Home » درست فیصلہ – اسما صدیقہ
Uncategorized بلاگز

درست فیصلہ – اسما صدیقہ

جس عہد میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے

یہ بھول وفاق سے صوبے تک کے ہر سلطان سے ہوئی ہےاس سے ووٹ لینے کو ہراک جوڑتوڑکرتا رہا مگر اس کے سہارے گدی نشین ہونے والے مطلب پورا ہوتے اس غریب شہر کو بھول گئے جو اپنی کمائی سے سارے سلطانوں کو پروان چڑھاتا ہے یہ شہر خستہ حالی پہ فریاد کرتے ہوئے اپنے باسیوں کو اپنے وارثوں کو پکارتا ہےمیرے سپوتو تم جوزبان بولتے ہو کسی رنگ کسی نسل کے ہوکسی مسلک کے ہو کوئی غرض نہیں سب میرے ہو لمحوں میں فیصلہ کرنے کا وقت پھر آگیا ہے جو صدیاں بناتے لمحے ہیں تمھارے غلط فیصلے آگ خون اور پھر بارشوں میں سب ڈبوتے رہےپانی کی قلت کا دکھ الگ بجلی کا گھنٹوں غائب رہنا وہ بھی غضب کی گرمی میں علحیدہ عذاب کچرے کے ڈھیر ان پہ پلتی بیماریاں ٹوٹی سڑکیں کھنڈر زندگی کب تک تمھارا مقدر رہے گی جو ہوا سو ہوا اب رہا سہا بچالو شہر نگاراں کچراچی اور موئن جو دڑو کی طرز پہ کراچی جو دڑو بن گیا اب مزید کھنڈر مت بناؤ کون اس کا والی ہے انصاف سے سوچو اور لمحوں میں درست فیصلہ کرلو اپنا اور اپنے بچوں کی تقدیر کا فیصلہ انصاف سےلو یہ ترازو ،تول کے دیکھو۔۔۔۔

Add Comment

Click here to post a comment