Home » مقابلہ کہانی (2) – طیبہ سلیم
Uncategorized

مقابلہ کہانی (2) – طیبہ سلیم

آئینے میں اپنا عکس دیکھتی ہوں بہت سی کوتاہیاں کمزوریاں زیادتیاں ذہن میں گردش کرنے لگ جاتی ہیں اپنے اردگرد دیکھتی ہوں تو سب میں کمزوریاں نظر آتی ہیں لیکن جب آخرزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے بارے میں پڑھتی ہو تو اخلاقیات کا کامل نمونہ نظر آتے ہیں.

زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس میں آپ ﷺ کی حیات طیبہ سے روشنی نہ پڑتی ہو اور انسانوں کے لیے کامل رہنمائی کا سامان نہ ہو .آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف ساری دنیا کے لئے رحمت اللعالمین ہے بلکہ آپ نے اپنی خانگی زندگی میں بھی حسن سلوک کےنہایت عمدہ نمونے پیش کیے . حضرت خدیجہ سے آپ کے نکاح کے بعد ایک مرتبہ حلیمہ سعدیہ مکہ معظمہ آئی آپ سے خشک سالی کی شکایت کی اور بتایا کہ ساری قوم قحط کا شکار ہو رہی ہے یہ سن کر آپ نے حضرت خدیجہ سے اس بارے میں گفتگو کی حضرت خدیجہ نے بیس بکریوں اور سواری کے لیے ایک اونٹ دے کر حلیمہ سعدیہ کو رخصت کیا۔۔۔ اس طرح آپ کے رضاعی والد مکے میں آ کر مسلمان ہوئے اور ان کی بہت عزت و تکریم کی …..رسول اکرمﷺ کے نزدیک والدین سب سے زیادہ عزت و احترام کے مستحق ہیں احادیث میں ہر ایک کی خدمت و عزت کی تاکید کی گئی ہےمگر ماں کو باپ کی نسبت تین گناہ زیادہ حسن سلوک کا مستحق قرار دیا گیا .

و بالوالدین احسانا اور ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو
ایک شخص حضور ﷺ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کرنے آیا تو آپ نے فرمایا کہ اپنے ماں کی خدمت کرو اور فرمایا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں میں ہے .اسی طرح آپﷺ ایک بہترین شوہر تھے آپ ازواج مطہرات سے حد درجہ محبت رکھتے تھے حضرت خدیجہ جب نکاح میں آئیں تو ان کی عمر چالیس برس تھی نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں آپ کو ان سے بے انتہا محبت تھی ان کی زندگی آپ نے دوسری شادی نہیں کی وفات کے بعد بھی یہ عالم تھا کہ جب کوئی جانور ذبح کرتے تو حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس اس کا گوشت بھجواتے تھے اس طرح حضرت عائشہ شادی کے وقت بہت کم سن تھی گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی آپﷺ اگر اتفاقاً وہاں آ جاتے تو لڑکیاں بھاگ جاتی لیکن آپ ان کو بلا کر حضرت عائشہ کے پاس بھیج دیا کرتے تھے .

اسی تمام محبت اتحاد کے باوجود آپ ﷺ ان کے معاشرے سے غافل نہ رہتے تھے دینی معاملات میں اگر ادنیٰ سی کوتاہی سرزد ہو جاتی تو آپ ضرور ٹوکا کرتے تھے ۔۔ام المومنین حضرت عائشہ یہ شہادت دیتی ہیں کہ آپﷺ اپنے ذاتی معاملات میں کسی سے باز پرس نہ فرماتے تھے لیکن اللہ تعالی کے معاملے میں ہر کوتاہی میں ضرور پوچھ کچھ کرتے تھے اور اس احتساب سے محبوب سے محبوب شخصیت بھی بچ نہیں سکتی تھی

حضرت عائشہ کی زبان سے ایک دفعہ صفیہ کے بارے میں یہ الفاظ نکل گئے تھے کہ صفیہ میں یہ عیب کیا کم ہے کہ ان کا قد چھوٹا ہے یہ بات ان کی زبان سے نکلی تھی کہ آپ ﷺ نے فورا تنبیہ بھی فرمائی …… عائشہ تم نے کیسی بات زبان سے نکالی ہیں اگر وہ سمندر میں ملا دی جائے تو اس کی کرواہٹ اسے تلخ کرکے رکھ دےحضور ﷺ کا یہ محاسبہ بھی آپ کی محبت کا پہلو تھا جو لوگ اپنے گھر والوں سے محض مادی قسم کی محبت رکھتے ہیں وہ اپنے ذاتی راحت و آرام سے تعلق رکھنے والی باتوں پر تو بڑے سخت گیر اور تنگ مزاج ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالی اور شریعت کے معاملات میں بڑے روادار اور فیاض ہوتے ہیں حالانکہ شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کوتاہیوں کو نظر انداز کر دیا جائے جو ان کی ذات سے متعلق ہیں اور شریعت کے معاملات میں سستی یا غفلت برتنے پر گرفت کی جاۓ حضور کا یہی طریقہ تھاآپ اپنی ذاتی آرام سے زیادہ اس بات کی فکر میں رہتے تھے کہ گھر والے اپنی آخرت کی ذمہ داری سے غافل نہ ہونے پائیں اس طرح

