Home » جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب سؤم – قسط نمبر32
Uncategorized

جامِ بے طلب از شفا ہما (ناول) – باب سؤم – قسط نمبر32

قسط نمبر ۳۲

اجیہ راہداری سے گزر کر لاؤنج میں داخل ہوئی تو نازیہ ملازمہ کے ہمراہ ڈائننگ روم سے باہر نکل رہی تھی اس کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ رینگ گئی۔

”آپی….؟“وہ اس طرف بڑھتی ہوئی بولی۔نازیہ نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر مسکرا کر ملازمہ کی طرف مڑی اور رات کے کھانے کے بارے میں ہدایات دینے لگی ملازمہ واپس ڈائننگ روم میں چلی گئی تو وہ اجیہ کی طرف متوجہ ہوئی جو اب اسکے قریب آچکی تھی۔”کیا حال ہیں…..؟“نازیہ نے مسکراتے ہوئے پوچھااس نے سفید لمبی قیمص پہنی ہوئی تھی نیلا دوپٹہ چہرے کے گرد نماز والے انداز میں لپٹا ہوا تھا۔
”بہت اچھے حال ہیں…..“اجیہ مسکرائی”آپ کا سر درد ٹھیک ہے؟“
”نہیں….بڑھتا ہی جا رہا ہے….“لمحہ بھر کے لیے نازیہ کے لبوں پر اداس مسکراہٹ لہرائی تھی۔

”اوہ…..“وہ بھی اداس ہوئی۔
”ابو سے ملی….؟“نازیہ نے بات بدلنا چاہی۔
”ہاں جی ملی….“اس نے شرارتی لہجے میں جواب دیا۔
”کیا کہہ رہے تھے….؟“
“بہت خاص بات کہہ رہے تھے…..کل تک آپ کو بھی پتہ چل جائے گی….!“معنی خیز لہجے میں کہہ کر اسنے نازیہ کے چہرے پر تجسس کھوجنا چاہا۔
”اچھا اجیہ….وہ کل ہاسپٹل….؟“

”صبح گیارہ بجے ریڈی رہیے گا….!“اجیہ کو مایوسی ہوئی۔
”لیکن…..“نازیہ کُچھ کہنا چاہتی تھی۔
”لیکن ویکن کُچھ نہیں آپی….آپ کل میرے ساتھ ہاسپٹل چلیں گیں….میرے ساتھ….میں نہیں بتاؤں گی ابو کو….آپ اپنی حالت دیکھیں ذرا….سر کا درد ایکسٹریم پر پہنچ چکا ہے اور آپ پین کلرز پر گزارہ کر رہی ہیں….اتنی کیئر لیس کیوں ہیں آپ…..آنکھوں کے نیچے حلقے کتنے گہرے ہوتے جا رہے ہیں….پتہ نہیں یہ میگرین ہے یا کیا ہے….بہر حال آپ کو کل میرے ساتھ ہاسپٹل لازمی چلنا ہے…بس…..!“وہ حقیقت میں نازیہ کے لیے فکر مند ہو رہی تھی۔ نازیہ بے اختیار مسکرا دی۔”اوکے جیا…ٹھیک ہے….“
”شاباش….یہ ہوئی نا بات….“وہ ہنس دی۔

”آپی کھانا میرے کمرے میں بھجوا دیجئے گا۔میں اب نیچے نہیں آؤنگی“
”ہوں ٹھیک ہے“اس نے سر ہلا دیا۔
”اوکے گُڈ نائٹ….“وہ راہداری کی طرف پلٹ گئی نازیہ بھی زیر لب مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
اجیہ نے کمرے میں پہنچ کر حسب عادت دروازہ دھاڑ سے بند کیااور دوپٹہ کرسی پر اُچھال دیا۔موبائل بیڈ پر پھینکا اورآئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اسکارف اتارنے لگی پھرپلٹ کر اسکارف کو الماری میں ہینگ کیا اور واپس آئینے کے سامنے کھڑ ی ہو گئی چہرے پر با ل پھر سے پھسل رہے تھے۔

