Home » پاکستان زندہ باد – ریطہ طارق
Uncategorized بلاگز

پاکستان زندہ باد – ریطہ طارق

جب اسکی آنکھ کھلی تو اسکا سر خالہ بلقیس کی گود میں تھا، جنکی سوجھی آنکھیں دیکھ کر صاف گمان ہوتا تھا کہ وہ کب سے آنسوؤں کی قید میں ہیں. اسکا بد حواس چہرہ دیکھ کر جلدی سے خالہ نے اسے اپنی بازو میں سمیٹنے کی کوشش کی مگر وہ بے تاب تھا. اضطراب سے ادھر ادھر پوری ٹرین کی بگی ٹٹول رہا تھا, جیسے کچھ تلاش کررہا ہو. خالہ نے اپنے آنسو قابو پاتے ہوئے کہہ ڈالا: ” بہادر خان! سب ختم ہوگئے، بس ہم بچ گئے.” یہ کہہ کر وہ اسکو تھامنے ہی لگیں، لیکن اسکو تھامنا انکے اختیار میں نہ تھا. جبکہ اسکا خاندان اسکی آنکھوں کے سامنے خون میں نہلا دیا گیا تھا لیکن وہ جانے کس امید کا متلاشی تھا کہ وہ بغیر آواز نکالے چلتی ٹرین کی کھڑکی کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔ آنسوؤں کے گولے اسکے گلے میں اتر رہے تھے، ہیجان کی کیفیت میں وہ ٹرین کی کھڑکی سے نظر آتے جنگلات بدستور دیکھ رہا تھا.

محض بارہ سال کا بہادر خان اپنے اعصاب پر قابو رکھے ہوئے تھا. وہ یاد کرنے لگا کہ جب ہندوستان کی گلیوں سے گزر کر اسکے بابا نے لوگوں کو جلدی جلدی پھاٹک کے راستے روانہ کیا تھا. پھر وہ اور اسکی چھوٹی بہن جو دس سال کی تھی، امی کے ساتھ کہاں کہاں سے گزر کر ٹرین تک پہنچے تھے. جب سکھ اور ہندو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کا قتل عام کررہے تھے. ہر طرف وحشت کا عالم تھا، کسی کو کسی کی خبر نہ تھی، پھر اسکی فیملی جب ٹرین کے ایک ڈبے میں سوار ہوئے ہی تھے تب ہندوؤں نے حملہ کردیا تھا. مسلمانوں کے خون کے پیاسے انکے پاس آرہے تھے تو اسے یاد ہے، بابا نے امی اور چھوٹی بہن سویرا کو بچانے کی پوری کوشش کی تھی مگر ہندو ظالم درندوں نے ایک ہی وار میں سب کچھ ختم کردیا تھا، اسکو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا. وہ لاشعوری کیفیت میں مزاحمت کررہا تھا اسکا سر ٹرین کی بینچ سے ٹکرایا اور پھر۔۔۔۔ وہ لوگ اسے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے۔

خالہ بتانے لگیں” بیٹا ہم جب تم لوگ کو ڈھونڈتے آئے تو امی بابا اور چھوٹی سویرا موت کی نیند سوچکے تھے، البتہ تمہاری نبض چل رہی تھی. پھر تمہیں تمہارے خالو نے کمر پر اٹھایا، ہم دوسری ٹرین سے روانہ ہوئے، یہاں پاک فوج بھیج دی گئ تھی”. خاک اور خون کی اس جنگ کے بعد اسکے لیے یہ خبر کوئ نئ نہ تھی۔ وہ نیم مردہ حالت میں نیچے گرتا چلا گیا. اسکے اعصاب شل ہورہے تھے. اسکا خاندان خون میں نہایا تھا۔ خالہ اسکو بار بار گلے لگارہی تھیں، تسلیاں دے رہی تھیں. جبکہ خود انکے اپنے جوان بیٹا بیٹی بھی شہید کردیئے گئے تھے. وہ بار بار کہہ رہی تھیں کہ “بیٹا! ہمارا پاکستان ہمیں مل جائے گا” اور کہتے کہتے آنسوؤں کا ریلا ابلنے لگتا، شاید وہ خود کو تسلی دے رہی تھیں. ایسے تسلی دینے کے بہانے.

سفر تمام ہوچکا تھا، جیسے ہی ٹرین کی رفتار سست پڑی، پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجنے لگے. اب ٹرین پنجاب کے صوبے میں داخل ہوتی ہوئی پہلے اسٹیشن پر تھی. ہر شخص ایک دوسرے کی نگاہوں کا ترجمان بنا بیابان صحرا معلوم ہوتا تھا، ٹرین کی رفتار تھمی. تب ہی اس نے ٹرین کی بالکونی سے جھانکا. کچھ لوگ ہرے لباس میں تھے. سب کا سامان اتار رہے تھے اور لوگوں کو گاڑیوں، ہسپتالوں منتقل کیا جارہا تھا، ٹرین سے ہر اترتا شخص گویا اپنی دکھتی حیات کا بوجھ سہار رہا تھا. ہر چہرے کا کرب جہاں اپنی رام کہانی سنارہا تھا، وہاں اپنے وطن کی فضاؤں کی مہک روح میں اتار کر تشکر کا کلمہ رخساروں پر تھمارہا تھا. اس نے آسمان کی طرف دیکھا. کہیں کہیں پھٹے بادلوں میں ستارے جھانک رہے تھے. چاند کی سہمی روشنی بھی کہیں کالے بادلوں میں پناہ ڈھونڈ رہی تھی۔

وہ کتنے ہی دن تک سوگ کی کیفیت میں رہا. خالہ اور خالو نئی جگہ نئے حالات کو اپنی زندگی کا تحفہ جان کر رہائش، روزگار اور دیگر امور کے لیے کوشاں ہوگئے. وہ جلد از جلد اس نئی زندگی کو اپنی سر زمین پر تعمیر کرنے لگے جبکہ بہادر خان رات اور دن آسمان کو تاروں کو گھورتا رہتا. اس کیفیت سے نکالنے کے لیے خالو نے لاہور کا بہترین پرائمری اسکول ڈھونڈنا شروع کردیا. یوں وہ تعلیم کی سیڑھیوں پر چڑھنا شروع ہوا. اپنے بابا کی طرح با صلاحیت اور تیز ذہن تھا. اسکے ٹیچر بھی اسکی قابلیت کے اسیر تھے. دل بھی تو بابا کے دیئے اسباق کا ترجمان تھا، جو اسے قوم کی ترقی کا سبق سکھاتے رہے تھے. دل کے رستے زخموں نے کتابوں سے دوستی کرلی تھی. وہ گویا دن رات محنت کرکے اپنے انتقام کو invest کرنا چاہتا تھا. بابا نے اسکی دماغ کی نسوں میں مسلمانوں کی محبت اور اتحاد کا درس رچا بسا دیا تھا.

ابھی کچھ زخم اسکے بھرنا ہی شروع ہوئے تھے، کہ محمد علی جناح کے انتقال کی خبر آپہنچی. جس قائد نے انگریز آمریت اور ہندو سامراج کے سامنے مسلمانوں کے تقدس کا ڈنکا بجاکر دنیا میں فتح کا نشان بناکر یہ وطن بنایا تھا، وہ خالق حقیقی سے جاملے. اسکی آنکھیں اشکبار تھیں، دل میں شعلے بھڑک رہے تھے۔ وہ اپنے ننھے دماغ میں سمجھنا چاہتا تھا کہ آخر ماجرا کیا ہے، پے در پے اس ارضی کے ساتھ کیا ہورہا ہے، مگر اتنا ضرور جانتا تھا کہ اسے اپنے قائد کی روح اور اپنے اسلاف کا حق ادا کرنا ہے، انکی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دینا۔

وہ اب کافی بڑا ہوچکا تھا, انجینئرنگ کی ڈگری اور پھر اپنے ملک کی خدمت۔ جہاں وقت کی گردش کے ساتھ اسکی عمر نئی منزلیں طے کررہی تھی، وہاں وہ محمد علی جناح کے ساتھ قوم کے عظیم لیڈروں کی محرومی کے خلا کو پر کرنے کے در پہ تھا، وہ پاکستان کا بہترین انجنیئر تھا. ازدواجی زندگی میں قدم رکھتے ہی اس نے ٹھان لی تھی کہ اپنے بچوں کی تربیت میں وہ قربانی, خدمت اور اخوت کے جذبے کا پروان چڑھائے گا. مستقبل کے معماروں کو اپنی ذمہ داریوں اور اپنے دین سے دور ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔

شروع سے ہی وطن کی فضاؤں میں سازش کی بو آنا شروع ہوگئ تھی. پاکستان کا پتا صاف کرنے کے لیے انگریز اور ہندو ایک دوسرے کے زور بازو بنے بیٹھے تھے. پاکستان جس حالت میں بنا، گلی گلی گوشہ گوشہ، چمن کی ڈالی ڈالی اپنی آپ بیتی سنا رہی تھی. ادھر فوج اور حکومت کی روش کسی نئی سازش کا حصہ تھی۔ بہادر خان نے جو نشیب و فراز دیکھے،اس سر زمین تلے کتنے ہی شہداء اسکی سلگتی روح سے تقاضہ کررہے تھے, کہیں کسی قبر سے آواز آتی “اٹھو!!!مرے غازی مرے جانباز سپاہی ۔۔۔۔اپنے دیس کے چپے چپے کو گلزار بنادو. اس پر نظر ڈالنے والی میلی آنکھوں کو نوچ ڈالو.” وہ کیسے جواب دیتا کہ اس وطن پر وہ لیڈر مسلط ہوچکے تھے جنکی رگوں کو اقتدار کی ہوس تھی. اس نے چاہا کہ چیخ چیخ کر بتائے. یہ وطن شہیدوں کے لہو کی قربانیوں سے حاصل کیا گیا ہے، مگر رنگ رلیوں میں لگے حکمران وطن کی عظمت نہیں سمجھ رہے تھے۔ بدلتے اور احسان فراموش اہل وطن بھول گئے تھے کہ انہوں نے یہ ملک لا الہ الا اللہ کے نام پر حاصل کیا ہے، وہ اور انکے عمل اس وطن کی قیمتی اثاث اس وطن کے لیے قربانی دینے والے اسلاف کی قربانیاں ضائع کررہے تھے، وہ ارض پاک پر وہ پودے لگانا چاہتا تھا، جنکی جڑوں میں خدا اور اسکے بندوں کی محبت ہو۔

بہادر کا بیٹا آٹھ سال کا ہوچکا تھا. گھر کے چھوٹے سے لان میں نرم گرم دھوپ جب سردی کے لطف کو دوبالا کررہی تھی، تب وہ اور ولی چارپائی پر بیٹھے تھے. بہادر روز اسے پاکستان بننے سے لے کر اب تک کی داستان سنایا کرتا۔ وہ ولی اور اسکے جیسے کئی بچوں کو پروان چڑھتا دیکھ رہا تھا. ملک کی معاشی، سیاسی اور اخلاقی تنزلی کو اسکی دور رس نگاہیں ہر چند محسوس کرتی تھیں. تبھی ان نمو ہوتی کونپلوں میں قطرہ قطرہ وطن کی سالمیت اور وفا ڈالتا گیا.

ولی رفتہ رفتہ اپنی تعلیم کی سیڑھی پھلانگ کر کیڈٹ کالج میں آچکا تھا۔ اسکے گردو نواح میں بھی جتنے لڑکے تھے، سب نمازی اور بہترین اخلاق کے حامل تھے، جو اپنے آباء کی قربانیوں کو اور اس وطن کی محبت کے تقاضوں کو سمجھتے تھے. یہی کچھ گنتی کی چند کرنیں تھیں، جنکی امید سے وطن ارضی کا بھرم تھا اور اسطرح بہادر خان کی آنکھوں میں خوشی اور امید کی چمک عیاں تھی. وہ راہ حق کے سپاہی جو چند تھے، مگر اپنے حصے کا دیا ضرور جلارہے تھے۔ بہادر خان اب سکون کی نیند سوسکتا تھا، کیونکہ اس نے اپنے اسلاف کی قربانیوں کا حق چند کونپلوں کو اسلامی ملک کی محبت میں پڑوان چڑھاکر ادا کردیا تھا.

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。