بچوں کی تربیت کے گُر – ایمن طارق




‎اپنے بچوں کی شخصیت کو پر اعتماد بنانے کے لیے اکثر ایک چیز جو ہم فراموش کر جاتے ہیں وہ شاید سب سے اہم ہے اور وہ یہ کہ اعتماد صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی بھی ۔۔ اور صرف اندرونی اعتماد بھی کافی نہیں کہ ایک انسان سب کچھ جانتا اور سمجھتا ہو ، اپنے وژن میں کلئیر ہو لیکن اُسے کہنے کا سلیقہ ہی نہ آۓ۔
بچے یا بڑے بہت اسمارٹ اور کول نظر آنے پر ساری توجہ رکھیں ، ظاہری اعتماد کا بھرپور مظاہرہ کریں اس کے باوجود اگر اُن کو اپنے اوپر اور اپنی صلاحیتوں پر اندرونی اعتماد نہیں تو وہ اپنی جگہ بنانے میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں اور کبھی کبھی اندرونی جھجھک اور کنفیوز شخصیت ظاہری شخصیت کو بھی نا قابل اعتماد بنا دیتی ہے۔ دینی لحاظ سے بھی ہمیں یہی تعلیم ملتی ہے کہ انسان کی اندرونی سچائی اور نظریات کی پختگی اُس کو دین کا بہترین ایمبیسیڈر بناتی ہے یعنی انسان کے خدا پر ایمان کی پختگی اُس کو کسی کے آگے جھکنے اور اپنا ماتھا ٹیکنے سے محفوظ رکھتی ہے ۔
چھوٹے بچوں کی ماں بن کر ہم نے کئ دفعہ یہ محسوس کیا کہ ہمارے اپنے چار بچوں میں سے کچھ فطری طور پر انتہائ خود اعتماد ہیں ، کچھ فطری طور پر محتاط خود اعتماد ہیں اور کچھ فطری طور پر جھنجھک رکھنے والے ۔۔ اس چیلینجنگ سیچویشن میں ہم نے ارد گرد کا جائزہ لے کر کچھ نتائج اخذ کیے کہ کانفیڈینس کی بیلینس مقدار بچوں میں کیسے انجیکٹ کی جا سکتی ہے یا اس کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے ۔
‎صحت:
‎اپنے بچوں کی صحت کے لیے ہم سب اپنی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن ہمارے کچھ احباب نے بچوں کا کانفیڈینس بوسٹ کرنےکے لیے علیحدہ محنت کی ہے یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن کے بچے کبھی بھی بیمار ہی نہیں پڑے لیکن اُن کو محنت سے خالص غذا کھلانا یا جنک سے بچانا ، ساتھ میں اُن کی غذا میں پھل اور قدرتی غذائیں ، ڈرائ فروٹ شامل کرنا ان کو وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت ڈالنا کے لیے خود سے زمہ دار بنانا ، پرسنل ہائ جین کا خیال رکھنا ۔۔
صحت ہی توانائ اور ہمت دیتی ہے اور خوش رکھتی ہے اور ظاہر ہے یہ اندرونی اعتماد بچے کو بیرونی طور پر کچھ نہ کچھ کرتے رہنے اور آگے بڑھنے پر اُبھارتا ہے ۔۔ بیمار اور کمزور رہنے والے بچوں کا اعتماد اکثر کم ہو نے لگتا ہے تو کچھ والدین ایسے دیکھے کہ جنہوں نے بچوں کے ساتھ مل کو اُن کو اُن کی بیماریوں اور صحت کے مسائل کی تربیت دی اور بچپن سے ہی ایکسرسائز کرنا ، دوائوں کے متبادل غذائیں استعمال کرنا ، بیمار ہو بھی جائیں تو مایوس نہ ہونا ، مثبت سوچنا سکھایا ۔
‎والدین کے مثبت اور خوشگوار تعلقات :
‎کم از کم بچوں کے سامنے آپس کے اختلافات سے بچنا ، بحث و مباحثے سے پرہیزکرنا ، آپس کے اعتماد اور محبت کو بچوں کے سامنے گفتگو اور خاندانی سپورٹ کی سر گرمیوں سے ظاہر کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے ۔ اگر بچے کو یہ اعتماد ہو کہ ہمارے اماں ابا ایک دوسرے سے مزاق بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی ہر کام میں سپورٹ بھی تو وہ اپنے اندر ایک انوکھی خوشی اور مسرت محسوس کرتے ہیں اور بہت سے با ادب بچے ہم نے دیکھے کہ جن کے والدین ایک دوسرے کو ہمیشہ احترام اور محبت دیتے نظر آۓ اور یہ صرف ظاہری مظاہرے نہیں تھے بلکہ بچوں کی گفتگو سے بھی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا
رشتوں کا مثبت تعارف :
‎رشتے اور اُن سے وابستہ یادیں اعتماد کو شخصیت کی جڑوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔۔ انتہای کیسزز کے علاوہ جہاں کچھ رشتے بدنمائ پر آمادہ ہوں والدین کے اختیار میں ہے کہ وہ بچوں کے زہنوں میں مثبت تصویریں بنوانے میں ان کی مدد کریں اور یہی اندرونی اعتماد میں اضافہ بھی کرتا ہے ۔۔ اس کے ساتھ معاشرے کے اندر پاۓ جانے والے ہر کردار سے انسانیت کے تحت جو تعلق ہے اور اُس کا جو تقاضہ ہے ہمدردی ، محبت ، نرمی ، مدد یہ سکھاتے دیکھا ہم نے اور حیرت سے اُ ن عظیم ماں باپ کو دیکھ کر چپکے چپکے دل میں داد دی ۔۔
بھروسہ اور اعتماد:
‎ بھروسے اور اعتماد کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ دیکھنے میں آیا کہ جو لوگ اپنے بچوں پر بلا وجہ شک نہیں کرتے اور اعتماد کرتے ہیں ان کے بچوں میں خود اعتمادی کی مقدار زیادہ ہے ۔جیسے عموماً ہم اپنے ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوے بچوں کے رجحانات ، خواہشات اور منصوبہ بندیوں پر شک کرتے ہین جس سے وہ ہر معاملے میں پھر ہماری ہی راۓ کے منتظر رہتے ہیں اور اپنے لیے کوئ فیصلہ کرتے ہوے ڈبل مائینڈ رہتے ہیں یا فیصلہ کر ہی نہیں پاتے ۔ رہنمای ضروری ہے لیکن وہ ڈکٹیشن نہ ہو۔
سپورٹ اور حوصلہ افزائی :
پھل بھی درخت پر لگتا ہے تو سپورٹ اور حفاظت کے بغیر کیڑا لگ جاتا ہے جگہ نہ ملے تو پلا نٹ بڑھتا نہیں تو اگر پھلنے پھولنے اور پھیلنے کے مواقع نہ ملیں تو بچوں کی پر اعتماد شخصیت میں بھی کیڑا لگ جاتا ہے ۔۔ کانفیڈینس دینے کے لیے سپورٹ بہت ضروری ہے اور یہ ہم نے سیکھا ہے کچھ ایسے والدین سے کہ جو اپنے بچوں کی ایموشنل ضروریات کا خیال رکھتے ہیں اُن کی فیلنگز کو اکنالج کرتے ہیں کہ ان کے بچے اچھا سوچتے ہیں تو کوئ ان کو سننے والا ہو ،حوصلہ افزائ کرنے والا ہو ، وہ لوگوں سے تعلقات بنانے میں اچھے ہیں تو اُن کے لیے ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جاۓ جس میں وہ زیادہ لوگوں سے مل سکیں اور اپنی سوشل اسکلز کا تجربہ کر سکیں ۔۔
‎گھریلو مشاورتی میٹنگز :۔
‎زرا نیا آئیڈیا ہے لیکن بڑے کام کا کہ اگر کسی بھی معاملے میں چاہے وہ چھٹیاں گزارنے کا ہو ، نیا فرنیچر لینے کا ہو ، فیملی کے صحت افزا معمولات کا ہو اس پر یا بچوں کے ساتھ مل کر ایک میٹنگ کی جاۓ اور ان کی راۓ لی جاۓ ۔ وہ ایک چھوٹے یونٹ میں بیٹھ کر جب اپنی راۓ کا اظہار کریں گے تو کسی دوسری محفل یا سوسائٹی کے ساتھ انٹریکٹ کرنے سے پہلے اپنی راۓ جامع انداز میں اعتماد سے پیش کرنے کے تربیتی مرحلے سے گزر چکے ہوں گے ۔
خدمت کا جذبہ :
‎دوسروں کی خدمت کا جذبہ بچوں میں ڈالنا بھی ایک خوبصورت روایت ہے . جو ہم نے دیکھی کچھ والدین میں کہ جو خود بھی دوسروں کو بے غرضی سے فائدہ پہنچاتے ہیں اور بچے بھی ان کو دیکھ کر خود بخود اس کو اپنی عادت میں شامل کرتے جاتے ہیں اپنی زات کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا احساس ہمیں اپنی زات پر اعتماد دیتا ہے اور ضرورت کے مطابق صلاحیت کو جلاء بخشتا ہے ۔
محبت محبت محبت :
محبت کا اظہار بہت زیادہ ۔ گلے لگانا پیار کرنا مسکرانا ، محبت سے دیکھنا ۔ یہ جادو ہے اور اس جادو سے بچوں میں بجلی بھر جاتی ہے ۔
دعا :
بچوں کو بھی یہ دعائیں سکھانا اور ہر اہم کام سے پہلے کہیں جاکر بات کرنے سے پہلے انہیں ان دعاوں کو یقین اور سمجھ کر پڑھنے کی عادت ڈالنا ربي يسر ولا تعسر ربي تمم بالخير ………. رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ……….. رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي* وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي* وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي * يَفْقَهُوا قَوْلِ

اپنا تبصرہ بھیجیں