”کیونکہ ہر باپ اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتا ہے….“شاہد انصاری کا جملہ اسکے ذہن میں گونجا۔
مسکراتے ہوئے وہ بیڈپر آکر دراز ہو گئی۔ہاتھ بڑھا کر موبائل اُٹھایااور ان باکس کھول کر میسجز پڑھنے لگی۔
”انشاء اللہ اب نائلہ اور میں فریلی ایک دوسرے کو میسجز اور کال کر سکیں گے….“اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لیے پھر سے تشکر جمع ہونے لگا۔وہ لیٹے لیٹے زیر لب سورۃ رحمٰن کی تلاوت کرنے لگی۔آہستگی سے…خوبصورتی سے….عقیدت سے….وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ چند لمحوں بعد وہ اُٹھ کر دوپٹہ سر پر اوڑھنے کے بعد کرسی پر بیٹھ گی تھی اور آہستہ آہستہ اسکی آواز بلند ہونے لگی کھڑکی پر گرے پردوں کے پیچھے پرندے بھی چہچہا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگے۔بلند ہوتی اسکی آوازشیریں ہوتی جا رہی تھی کہ…..ہاتھ میں موجود اسکا موبائل گونجنے لگا۔

وہ یکلخت چُپ ہو گئی فضا میں بکھرتا نغمہ غائب ہو گیاموبائل کی آواز سے پیدا ہوتی مداخلت نے سحر توڑ دیا تھا کھڑکی کے دوسری طرف پرندے اب بھی چہچہا رہے تھے…..اسنے کوفت سے اسکرین پر نظریں دوڑائیں غیر شناسا نمبر تھا….”یہ کوئی وقت ہے فون کرنے کا….“
بڑبڑا کر اسنے وال کلاک کو دیکھا ٹھیک نو بج رہے تھے یکا یک اسکا دماغ بھک سے اُڑ گیا…!وہی رانگ نمبر….ایک لمحے کو اسکا دل چاہا کہ موبائل کو دیوار پر دے مارے تا کہ بس کسی طرح کم از کم اس نمبر سے جان چھوٹ جائے…

”ذرا سی دیر بھی میں کسی خوشی کو جی نہیں سکتی….ابھی کتنا خوش ہو رہی تھی میں….اور اب یہ…..اُف….!“کتنی دیر سے یہ رانگ نمبر اسکے ذہن سے نکلا ہوا تھا اور اب یہ کال آج پھر آ رہی تھی ا س کے دماغ میں صبح یونیورسٹی میں قاسم کی بتائی ہوئی ساری باتیں تازہ دم ہو گئیں….پریشانی سے اسنے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔اس زندگی میں پریشانیاں..آزمائیشیں اور دکھ ہمیشہ زیادہ ہی کیوں ہوتے ہیں….
موبائل بج رہا تھا۔اسکا دل پتہ نہیں کیوں دھڑکنے لگا۔شاید اس لیے کہ وہ اپنا نمبر خود سے اجنبی انسان کو دے آئی تھی۔موبائل بند ہو کر پھر بجنے لگاتھا۔

”اب جب تک ریسیو نہیں کروں گی یہ بجتا ہی رہے گا…“اسکرین کے سبز حصے کو چھوتے ہوئے اسکے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔
کمرے کی فضا اب بھی مترنم تھی گویا سورۃ رحمٰن کی بازگشت دیواروں سے ٹکرا رہی ہو….کال ریسیو کر کے جب اسنے موبائل کان سے لگایاتب دل میں سینکڑوں وسوسے ناگ کی طرح پھن پھیلائے ناچ رہے تھے۔ ایک سیکنڈ…..دو…تین…چار….پانچ…حسب معمول کال کرنے والا دیوانہ خاموش تھا۔پتہ نہیں کیوں آج تلملانے کے بجائے اسکے دل کو قرار سا محسوس ہوا تھا۔روز کی طرح خاموشی سے”خاموشی“ سننے کے بعد وہ روٹین کی طرح لائن کاٹنے لگی لیکن اسی وقت جب اسکا ہاتھ اسکرین کی طرف بڑھ رہا تھا….اسی وقت….موبائل سے ابھرتی آوازنے اسکا پورا وجود ساکت کر دیا تھا…!بے حد کھردری آواز جو کانوں میں چبھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔”السلام و علیکم مس اجیہ…..“اس کے سر سے دوپٹہ سرک کر زمین سے چھو رہا تھا۔

