TOXIC SHAME – سیدہ فاطمہ زہرہ




شرم کی اقسام:
شرم کی کئی اقسام ہیں۔ اچھی والی شرم ہے حیا (شرمیلی طبیعت بھی اسی زمرے میں آجاتا ہے) پھر ایک شرم ہے جو غلطی پہ ندامت پہ آتی ہے یہ بھی بہت اچھی ہے۔ عاجزی والی بھی ایک شرم ہوتی ہے وہ بھی بہت اچھی ہے جو کوئ تعریف کرے تو آجاتی ہے اور احساسِ تشکر سے نگاہیں جُھک جاتی ہیں . مگر ایک لفظ ہے انگریزی کا SHME . اگر مذید سپیسیفک ہوا جاۓ تو یہ ہےTOXIC SHAME …….. اس کا اردو ترجمہ نہیں مل سکا۔ اس سے مراد وہ والی شرم ہے جو تب آتی ہے جب احساسِ کمتری ہو۔ یعنی ‘کانفیڈینس’ کی کمی۔

کانفیڈینس کا دھوکہ:
اب کانفیڈینس سے ہم سمجھتے ہیں ‘خود اعتمادی’ مگر تھوڑی سے غلطی کرتے ہیں کہ سمجھتے ہیں کہ جو سٹیج پہ جا کے بول لیتا ہے، لوگوں کے سامنے بات کر لیتا ہے، اپنا کام سب کے ساتھ شیئر کر لیتا ہے وہ ہے خود اعتمادی۔ مگر یہ ضروری نہیں۔ خود اعتمادی سے مراد ہے اپنی ذات کے ساتھ کمفرٹیبل ہونا۔ ‘یعنی جو میں ہوں جیسی/جیسا بھی ہوں، اس کے ساتھ مطمئن ہوں’ ……… بہت سے پبلک سپیکر خود اعتمادی / کانفیڈینس کے بغیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اوپر بس جگاڑ لگا کہ ڈسٹمپر کیا ہوتا ہے۔ اصل میں وہ بھی ‏TOXIC SHAME محسوس کرتے ہیں۔ ہوتی کیوں ہے؟ اب ہمیں shame محسوس تو ہوتی ہے مگر بہت بار ہم اس کا کنیکشن نہیں جوڑ پاتے کہ ایسا محسوس کب ہونا شروع ہوا اور اب ہے تو کیوں ہے۔ اب اگر صرف یہ تاریں مل جایئں . تو بہت کام تو ادھر ہی ہو گیا۔ مگر ہمارے ہاں ‘قدم بڑھاو’ اور ‘یقین محکم’ جیسے دروس تو ہیں مگر ‘احساسات پہ نہ بات کی جاتی ہے نہ انہیں محسوس کیا جاتا ہے’ بس ہر جگہ ‘ہمیں یہ کربا چاہیے وہ کرنا چاہیے کی باتیں ہیں۔ خیراس TOXIC SHAME نامی احساس کی چند وجوہات مندرجہ ذ ہیں:

1.کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچپن میں مسلسل برا بھلا کہا گیا ہو، کبھی گریڈز پہ مارا ہو کبھی کسی اور بات پہ، ننھے پودے کو جب بھینچا گیا ہو زور سے۔۔۔ محبت اور رشتوں میں پلا بڑھا نہ ہو، تو بچہ وہ سب internalise کر لیتا ہے۔ وہ بے شک دنیاوی لحاظ سے کامیاب ہو بھی جاۓ مگر اس کو سمجھ نہیں آۓ گی کہ وہ ہر وقت shame کیوں محسوس کرتا ہے اس کو یاد بھی نہیں آۓ گا اپنا بچپن کیونکہ ہم لوگ سمجھتے ہیں ‘رات گئ بات گئ’

2.کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اسکول/کالج میں bully ہوا ہو۔ وہ ذات پات پہ ہو سکتا ہے۔ سوشل کلاس پہ ہو سکتا ہے۔ ہم سب اپنے امیر غریب ہونے سے اپنے اپنے انداز میں ‘محسوس’ کرنا سیکھتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ایک جذباتی طور پہ زخمی انسان، اپنے سوشل سٹیٹس پہ shame محسوس کرتا رہے۔ اب غلام عباس کا افسانہ اوور کوٹ یاد کر لیں)

