بچے اور احتیاطی تدابیر – بنت شیروانی




ہلکی سی آواز آئی اور موبائل پر پیغام نمودار ہوا…… جسے پڑھ کر یہ پتہ چلا کہ ایک عزیز کی ڈیڑھ سالہ نواسی کا پانی میں گر کر انتقال ہوگیا ہے- اس خبر کو پڑھ کر دل کافی افسردہ ہوا۔خود بھی ایک ماں ہونے کے ناطے اس دکھ کا احساس ہوا۔کہ بچے کو ماں بہت تکلیفوں اور مشقتوں سے پالتی ہے
اور اس بچی کی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے پر کس کرب اور تکلیف میں ہوگی وہ ماں …… بلاشبہ زندگی اور موت کا مالک …! ہمارا رب ہے۔ لیکن چھوٹے بچوں کے ساتھ کچھ احتیاطی تدابیر کو اختیار کر لیا جاۓ تو کافی حد تک بڑی پریشانیوں سے بچا جاسکتا ہے ……. کبھی بھی بچے کے منہ میں فیڈر دے کر اسے اکیلے میں نہ چھوڑا جاۓ کہ کسی بھی لمحہ بچے کو پھندا ہی لگ جاۓ اور پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے . بچے کے گلے میں کبھی بھی کسی بھی قسم کی ڈوری نہ ڈالی جاۓ جیسے عموماً چسنی کو گلے میں ڈال دیا جاتا ہے . غسل خانوں کے دروازے بند رکھے جائیں اور ان میں موجود بالٹیوں کے ڈھکنے بند رکھیں جائیں۔ یا اگر زیادہ پانی کو محفوظ رکھنا ہو تو بوتلوں میں پانی بھر کر ان کے مضبوطی سے ڈھکنے بند کر کے پانی بھر کر رکھیں۔
صفائی کر نے کے لۓ مختلف رنگوں کے بلیچ کو پانی کی بوتلوں میں بھر کر رکھنے کے بجاۓ انھیں بلیچ کی بوتلوں میں ہی بھر رکھیں اور انھیں بھی غسل خانوں میں موجود کیبنٹ کے اندر رکھیں . فنائل کی رنگ برنگی گولیوں کو نالیوں پر رکھنے کی بجاۓ تھیلی میں ڈال کر کھونٹی پر لٹکائیں . نوکیلی چیزوں جیسے چھری ،کانٹے یا قینچی کو ہمیشہ اوپر رکھیں۰اور ان کی نوک کو اندر کی طرف رکھیں . چھوٹے بچوں کے لۓ کانچ کے گلاس استعمال نہ کرنا بہتر ہے۰کہ بعض اوقات بچہ کانچ کا چبا دیتا ہے. ماچس کو ہمیشہ بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں ……. اور اس کے بجاۓ لائٹر استعمال کریں . واکر چلانے والے بچوں کی موجودگی میں میز پر گرم پانی یا گرم کھانے رکھنے میں احتیاط برتیں کہ ایسے بچے میز پوش کھینچنے لگتے ہیں۰اور ایسے میں گرم چیزوں کا بچوں پر گرنے کا خدشہ رہتا ہے
گھروں میں موجود استعمال نہ ہونے والے بجلی کے بٹنوں پر ٹیپ لگا دیا جاۓ……. اور جو بٹن زیر استعمال بھی ہوں ان کے آگے کوئی چھوٹی میز وغیرہ رکھ دی جاۓ۔ کہ بچوں کو اس میں انگلیاں ڈالنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ دوائیں ہمیشہ بچوں کی پہنچ سے دوررکھی جائیں۔ وہ افراد جو ایسے فلیٹس میں رہتے ہیں جہاں لفٹس ہیں ان میں مزید احتیاطوں کی ضرورت ہے۰لفٹ استعمال کرتے وقت کی احتیاطوں سے بچوں کا آگاہ کرنا ضروری ہے. جب کبھی مالوں وغیرہ میں جانا ہو تو برقی سیڑھیوں کے استعمال کے طریقہ سے آگاہ کیا جاۓ۰اور یہ والی سیڑھیاں استعمال کرتے وقت چھوٹے بچوں کا مزید خیال رکھا جاۓ۔ بچے جب تھوڑے بڑے ہونے لگیں اور انڈا ابالنے،نوڈلز یا چاۓ بنانا شروع کریں تو انھیں سب سے پہلے باورچی خانہ میں کی جانے والی احتیاطیں بتائ جائیں۰اور خدانخواستہ آگ لگ جانے کی صورت میں سب سے پہلے کیا جانے والا کام کہ “گیس کی چابی کو بند کرنا”ہے ۔اور پانی ڈال کر آگ بجھانے کی کوشش کرنا ہے ۔سمجھایا جاۓ۔
گرم پتیلیوں کو پکڑنے والا کپڑا تھوڑا چھوٹا رکھا جاۓ تاکہ آگ لگنے کا خدشہ کم سے کم ہو ……. کھانا نکالنے یا چاۓ پیش کرتے وقت بچوں کے ساتھ احتیاط کی جاۓ۰کبھی بھی کسی کے سر پر سے چاۓ یا کافی نہیں لے کر آنی۰یہ بات بچوں کو سکھائی جاۓ . واکر چلانے والے بچے گھر میں موجود ہوں تو ایسا دروازہ جس کے باہر سیڑھیاں ہوں یا کوئ منڈیر ہو تو خیال کیا جاۓ اور کوشش کی جاۓ کہ وہ دروازہ بند ہو۔ گاڑی میں بیٹھتے وقت “چائلڈ لاک”لگا دیں کہ بچوں کا کوئ بھروسہ نہیں ہوتا اور وہ چلتی گاڑی میں دروازہ کھول سکتے ہیں۰ بچوں کے ہاتھوں میں سکہ کبھی نہ دیں ۔چھوٹے بچوں کے کھلونوں پر بھی لکھا ہوتا ہے۰کہ احتیاط کریں لہذا سات ماہ سے لے کر تقریبا دو سال تک کے بچوں کے ساتھ احتیاط کی جاۓ
اور ان تمام تر احتیاطوں کے ساتھ دعاؤں کا حصار اور صدقہ ہی بچوں کی حفاظت کرتا ہے۰کہ اکثر محسوس ہوتا ہے کہ فرشتے حفاظت کرتے ہیں ان کی …… لیکن خود اپنی طرف سے یہ تمام احتیاطی تدابیر کرنا بھی ضروری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں