاک پر وہ لہو رنگ داستان رقم ھوئی کہ جسکی یاد آج بھی اھل درد کو کرب میں مبتلا کر دیتی ھے اور پھر اس لال مسجد کے بعد ملک میں خود کش حملوں کا وہ سلسلہ شروع ھوا جسے سارے فوج و ادارے ملکر بھی نہ روک سکے .
ھاں یہی و٥ عبدالطاغوت تھا جس نے پاکستان کی فوج کے اڈے ،معلومات اور افرادی قوت اپنے آقا امریکہ کے سپرد کردیں اور جس جس فوجی افسر نے ان غیر شرعی احکامات کی حیثیت کو چیلنج کیا وہ یا تو “پراسرار” انداز میں مارے گئے یا فوجی عدالتون سے سزاوں کے حقدار ٹھہرے ، جی ھاں یہی وہ اسلام کا باغی تھا جس نے روشن خیالی کے نام پر اس ریاست کی چولیں ھلا ڈالیں اور ملک کو بحرانوں میں مبتلا کردیا
یہی مشرف تھا جس نے دین پرویز ایجاد کیا ،اسی نے افتخار چوھدری بھی نہ بخشا یہی تھا و ہ”بہادر” جس نے اپنا وطن فتح کیا اور آج بستر پہ بیمار رھنے کا ڈرامہ کر کے اب باھر بھاگنے کی تیاری میں ھے ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں