عورت کا مقام ومرتبہ – حناطہ عثمان




عورت کا مرتبہ ہمارے معاشرے میں کیا ہے؟ ایک ماں ایک بہن ایک بیٹی یا ایک بیوی کا ہے؟؟ کیا ہم ان رشتوں کی اہمیت کو جانتے ہیں یا فرائض ادا کرتے ہیں؟ عورتوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ کیا ہے؟؟ یہ کچھ زندگی کےاہم مسائل ہیں۔۔
(1) تربیت:
کیا ہم دینی طریقے سے اپنی اولاد کی تربیت کر رہے ہیں ؟؟ اچھا کھانا پینا کھیلانا اچھے کپڑے پہنانا ، اچھے اسکول میں داخلہ کروانا ، تربیت ہے؟ نہیں ……. یہ ایک ذمےداری ہے جو ہر والدین پر فرض ہے . اپنی اولاد کو اپنی حیثیت کے مطابق ان کو ضرورت زندگی میں سہولیات دینا.
اکثر ماؤں کا صرف بیٹی کی تربیت پر زیادہ زور ہوتا ہے اور یہی انتہائی غلط پہلو ہے ہمارے معاشرے کا ہم یہ سوچتے ہیں کہ اسے دوسرے گھر جانا ہے…… اسے تو سب آنا چاہیے. اسکو ہم اسکول کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر کے کام کی ذمےداری بھی دے دیتے ہیں. ٹھیک ہے ہر کام آنا بھی چاہیے ہر لڑکی کو ……. لیکن وہیں ہم اپنے بیٹوں کی تربیت بھول جاتے ہیں .ہم انہیں گھر کے کام نہیں سیکھاتے کے بیٹا یہ سب تمہارے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا تمہاری بہن کے لے ۔ کیوں کہ انسان جب تک خود کوئی کام نہیں کرتا اسےاس کام کی مشقت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ بیٹا بیٹی جب اسکول کالج سے آتے ہیں تو بیٹی چینج کر کے جلدی جلدی دستر خوان لگاتی ہے کہ سب کہانا کہا لیں.. کیا وہ تہکی ہوئی نہیں آتی؟؟ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب ہم اپنے بیٹوں میں سے احساس کی ہس ختم کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے کے بیٹا آج تم دسترخوان لگاؤ اور کل تمہاری بہن لگائے گی۔
ایسی احساس بھی قائم ہوتا ہے اور گھریلو کام میں مدد کرنے کی عادت بھی تو ہمیں چاہیے کہ ہم بیٹیوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ بیٹوں کی تربیت پر بھی اتنا ہی زور دیں۔۔ تعلیم تربیت کے ساتھ ساتھ ہی دین علوم میں بھی بچوں اور بچیوں دونوں کو ماہر بنائیں تاکہ انہیں اپنے سے جوڑے ہر رشتے کے حقوق اور فرائض کا اچھے سے علم ہو۔ جب تربیت میں ہی کمی رہ جائے گی تو بچہ اخلاقی طور پر مضبوط کیسے بنے گا.
(2) ازواجی رشتہ:
یہ وہ رشتہ ہے جس سے شیطان کو خاص دشمنی ہے ۔ اور جب میاں بیوی میں تلخیاں پیدا ہوتی ہیں تو اس کے لیے وہ دن جشن کا ہوتا ہے…….. تو اس نازک رشتے کو مضبوط کرنے میں دونوں میاں بیوی کی محبت ، عزت ، قربانی اور دوستانہ تعلق ہونا زیادہ ضروری ہے ۔ یہ وہ رشتہ ہے جو ہر موقع پر قربانی اور عزت مانگتا ہے ۔ جب ایک لڑکی اپنا آرام اپنی پسندیدہ ہر وہ چیز جو شادی سے پہلے اسے عزیز تھی….. وہ چھوڑ کر نکاح کر کے اپنے شوہر کے گھر چلی جاتی ہے کیا یہ آسان ہے؟ یقیناً نہیں …….
لیکن یہی ہمارا اسلامی طریقہ ہے ۔ پھر وہ لڑکی اس ماحول میں خود کو ڈھال لیتی ہے۔ سب سے پہلے اس لڑکی پر اس کے شوہر کا حق ہے تو پھر اس کی ذمےداری ہے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق اور اس کی عزت کی حفاظت کرے ۔اور اس کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی اور اپنے شوہر کی عزت کی حفاظت کرے اس کے مال کی حفاظت کرے۔ اس رشتے میں اکثر مسائل شک کی بنیاد پر پیدا ہوتے ہیں۔ بظاہر لفظ شک چھوٹا سا ہے لیکن کئی زندگی تباہ کر دیتا ہے۔ تو کوشش کرنی چاہیے زرا بھی شک دل میں آئے تو نرمی کے ساتھ آپس میں ڈسکشن کرلیں ۔ اول تو اس رشتے میں شک کی گنجائش نہیں ۔۔ اس وقت اکثر خواتین شک کی بنیاد پر آگ بگولہ ہو کر اپنے شوہروں پر برس پڑتی ہیں اس سے بات اور بگڑ جاتی ہے اور یہ رشتہ خراب ہوجاتا ہے ۔۔ دوسری اور اہم بات آپکی بیوی اپکے والدین کی خدمت تب ہی کر سکتی ہے .