”بھئی ہم معذرت چاہتے ہیں کہ آپ کو ہماری آواز سننے کے لیے اتنا انتظار کرنا پڑاہم جانتے ہیں آپ ہماری آواز سننے کے لیے بے چین ہونگی اور یہ جاننے کے لیے بھی کہ ہم کون
ہیں….!“وہ شخص انتہائی مضحکہ خیز اندازمیں بات کر رہا تھا۔
”اب ا س میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے اب ہم کیا کرتے آپکی دوست کے کزن نے ہی اتنی دیر لگا دی ورنہ ہم آپکو کبھی ا تنی زحمت نہ دیتے۔ہم نے تو اپنے دوست اور آپ کی دوست کے کزن سے بہت پہلے آپکا نمبر مانگا تھا لیکن وہ بے چارے ہیں ہی اتنے ڈرپوک شرما رہے تھے نمبر لیتے ہوئے….ہاہاہاہاہا….“

اجیہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اسے لگا اسکا دماغ کہیں ڈوب رہا ہے پیشانی اور ہاتھ پسینے سے تر ہو چکے تھے اور موبائل بار بار پھسل رہا تھا….وہ اس شخص کی باتیں اور کھردری آواز کو خود سے دور کر دینا چاہتی تھی وہ لائن کاٹنا چاہتی تھی لیکن سُرخ حصے کو چھونے کے طاقت اسمیں نہیں تھی….شاہد انصاری کے کمرے سے واپس آتے ہوئے اسکا ذہن پُر سکون سمندر کی مانندہموار تھا۔ست رنگے بلبلے اسکے آس پاس اُڑ رہے تھے آنکھوں میں جگنو چمک رہے تھے وہ بہت خوش تھی اور اس خوشی کو جینا چاہتی تھی لیکن اب پر سکون سمندر میں طوفان آچکا تھا ایسا خطرناک طوفان کہ… جس سے بنی نوع انسان ہمیشہ پناہ مانگتے چلے آئے ہیں….اسکا ذہن ایسی آندھی میں گھر چکا تھا جس کی شدت سے اسکا وجود کانپ رہا تھا۔اس کھردری آواز کا ہر لفظ کانوں کے راستے ذہن میں سرکش لہر کی طرح داخل ہو رہا تھاایسی لہر جو طوفان کی شدت میں اضافہ کر دیتی ہے….

”ارے اجیہ آپ کُچھ بول کیوں نہیں رہیں دیکھیں نا آج اتنی محنتوں سے اہتمام کر کے آپ سے باتیں کرنے کے لیے بیٹھے ہیں“
اسکی سماعتوں میں جھماکے ہو رہے تھے گویا لا شعور میں کہیں فائر ورکس کا شور ہو رہا تھا….
”آپکو تنگ کرنے کے بارے میں تو ہم آپ سے معذرت کر چکے ہیں اور رہا سوال یہ کہ ہم کون ہیں تو آپ خود ہی سمجھ گئیں ہو ں گی کہ ہم کون ہیں۔چلیں ہم خود ہی اپنا نام بتا دیتے ہیں بھئی ہمارا نام ہے ناصر اشفاق…..“
بے اختیار اسے لگا کہ وہ گہرے کنویں میں گرتی جا رہی ہے۔
”اب تو آپکو یاد آگیا ہو گا کہ ہم کون ہیں…بس ہم آپکا ذیادہ وقت نہیں لیں گے بس ایک التجا ہے کہ ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں پلیز…..“
اسکو اپنے وجو د میں بجلی کی لہریں بھاگتی ہوئی محسوس ہوئیں تھیں۔
”پلیز آپ آجایئے گا پرسوں شام پانچ بجے نیواسٹارمال کے فرسٹ فلور پر…بائے…“کھردری آواز آنا بند ہو گئی اسکی سماعتوں میں اب خاموشی داخل ہو رہی تھی۔

سورۃرحمن کی مترنم گونج اور کھڑکی کی دوسری طرف پرندوں کی چہچہاہٹ کہیں غائب ہو گئی تھی۔اسے لگا کہ پرندے اسکے حال پر افسوس کر رہے ہیں ساکت ہوئے اسکے وجو د میں جان نہیں تھی دوپٹہ قدموں میں پڑا تھاکان سے لگا موبائل پھسل رہا تھا بال ماتھے پر گر رہے تھے بہت دور فضاؤں میں عشاء کی اذان گونج رہی تھی۔پتھرائی ہوئی آنکھوں اور سن ہوئے دماغ کے ساتھ اسکا سر گھوم رہا تھا آس پاس کی ہر چیز میں ارتعا ش آیا ہوا تھا۔
”ہم آپکا انتظار کریں گے…“اسے لگا کہ وہ گہرے کنویں میں گرتی جا رہی ہے اندھیراا ور تنہائی…کمرے میں اکیلے بیٹھے ہوئے بے اختیار اسے اپنے آپ سے ڈر لگا تھا…ہاتھ میں پکڑے موبائل کو وہ بہت دور پھینک دینا چاہتی تھی کسی ایسی جگہ جہاں وہ اس آواز کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے….

کمرے کی فضا میں تھوڑی دیر پہلے اجیہ کے پر مسرت چہرے پر خوشیوں کے رنگوں سے جو تازگی اور ترنم پھیلا ہوا تھا اب وہاں پتھر کا بت بنی اس بے بس لڑکی کی آنکھوں میں بے یقینی اور اضطرابیت کی آخری انتہا پر پہنچ جانے والے احساسات کا دکھ بکھرا ہوا تھا…
اس یاسیت بھری فضا والے کمرے کی ایک دیوار پر وقت گزرنے کا پتہ دینے والی گھڑی کی سوئیاں اپنی مخصوص رفتار کے ساتھ سفر کر رہی تھیں….اسی مخصوص رفتار کے ساتھ ان سوئیوں نے صدیوں کا سفر طے کیا تھا… لاکھوں انسانوں کے خوابوں کو بکھرتے دیکھا تھااور آج وہ اجیہ کی آنکھوں میں بھی وہی اضطراب دیکھ رہی تھیں جو وہ بہت بار ان انسانوں کی آنکھوں میں دیکھ چکی تھیں جو اپنے آئینے کی طرح نازک خوابوں کو خود اپنے ہاتھوں سے ہی توڑ دیتے ہیں اور انہیں جوڑنے اور سمیٹنے کی کوشش میں ان کی رگوں میں زندگی بن کر دوڑنے والا خون تکلیف کی آخری حد تک پہنچ کر ان کے جسم کو چھلنی کر دیتا ہے….

وقت ہمیشہ کی طرح اجیہ کی بے بسی اور اضطرابیت کو محسوس کرتا چپکے چپکے گزر رہا تھا اورسیکنڈوں کی رفتار سے سفر کرتا زندگی کو ایک گھنٹہ آگے لے جا چکا تھا۔کرسی پر ساکت بیٹھی اجیہ کے ماتھے پر پسینے کے بے تحاشا قطرے نمودار ہو چکے تھے اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں اب آنسو جمع ہو رہے تھے جو شاید اس خوشی کا خراج تھے جو اس نے ابھی تک صحیح طرح محسوس بھی نہیں کی تھی….سینے میں دل کی بپھری ہوئی دھڑکنیں معمول پر آرہی تھیں اور وہ اب لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی۔دماغ کی سلب ہوتی قوتیں واپس آئیں تو اس نے گہری سانس لے کر اُٹھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ایک لمحے کو وہ ٹھٹھکی پھر سنبھل کر دوپٹہ اُٹھایا۔شانوں پر پھیلا کر آنکھوں میں جمع ہوئے پانی کو پلکیں جھپک کر منتشر کیا۔دھندلے ہوئے منظر کو واضح کیا۔ماتھے پر آئے بالوں کو نیم جان ہاتھوں سے پیچھے کر کے وہ دروازے کی طرف بڑھی تو بہت واضح طور پر اسکا جسم کانپ رہا تھا.

اے سی کی ٹھنڈک اسے بوجھ محسوس ہو رہی تھی۔دروازے کے ہینڈل کی طرف ہاتھ بڑھانے سے پہلے اس نے اپنا کانپتا وجود سنبھالنا چاہا…دروازہ کھولا تو سامنے فاخرہ ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے لیئے کھڑی تھی۔اس نے دروازہ پورا کھولتے ہوئے اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔وہ تفکر سے اجیہ کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے اندر چلی آئی اور بیڈ پر ٹرے رکھ کر اجیہ کی طرف مُڑی۔
”بی بی….؟“
”بولو فاخرہ….؟“اسکی آواز بہت بھاری ہو رہی تھی نا چاہتے ہوئے بھی وہ فاخرہ سے نظریں چرا گئی۔
”وہ جی…آپ کی طبیعت ٹھیک ہے نا؟“اسکا لہجہ فکر مندانہ تھا۔اجیہ کو بے ساختہ اسکی فکر مندی پر پیار آیااپنی تمام تر پریشانی کے باوجود اسنے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے اسکا گال تھپتھپایا۔

”میں ٹھیک ہوں فاخرہ…تم فکر نہ کرو….شکریہ..!“
”اچھا بی بی..اللہ آپکو سلامت رکھے..میں چلتی ہوں کھانے کی ٹرے تھوڑی دیر بعد لے جاؤنگی..“وہ جانے کے لیے پلٹ گئی۔
”نہیں رہنے دو..میں صبح خود ہی نیچے لے آؤنگی..“اس نے ہاتھ اُٹھا کر نفی میں اشارہ کیا۔
”آپ کو زحمت ہو گی“اسکے لہجے میں عاجزی تھی۔
”میں نے کہا نا…“اسکا کوفت بھرا لہجہ تلخ ہوا۔”اب جاؤ تم…“
”ٹھیک ہے اجیہ بی بی..جیسے آپکی مرضی…“اسنے فکر مندی سے اجیہ کے لہجے پر ایک لمحے کو غور کیا اور باہر نکل گئی۔

اجیہ نے دروازہ بند کیا اور کھانے پر ایک نظر ڈال کر ٹہلنے لگی۔اسکی اضطرابیت اور خوف پریشانی میں تبدیل ہو چکا تھاوہ حالات کی کڑیاں ملانے کی کوشش کرنے لگی ذہن میں شدید الجھن تھی ہر سوال کے جواب میں ایک نیا ابھرتا سوال اسکے پریشان ذہن میں شعلے بھڑکا رہا تھا۔دوپٹہ اپنے گرد اسنے سختی سے لپیٹ لیا تھاشاید اس لمحے اسے تحفظ کی تلاش تھی۔سینے پر ہاتھ باندھے وہ برابر ذہن پر زور دیتے ہوئے کچھ کھوجنا چاہ رہی تھی لیکن شاید ماؤف ہوتا ذہن خالی ہو گیا تھابار بار ناصر کی کھردری آواز اسکے چہار اطراف گونج رہی تھی اور بار بار اسکے وجود میں لگی آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔
”ہم تو آپ کی آواز کے عاشق ہیں….“یکلخت رک کر اسنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھا اور کنٹرول کی حدیں پار کرتے ہوئے دوسرے لمحے ہی دیوار پر پوری قوت سے دے مارا تھا۔

چٹاخ کی آواز کے ساتھ اسکرین چکنا چور ہو گئی تھی نازک شیشے کے کُچھ ٹکڑے اسکے قدموں میں بھی گرے تھے۔اپنی اضطرابیت اور غصے کو موبائل پر نکال دینے کے بعدوہ اب ششدر کھڑی تھی کُچھ لمحے گزرے اسکی آنکھوں میں شدید حیرت در آئی۔ لا شعوری طور پر اسنے ناصر کی باتوں کی گونج کو خود سے دور کرنے کے لیے یہ کام کیا تھا….
”کیا میں نے سوچا تھا کہ اس موبائل کو میں خود ہی توڑ ڈالوں گی….؟“اسکے لبوں سے نمی میں بھیگا ہوا جملہ نکلا۔آہستگی سے چلتی وہ موبائل کے ٹکڑوں کے پاس آکر رکی اور جھک کر سم ڈھونڈنے لگی ایک کونے میں وہ اسے نظر آگئی اس نے ہاتھ بڑھایااور متاع گم گشتہ کی طرح سم کو انگلیوں میں قید کر لیادھندلائی ہوئی آنکھوں کے سامنے ایک منظر لہرایا تھا۔

جب اسنے میٹرک پاس کیا تھا تب اسے ماما نے یہ موبائل تحفے میں دیا تھا ان کی محبت اور پُرخلوص مسکراہٹ آج بھی اسے یاد تھی کس قدر محبت سے انہوں نے یہ موبائل خریدا تھا اور خود اپنے ہاتھوں سے اسے پیک کر کے دیا تھا اسے یاد تھا… جب انہوں نے گفٹ اسکے ہاتھوں میں پکڑایا تھا تب ان کی آنکھوں میں کس قدر جگنو چمک رہے تھے ا س وقت کی وہ خوشی اور مسرت آج بھی اسکے لیے زندگی کا سرمایہ تھی ان دنوں اسکی زندگی کے تلخ ترین دن کو گزرے ہوئے محض چند مہینے ہوئے تھے اور وہ سنبھل نہیں پائی تھی۔لیکن ماما اور ابو کی محبت کے آگے وہ نرم پڑتی جا رہی تھی اور….اور….یہ گفٹ اور محبت کا اظہار ماما کی زندگی کا آخری خلوص تھا جو انہوں نے اجیہ کو پیش کیا تھا . اس دن کے ایک ہفتے بعد انہیں برین ہیمرج ہوا تھا اور وہ سینکڑوں دعاؤں اور خواہشوں کے باوجود جانبر نہ ہو سکی تھیں .

جب انکی روح جسم کی قید سے آزاد ہو رہی تھی تب بھی انکی بولتی آنکھوں میں نازیہ اور اجیہ کے لیے مامتا کی شدید تڑپ تھی ان کی آہستہ آہستہ پتھراتی ہوئی آنکھیں ان دونوں کے چہرے پر جمی تھیں اور وہ اسی حالت میں سفر آخرت پر روانہ ہو گئی تھیں….اور تب ہی…. ایک رات بری طرح سسکتے ہوئے اس نے موبائل کو سینے سے چمٹاتے ہوئے خود سے عہد کیا تھا کہ اسے خود سے کبھی جدا نہیں کرے گی….یہ موبائل ماما کے بعد انکی یادگار بن گیا تھا اور وہ اسے ایسے سنبھال کر رکھتی تھی جیسے سونا یا چاندی ہواور آج اسنے خود فراموشی کی حالت میں موبائل خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔

(جاری ہے ۔۔۔۔۔)