ہم نے کب یہ جانا کہ اچھی مائیں کیسے بنتی ہیں؟ – نگہت حسین




ہم نے کب یہ جانا کہ اچھی مائیں کیسے بنتی ہیں؟ ہم نے اچھی مائیں بنانے کی کوشش ہی کب کی ؟
طنز ، طعنے اور تنقید ۔۔۔۔۔۔۔۔ساتھ ساتھ کچھ ماضی ، حال اور کچھ مستقبل کی ذلت آمیز تذکرے کے ماحول میں گھری پڑھی لکھی ،سلجھی ہوئی باشعور لڑکیاں اچھی مائیں بننے سے پہلے ہی اپنا آپ کھو دیتی ہیں۔ ایسی ہستی جس کی گود بچے کی پہلی درس گاہ قرار پائی ہے.

جن کے ذمہ نسلوں کی تربیت جیسا مشکل اور اہم کام ہے. جن کی گودوں میں پرورش کے لیے گوشت پوست کے احساسات و جذبات رکھنے والے چھوٹے کمزور وجود کی شکل میں ہمارے مستقبل ڈال دیے جانے ہیں .وہ اچھی مائیں ، مائیں بننے سے پہلے ، دوران اور بعد کے مرحلوں میں جذباتی نفسیاتی و ذہنی طور پر اتنی گھائل ہو چکی ہوتی ہیں کہ اپنے ہونے کا احساس کھو چکی ہوتی ہیں۔ جس کی اپنی عزت نفس کچلی ہوئی ہے . خود سارا وقت مجرم بنی کٹہرے میں کھڑی ہے
جس کا علم و شعور سراہے جانے کے قابل نہیں ہے . جس کی اپنی ذات کی پہچان گم کر دی گی ہے . جس کو خودی کیا ہے کا سبق بھلا دیا گیا ہو یا بھلانے کی کوشش ہے . جو خود کسی نہ کسی حوالے سے غصے اور جھنجھلاہٹ کا شکار کرنے والے ماحول میں رہتی ہے ۔ جس پر غیر ضروری ذمہ داریوں کا بوجھ ہے ۔
وہ ایک اچھی ماں کیسے بن سکتی ہے؟ اس کا اصل مقصد تو ہر ایک کو خوش رکھنا قرار پاتا ہے .اور پھر اس ناکامی پر گھنٹوں کڑھنا اور آنسو بہانا اپنے آپ کو ناکام جان کر برا سمجھنا ، گناہ گار ماننا . جس کے دل میں خالق سے زیادہ مخلوق کا خوف بیٹھا ہو ،

جس کے لیے اللہ سے زیادہ انسانوں کی خوشی عزیز رکھنے کا مقصد اولین ہو ، جس کا صیحیح و غلط کا معیار انسانی رضامندی پر ہو وہ کیسے خدا خوفی رکھنے والے بے باک نڈر انسان تیار کر پائی گی ۔ یہ تو اچھی مائیں بننے سے پہلے ہی سب کو خوش رکھنے کی تگ و دو میں مصروف ، ڈری سہمی ، مفاد پرست ، چھوٹے موٹے مقاصد رکھنے والی اپنے بقا کی پستی میں گری ہوئی جنگ کرنے والی بے چاریاں بن جاتی ہیں۔ افسوس کہ ایک اچھی ماں بننے سے پہلے ہمارے گھروں کے رواج و ماحول کے مطابق ایسی تربیت سے گزرتی ہیں جس کا مروجہ معیار عورت کے لیے انسان کی عزت و تکریم میں نہیں بلکہ اپنا آپ کھو دینے والی مخلوق کے طور پر ابھرنے میں ہے۔ معاشرے میں بے باک نڈر ، دیانت دار ، بے غرض ، بامقصد اور نظریاتی ، سوچنے سمجھنے والے ، بصیرت افروز لوگوں کا ایسے ہی تو قحط نہں پڑا ہوا ۔ ذرا سوچیے ، اردگرد نظر ڈالیے ، تلاش کیجیے کہ نئی ماؤں کی جذباتی و ذہنی صحت کا کیا حال ہے؟ ان کے کڑھنے اور سسکنے کے کیاا سباب ہیں ؟ کون سے عوامل ہیں؟ وہ کیا چاہتی ہیں ؟ اگر ہم اپنے بچوں کی ذہنی و جذباتی صحت کے حوالے سے فکر مند ہیں تو پھر ہمیں ان کو جنم دینے والی ان ہستیوں کی ذہنی اور جذباتی صحت کی پہلے فکر کرنی چاہیے جو ماں کہلاتی ہے ، ہمارا معاشرہ ۔۔۔۔۔۔ہمارے گھروں کی جھلک ہے ۔۔۔۔۔۔یہی ہمارے کہف ہیں .

اپنا تبصرہ بھیجیں