کیا ہر نفسیاتی و جذباتی مسئلے کی وجہ ماحول اور والدین ہیں؟ – جویریہ سعید




کیا ہر نفسیاتی و جذباتی مسئلے کی وجہ ماحول اور والدین ہیں؟کچھ اور بچیوں سے ملاقات ہوئی۔ عمریں گیارہ سے پندرہ برس کے درمیان۔ خودکشی کے ارادوں اور کوشش اور مچلتے ہوئے اندرونی غصے کے ساتھ آئی تھیں۔والدین نے خیال اور پیار سے پالا، تعلیم اور دوسری ضروریات کا خیال رکھا، گھر یا اسکول میں غیر معمولی جسمانی ، جذباتی اذیت رسانی یا جنسی تشدد کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

والدین پریشان اور بے بس تھے۔ ایک بچی کی والدہ کو کچھ عرصہ قبل کینسر تشخیص ہوا، باپ بے بسی سے رو پڑا کہ میں نے اس کو سب دینے کی کوشش کی ہے لیکن کچھ اصول تو خود اس کی حفاظت اور بھلائی کے لیے بھی ضروری ہیں۔ وہ بھی میں اس کے ساتھ ڈسکشن کے بعد طے کرنا چاہتا ہوں۔ نہ کروں تو اس کا نقصان ہوگا۔ مگر بچی ہتھے سے اکھڑ رہی تھی کہ یہ کون ہوتا ہے میرا فون اور لیپ ٹاپ چیک کرنے والا۔ یا اس کو ماروں گی یا خود کو۔ ایک جنوبی ایشیائی تھی برطانیہ میں پلی بڑھی ، دوسری سفید فام ۔۔ دونوں کو اپنی بد صورتی کا یقین احساس کمتری میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔ایک انٹرنیٹ پر اجنبیوں سے بے تکلفانہ اور بےباک تعلق بنانا چاہتی تھی۔۔ دوسری کو اپنے خالی پن کا سبب سمجھ نہ آتا تھا۔ اپنی کم صورتی کے احساس کے تلے لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ چکی تھی۔

تیسری پری ٹین بچی سے سندھ کے پسماندہ علاقے میں ملاقات ہوئی تھی۔ بالکل خاموش غصے میں بھری۔ ماں رو کر کہتی تھی کہ یہ خود کو بدصورت سمجھتی ہے۔۔ رنگ گورا کرنا چاہتی ہے۔ میں سمجھاتی ہوں، نہیں سمجھتی۔ میں نے اسے بہت یقین دلانا چاہا کہ اس کا ناک نقشہ بے حد حسین ہے اور اس میں اور کیا خوبیاں ہیں۔ مگر میرا پڑاؤ عارضی تھا۔۔ اس ایک ملاقات کے علاؤہ کچھ نہ کرسکتی تھی۔ دل میں خلش سی لیے چلے آئے۔یہ سب آپ سے بیان کرنے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ تربیت اور نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل کے حوالے سے عموما ایک سی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ نوجوان کی ہر غلط کاری کے پیچھے ضرور والدین کی زیادتی یا کوتاہی ہوگی۔ اخلاقی تربیت اور اصولوں کی پاسداری کے پیچھے یقینا جبر اور گھٹن کا ماحول ہوگا۔

گویا کہ اپنی جذباتی ناہمواری اور کمزوریوں کے سامنے نوجوان بےبس ہوتے ہیں۔ سب سراسر ظلم کا شکار ہیں کیونکہ سب کچھ خارج کا کیا دھرا ہے۔۔۔ اس لیے معاملات کی درستی کی ایک ہی صورت ہے۔۔۔۔کسی اچھے “کاؤنسلر” سے جادوئی ملاقاتیں۔۔۔ ایسے کاونسلر جو سب سے پہلے یہ جتائے کہ تمہارے مسائل میں “بیرونی ہاتھ ” کا سب سے زیادہ دخل ہے اور والدین وہ بے رحم اور بے حس مخلوق ہیں جو خود اپنی جبلی خواہشات کی تسکین کی خاطر تمہیں پیدا کرتے گئے مگر تمہارے جذباتی و نفسیاتی وجود کا کوئی خیال نہ کیا۔غور کیجیے تو یہ عین وہی خیال ہے جو ملحدوں اور خدا بیزاروں کا خدا کے بارے میں ہے۔