آپﷺمعاشرتی طور پر عدل و انصاف اور توازن قائم رکھتے تھے بلکہ اپنے گھر میں بھی تمام ازواج مطہرات کے درمیان عدل و توازن سے قائم رکھتے تھے آپﷺ نے کسی کے حق پر کسی دوسری زوجہ کو فضیلت نہ دیں تمام ازواج کے حقوق ادا کرناآپ کا بہترین اور مثالیں کارنامہ ہے . عرب کے معاشرے میں جہاں عورت کو جینے کا حق بھی حاصل نہ تھا وہاں آپ نے زواج کے ساتھ بہترین سلوک کر کے عورت کی حیثیت اور معاشرے میں اس کا مقام متعین کیا آپﷺ کا اسوہ قرآن پاک آیت کی عملی تفسیر ہے وعاشروھن بالمعروف …. ان کے ساتھ اچھی طرح رہو . آپﷺ نے متعدد مقامات پر عورت سے سلوک کی تلقین کی
تم سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بہت اچھا ہو
اس طرح بیویوں کو مہر کی صورت میں اور نان نفقہ کے ذریعے معاشی تحفظ فراہم کیا

اور اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو سورہ نساء ۴…….آپﷺ کا گھر ایک انسانی گھر تھا جس کی فضا میں فطری جذبات کا مدجزر تھا اس میں آنسوؤں کی چمک بھی ہوتی تھی اور تبسم کی شوخی بھی محبتوں میں کارفرما تھی اور کبھی رشک کھچاؤ بھی پیدا ہوتا۔ پریشانی پیدا ہوتی تھی اور تفریح کے لمحات بھی میسر آتے تھے جب نبی کریم صلی گھرآتے تونسیم کے جھونکے کی طرح آتے اور تمام گھر والوں میں شگفتگی پھیل جاتی ۔۔بات چیت بھی ہوتی کہ قصہ گوئ اور دلچسپ لطائف بھی ظہور پذیر ہوتے تھے غرض یہ اکتاہٹ بے زاری کا نام و نشان نہیں ملتا تھا

ایک دفعہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نےخزیرہ (قیمہ پکاکر اس میں آٹا چھڑکتے ہیں جو ساتھ پکتا ہے) تیار کیا حضرت سودہ بھی موجود تھی اور آپ دونوں کے درمیان بیٹھے تھے بے تکلفی کی فضا تھی میں نے سودہ سے کہا کھاؤ انہوں نے انکار کیاپھر اصرار کیا انہوں نے انکار کیا ادھر سے پھر کہا گیا کہ کھاؤ ورنہ میں تمہارے منہ میں مل دوں گی حضرت سودہ نے پھر نہ کھایا میں نے خزیرہ میں ہاتھ ڈال کر سودہ کے منہ پرمل دیا اس بے تکلفی پرآپﷺ خوب ہنسے اور سودہ سے کہا کہ تم بھی اس کے منہ پر ملو تا کہ حساب برابر ہو جائے چنانچہ سودہ نے ایسا کیا اور آپﷺ مکرر ہنسے . راتوں کو جب نبی کریم صل وسلم بستر پر ہوتے تو ہیں اہل وعیال سے باتیں ہوتی ہیں کبھی گھریلو امور پر کبھی عام مسلمانوں کے مسائل پر …..ایک مرتبہ آپ نے حضرت عائشہ سے ام زرع کی کہانی بیان کی اس کہانی میں ام زرع نامی عورت اپنے خاوند کامن موہنا کردار پیش کرتی ہے کہانی کے خاتمے پر آپ ﷺ نے حضرت عائشہ نے کہا میں تمہارے حق میں ویسا ہی ہو جیسے ابو زرع ام زرع کے لیے تھا

ان واقعات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ نبی کا گھر جیتے جاگتے انسانوں کا گھر جذبات و احساسات کے اتارچڑھاؤ بھی تھے. شوخیاں اور خوش گفتاری بھی تھی رشک و حسد بھی تھا شفقت و محبت بھی تھی ایک دوسرے کی عزت واحترام بھی تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ انتہائی سادہ اور آسان زندگی گزاریں خواہشات کو محدود رکھا آپﷺ میں نے کبھی بھی دنیاوی بادشاہوں کی طرح زندگی گزارنا پسند نہیں کیا بلکہ جو ہوتا وہ سب میں بانٹ دیا کرتے تھے آخرت کے فائدے کو ترجیح دیتے تھے . اللہ تعالی ہمارے گھرانوں کو بھی اسی طرح سادہ صبر وقناعت والی زندگی گزارنے والا بنائے آمین

Add Comment

Click here to post a comment