3.ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ فیملی کی طرف سے ایسی توقعات سیٹ کر دی گئ ہوں (جیسے تھری ایڈیٹس مووی) اور انسان وہ پورا نہ کر پاۓ۔ اب ہم چھوٹے نہیں ہم سب جانتے ہیں تعلیمی نظام تباہ ہے خاندانی نظام تباہ ہے، ہیلتھ سیکٹر میں ہیلتھ کوئ نہیں، ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے تو ایسے میں معاشرہ اور فیملی کتنی غلط توقعات لگاتے ہیں ہم سے۔ کبھی کہیں گے میڈیکل نہیں کیا تو رشتہ نہیں ہو گا کبھی کہتے ہیں اتنی کمائ کرو اب یہ سب جب نہیں ہو پاتا (سراسر ظلم ہے ایسے مطالبات) یہ سب نہیں ہو پاتا تو ہم خاموش ہو کے یا ڈھیٹ بن کے کہ تو دیتے ہیں کہ ‘ایجوکیشن سسٹم ‘ خراب ہے وغیرہ ، مگر اس سب سے ہم زخمی ہو رہے ہوتے ہیں۔ اپنی کاہلی اور نا اہلی پہ شرمندگی ہوتی ہے۔ یہ بھی بڑھتی جاۓ تو toxic shame

4. پھر ہم بڑے ہوتے ہیں تو خوبصورتی کے معیارات کا جب پتہ لگتا ہے اور ہم شیشہ دیکھتے ہیں تو ماند پڑ جاتے ہیں۔ خوامخواہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے حُسن کے سٹینڈرڈز پہ پورا نہ اترنے پہ کبھی دوست bully کرتے ہیں، کبھی رِشتے نہیں آتے اور کبھی رشتہ نہیں ہوتا کہتے ہیں کہ ‘لڑکے کی ہایئٹ نہیں ہے جی اتنی’ اس کا بھی اثرات یوں ہو سکتے ہیں کہ ہم مثال بن جایئں toxic shame . اس کے بعد ہوتا کیا ہے۔ اگر یہ مسلۂ آگیا ہے تو اپنی ذات کو ہم جیسے ہیں ویسے دِکھنے کی بجاۓ جیسے لوگ دیکھتے ہیں ویسے دیکھنے لگتے ہیں۔

-جب امی نے کہا تمہیں میتھ نہیں آتا تم ناکام ہو گے
-جب کم نمبر کے کہ رشتہ داروں میں ناک کٹوا دی
-جب سب دوستوں کی سیٹنگ ہو گئ اور میں تین میں نہ تیرا میں
-جب آنٹی نے موٹا کہ کے رشتے سے انکار کیا
-جب سب دوستوں کے پاس مہنگے موبائل اور گاڑیاں او میرے پاس نہیں وغیرہ

اب ہو گا کیا :
زخمی انسان کو کوئی بولے گا ‘بات سُننا’ …….. ‘اسے لگے گا کہ رہا ہے کہ تم برے ہو’ …… اسے کوئی کہے پتہ ہے تم بہت پیاری ہو

پھر اسے بولیں کہ ‘آپ بہت اچھے ہیں بس آپ میں اس چیز کی اصلاح کی ضرورت ہے’ وہ بولے گا، ‘میں جانتا ہوں میں بہت برا ہوں، ( یعنی اسے وہ سُنتا ہی نہیں جو اگلا بندہ بول رہا ہے اس کو اپنے اندر سے عجیب آوازیں آتی ہیں) بہت بار TOXIC SHAME سے انسان نرگسیت کا شکار ہوجاتا ہے یعنی ‘میں میں’ کرنے لگتا ہے یعنی narcissism . اس طرح کے لوگوں سے بات کرنا بہت مُشکل ہے۔ سوال گندم ہو گا جواب چَنا۔ انہیں وہ سُنتا ہی نہیں جو اگلا کہ رہا ہے یہ وہ سُنتے ہیں جو اندر سے آواز آرہی ہوتی ہے . سب سے دکھ کی بات ہے کہ یہ Toxic shame نسلوں میں منتقل ہوتی ہے ۔ ان عرب کی بیٹیوں کا خیال آتا ہے جن کی پیدائش پہ اُن کے والدین کی shame کا قرآن میں ذکر ہے ۔ صرف اسلام ہی اس پہ مرہم رکھ سکتا ہے۔

مجھے اس پہ اپنی ایک میڈ بہت یاد آتی ہے ۔ اٹھارہ سال کی تھی اور سُن نہیں سکتی تھی ۔ ایسا کانفیڈینس تھا کہ رشک آتا ۔ ایک دن دوسری کام والی آنٹی سے ‘اشاروں کی زبان میں’ کہتی ، میرا رشتہ کریں اپنے بیٹے سے ! (بیٹے کے فرشتوں کو خبر نہیں اس محبت کی) اس کو دیکھ کہ یاد آتا کہ شاید اس نے کبھی اپنے اردگرد انسانوں کو بولتے نہیں سُنا شاید اس لیے ایسا کانفیڈینس ہے اس کا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں