Home » 14اگست ایک دستک – رضوانہ وسیم
Uncategorized بلاگز

14اگست ایک دستک – رضوانہ وسیم

اگست کا مہینہ آتے ہی جہاں ہمارا دل خوشی اور ولولے سے بھر جاتا ہے ، وہیں ایک خاموش دستک ہمارے ضمیر کے خوابیدہ در و دیوار سے ٹکرا کر ارتعاش پیدا کرتی ہے. اور ہم تغافل کے باوجود سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ہم نے آزادی وطن کے بعد کیا کھویا اور کیا پایا؟

ہم نے اپنے وطن کے لیے کیا کیا ؟ یہ ایسا سوال ہے جسے سن کر ہم بغلیں جھانکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ آزادی وطن کے حصول کے لیے کوشش قربانیاں اور جدوجہد کرنے والے اپنا حق ادا کر کے چلے گئے انہوں نے ہندوؤں اور انگریزوں سے لڑ کر یہ وطن ہمارے لیے حاصل کیا جب کہ آزادی کی جنگ لڑنے والے اکثر لوگ تو پاکستان کی سرزمین پر قدم بھی نہ رکھ سکے. وہ ہمیں آزادی کی نعمت فراہم کرنے کے لئے قربان ہو گئے اور شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے. اس وقت کے مخلص لیڈرز نے اپنی پوری جان اورقوت وطن کے حصول کے لیے لگا دی. قائداعظم شدید علالت کے باوجود اس مقصد کو حاصل کرنے پر ڈٹے رہے اور ناممکن کو ممکن کر دکھایا. اب یہ ہماری بدقسمتی تھی کہ قائداعظم جیسا مخلص اور زیرک رہنما ہمارے درمیان زیادہ عرصہ نہیں رہ سکا اور ان کی یہ میراث غلط لوگوں کے ہاتھ میں آگئی. قیام پاکستان کے بعد ملک کے استحکام کے لئے جو کچھ کرنا چاہیے تھا بعد کے آنے والے حکمرانوں نے اسے ضروری نہ سمجھا. غلط اور ناعاقبت اندیش فیصلوں سے ملک کی ساکھ کو کمزور سے کمزور تر کرتے چلے گئے.

انہیں خود غرض اور بددیانت لوگوں کے ہاتھوں ہم نے اپنا آدھا ملک بھی کھو دیا. یہ سانحہ بھی ہم نے دکھے دل اور بھیگی آنکھوں سے برداشت کیا اور اس پر بھی صبر کر کے بیٹھ گئے. آہستہ آہستہ ملک کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے. آخر کیوں ؟ کیا اب بھی تم خاموش تماشائی بنے اپنے ملک کی بربادی پر صرف ماتم کرتے رہیں گے ؟ ہماری بے حسی اور کیا رنگ لائے گی ہمارا دل بھی چاہتا ہے کہ ہم بھی پرامن معاشرے میں زندگی گزاریں. ہمارا ملک بھی ترقی کرے دوسری ترقی یافتہ اقوام کی طرح ہم بھی پرسکون زندگی گزاریں یہ ناممکن تو نہیں مگر اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنا احتساب کرنا ہوگا جب تک ہم اپنے وطن سے مخلص نہیں ہونگے. کوئی کام ٹھیک نہیں ہوگا. ہم حکمرانوں کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں جبکہ یہ بھی ہمارے ہی منتخب کردہ ہوتے ہیں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سالہا سال سے ان سیاستدانوں کی ریشہ دوانیاں اور لوٹ مار مسلسل جاری ہے ان کے جھوٹے دعوے ہمیشہ ہماری امیدوں کا خون کرتے ہیں کیا ہم اندھے بہرے ہیں یا ناقص العقل ہیں.

ہم کیوں سوچ سمجھ کر اپنے نمائندے نہیں چنتے بے شک یہ مفاد پرست لوگ کچھ لوگوں کو تو خرید سکتے ہیں لیکن سارا پاکستان تو نہیں خرید سکتے. ان لالچی سیاستدانوں کے علاوہ بہت سے ایسے مخلص سیاستدان بھی موجود ہیں جن کے دل میں وطن اور اپنے ہم وطنوں کا درد موجود ہے. ہمارا سب سے پہلا فرض صحیح نمائندوں کو چننا ہے. خدارا! ہوش میں آئیے. اب بھی وقت ہے ، عقل سے کام لیں پاکستان آج بھی گل گلزار ہوسکتا ہے. اگر قیادت مخلص اور قابل لوگوں پر مبنی ہوں دوسری بات یہ کہ ہم خود بھی بہت سے غلط کام اس لئے کرتے ہیں باقی سب بھی تو کر رہے ہیں تو یاد رکھئے باقی لوگ جو بھی کریں اس کا حساب اللہ ان سے لے گا. آپ ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کریں تاکہ آپ کی پکڑ نہ ہو کیونکہ ہمارے ایک غلط فعل سے نہ صرف ہمارا نامہ اعمال خراب ہوتا ہے بلکہ ملک کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے.

آئیے آج سے عہد کریں کہ شہر میں گندگی پھیلانے میں ہم حصہ دار نہیں بنیں گے. ایمانداری سے ٹیکس ادا کریں گے. اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے. اس وطن کو اپنا گھر سمجھیں گے. جس طرح آپ سب اپنے گھروں کے لئے مخلص ہیں اسی طرح اپنے وطن کو بھی محبت سے سجانے سنوارنے کی کوشش کریں گے. اس ملک کے لیے ہمارا جذبہ بالکل گھر جیسا ہونا چاہیے کیونکہ اس ملک کا چپہ چپہ ہمارا اپنا ہے. اس کے زرے ذرے سے ہمیں والہانہ محبت ہونا چاہیے تب ہی ہم اس کی بہتری کے لیے کچھ کر سکیں گے. ہمیں اپنے ہم وطنو سے بھی خلوص کا بے لوث رشتہ استوار کرنا چاہیے. میرا دعویٰ ہے کہ آپ آگے قدم بڑھایئں خلوص بانٹیں اللہ دوسروں کے دلوں میں بھی ہمارے لئے اس سے بڑھ کر محبت کا جذبہ پیدا کردیں گے.

ہمیں خیر کا بیوپاری بن کر اس ملک میں اخوت و بھائی چارہ پیدا کرنا ہوگا کیونکہ اس ملک کی ترقی اور خوشحالی سے ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہے. آئیے اس بار 14 اگست اس خلوص کے ساتھ منائیں جو خلوص جدوجہد آزادی کے وقت ہم مسلمانوں میں تھا. اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیں اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیں کیوں کہ میرا نظریہ ہے…..

اک شجر ایسا زمانہ میں لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

میری خواہش ہے کہ اگلی بار یوم آزادی ہم اس ملک کی ترقی و خوشحالی کا فخر یہ ذکر کرتے ہوئے منائیں اللہ ہمارے وطن کو رہتی دنیا تک قائم و دائم رکھے آمین ….

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。