جب وہ خود انکو اپنی والدین مانیں اور یہ تب ممکن ہے جب آپکے والدین اسے اپنی بیٹی بنالیں یہ بہت ہی پیارے پیارے رشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت ہے …….. کچھ اہم باتیں جو بہت ضروری ہیں ہر لڑکی کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر بات اپنی امی یا ابو سے ڈسکس کرتی ہے تو شادی کے بعد یہ عادت بدلنی ہوگی کیونکہ سسرال کا ہر اچھا برا جب وہ ڈسکس کرے گی تو یقیناً اگر اس کے سسرال میں پتا چلا تو ان کو برا لگے گا ۔جیسے ہر انسان میں اچھائی اور برائی موجود ہوتی ہے ویسے ہی ہر گھر میں بھی اونچ نیچ ہوتی ہے تو سمجھداری یہ ہے کہ آپ اپنے گھر کے معمولات کسی سے ڈسکس نہ کریں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بنایا ہے تو ایک دوسرے کے راز کو راز رکہنا دونوں پر فرض ہے۔۔ اس طرح ایک دوسرے میں ایمان داری قائم ہوتی ہے محبت بڑھتی ہے ۔ اور ازواجی رشتہ مظبوط ہو جاتا ہے۔ اور جب آپ کا رشتہ مظبوط ہو گا تو آنے والی نسل اس مظبوط رشتے میں پروان چڑھے گی تو وہ بھی اس طرح مظبوط ہو گی ۔۔
(3) معاشرہ اور عورت:
ہم اس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ……. جہاں بیٹوں کو نعمت سمجھا جاتا ہے۔ ان کو عزت دی جاتی ہے ، انکی پسند نہ پسند کا خیال رکہا جاتا ہے……. وہیں موجود کچھ عورتیں آزادی کے نام پر اپنی عزتیں پامال کرنے والیوں میں شمار ہوگئی ہیں . یہ وہ ہیں جنہیں دین کا علم نہیں ! liberalism کے نام پر فحشیاں کرتی ہیں اور اپنی مسلمان خواتین کو دوسرے ملکوں میں بدنام کرتی ہیں۔
اکثریت میں یہ وہ خواتین ہوتی ہیں جو پہلےغلط راستہ اختیار کرکے اپنی زندگی برباد کر چکی ہوتی ہیں اور پھر وہ چاہتی ہیں کہ ہماری گھریلو دیندار خواتین کو ورغلا کر نیک راستہ سے دور کر دیں . اور جب کوئی عورت مجبوری میں کمانے نکلتی ہے تو کمپنی کی شرتیں کچھ یوں ہوتی ہے کے آپ منہ نہیں ڈھانپ سکتیں سکارف نہیں پہن سکتیٹ اور اپنا مذہبی لباس بھی نہیں پہن سکتیں صرف اپنے دفتر کا لباس مردوں کی طرح پینٹ شرٹ پہنیں تب ہی ہم آپ کو اچھی تنخواہ پر رکھیں گے ورنہ آپکی ڈگری کسی کام کی نہیں۔۔ اور پھر دفتر کا کام ختم ہونے کے بعد جب آپ کسی اسٹاپ پر کھڑے بس کا انتظار کر رہی ہوں تو بد نیت مردوں کی آنکھوں کا نظارہ بن رہی ہوتی ہیں یہ صرف دفتر کی خواتین ہی نہیں بلکہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی لڑکیوں کے ساتھ بھی ہے چاہے وہ عورت پردے دار ہو یا نہیں ..اس معاشرے میں خواتین کی عزتیں ہرگز محفوظ نہیں ہیں۔
عملی طور پر اس معاملے پر حکومت کو توجہ دینی چاہیے تاکہ اس اسلامی معاشرے میں خواتین محفوظ رہیں۔۔ اس ہی اللہ تعالیٰ نے خواتین کو محرم کے بغیر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کیونکہ جب ان کا محرم ان کا محافظ انکے ساتھ ہوگا تو ہر گز کسی غیر محرم کی انہیں دیکھنے کی ہمت نہیں ہوگی۔۔ ہر ادارے سے پہلے اپنی حفاظت کی ذمےداری آپکی اپنی ہے ۔
“مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں……. سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے ، اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ ۔ (سورۃ نور)”

اپنا تبصرہ بھیجیں