ملحدوں کی بنائی خدا کی تصویر دیکھیے ۔۔۔ ظالم ، بے حس اور صرف اپنی خواہش تکمیل کے جنون میں مبتلا انسان کو کٹھ پتلیوں کی طرح استعمال کرکے اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے والا۔نتیجے میں ہم کیا کریں؟بغاوت۔۔ پتلون کے گھٹنے پھاڑ لیں، سگرٹ پھونکیں، یا پھونکنے کی خواہش کریں، اپنوں سے زہر خند لہجوں میں بات کریں دوسروں پر شک کریں اور ایسے جنونی تعلق کے لیے سہارے تلاش کریں جو ہماری خرابیوں پر نہ ٹوکے اور ہماری پیٹھ ٹھونکتا رہے۔ خود بھی علم بغاوت بلند رکھنے کی وجہ سے cool نظر آتا ہو۔ یا کوئی ایسا کمزور اور شریف انسان جو ہمارے خرابیوں کو چپ چاپ سہتا رہے۔ سمجھانے یا اصلاح کی کوشش نہ کرے۔ یہ سب دیکھ کر بتانا یہ تھا۔۔ دنیا بہت بڑی ہے۔۔۔ ہر معاملہ ایک سا نہیں ہوتا۔ اور سایکولوجسٹ اور کاؤنسلر کا کام جذباتی گفتگو کرنا نہیں ہوتا۔

اور یہ کہ ہر ماں اور باپ اتنا ذہین ، پر اعتماد ، قادرالکلام، اور دنیا شناس نہیں ہوتا ہے کہ اپنی اولاد کے نت نئے سوالات اور مسائل کے خوبصورت اور شاندار جوابات دے سکے۔ ہر وقت حاضر باش ، مستعد اور ہر طرح کی معلومات سے آگاہ رہے۔بے چارے والدین بھی انسان ہیں جن کی اپنی کمزوریاں اور دکھ ہوں گے۔ اصل میں تو اپنی اصلاح کے لیے خود شناسی اور ذمہ داری قبول کرنا اور خود کوشش کرنا بہت ضروری ہے۔ اور یہ کہ خود شناسی سے مراد دردناک اشعار اور جذباتی اقوال میں اپنا آپ ڈھونڈنا نہیں، نہ ہی سطحی سائکلوجیکل ٹیسٹس اور کھیلوں کے ذریعے اپنی شخصیت کے محاسن ڈھونڈنا ہے۔ اس کا مطلب ہے اپنا محاسبہ اور تجزیہ۔

بے شک ہمارے حالات کا ہماری شخصیت کی صورت گری میں بہت ہاتھ ہے، مگر ہمارا اپنا کردار اور اختیاری کوششیں بہت اہم ہیں۔ اچھا ٹیمپرامنٹ ہو تو سخت ترین حالات میں بھی بہترین انسان بنتا ہے۔ نہ ہو تو آسانیوں میں بھی شخصیت برباد ہوکر رہ جاتی ہے۔ اور ٹیمپرانٹ انسان کا اپنا آپ ہے۔ اس کا اپنا داخلی وجود ۔ کہ وہ مشکلات اور آسائشوں کا کس طرح سامنا کرتا ہے۔ بات تلخ ہے مگر ایک “مددگار” کا کام ایمانداری ہے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے۔ کہ ایماندارانہ اوپن کمیونیکشن انتہائی ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں