آن لائن کلاسز , مائیں کہاں جائیں ؟ – حمیرا حیدر




ہادیہ  ایچ کے جی کی سٹوڈنٹ تھی، سکول نے مارچ کے سالانہ  امتحان کی ڈیٹ شیٹ فروری کے آخر عشرے میں ڈائری میں چپکا دی۔ مگر دو دن بعد کرونا کے کیسز ملک میں داخل ہو گئے اور سکول بند کر دیا گیا۔ ہادیہ کی والدہ پریشان تھیں کہ اب کیسے امتحان ہوں گے۔ ہادیہ کو تو بے حد خوشی تھی کہ سکول سے چھٹیاں ہو گئی ہیں اب خوب کھیل کود ہو گی اور ہوم ورک سے جان چھوٹے گی۔

امی جان نے پہلے تو کچھ دن انتظار کیا کہ کچھ صورتحال واضح ہو مگر جب کوئی حل نظر نہ آیا تو ہادیہ کو گھر ہی میں تیاری شروع کرا دی۔ کچھ دن بعد سکول نے اعلان کیا کہ بچوں کو بغیر امتحان کے ہی اگلی کلاس میں پروموٹ کر دیا جائے گا۔ ہادیہ اب پہلی جماعت میں پروموٹ ہو گئی تھی۔ نئی کتابیں بھی آ گئیں اور سکول نے نئی سہ ماہی کا آغاز کر دیا اس سلسلے میں  ان لائین کلاسز کا آغاز رمضان میں کیا گیا۔  آن لائن کلاسز طلبہ، اساتذہ اور والدین کے لئے بالکل ایک نیا تجربہ تھا۔ اس سے قبل خاندانی سیاست پر مفصل بحث کے لئے ہی  آئی ایم او، سکائیپ یا واٹس اپ کی کالز ہوا کرتی تھیں۔ بہرحال ہادیہ کی کلاسز کا آغاز ہو گیا۔ ابتداء میں اسے جگا کر ناشتہ کرا کر سکرین کے سامنے بٹھانا ایک چیلنج تھا۔ حالانکہ سکول جاتے ہوئے وہ بالکل پریشان نہیں کرتی تھی۔ اب سکول نے تو کلاسز شروع کرا دیں مگر

پہلی جماعت میں بچے بہت کچھ ایسا سیکھ رہے ہوتے ہیں جو کہ اگلی کلاسز میں ان کی صلاحیتوں کو بہتر سے بہترین کرنے میں معاون ہوتا ہے۔ جیسے الفاظ بنانا، جملے بنانا، جوڑ کر پڑھنے کی کوشش، حساب کے بنیادی سوالات، 100 سے اوپر کی گنتی سیکھنا، زیادہ تر مضامین چونکہ انگریزی میں ہیں تو اس کی ریڈنگ سیکھنا لمبے الفاظ کو توڑ توڑ کر ادا کرنا۔ تین حرفی اور چار حرفی الفاظ بنانا۔ اور ایسا ہی بہت کچھ۔  چونکہ یہ آن لائین کلاس تھی ٹیچر نظروں سے اوجھل تھیں، بچے کبھی کیمرہ کھول لیتے، بس آواز اور سکرین کا تعلق جو ظاہر ہے اصل کے کلاس کے برابر کہاں ہو سکتا ہے۔ انسان دیکھ کر زیادہ بہتر سیکھتا ہے۔ ہادیہ امی کے ساتھ بیٹھ کر ٹیچر کے پڑھانے پر دھیان دینے کی کوشش کرتی مگر ہر تھوڑی دیر بعد اس کی توجہ ادھر ادھر ہو جاتی۔ امی ہادیہ کو کہتی کہ بیٹا ٹیچر آپ کے لئے بول رہی ہیں۔ سکول سے ہر روز اس قدر کام ملتا کہ جو عام طور پر پورے ہفتے میں دیا جاتا۔ امی الگ پریشان تھیں کہ مستقل طور پر ساتھ بیٹھنا پڑ رہا ہے۔

دوسرا ٹیچر کی رفتار  راولپنڈی ایکسپریس کی مانند تیز تھی انتہائی کوشش کے باوجود  مقابلہ مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ جب ٹیچر کوئی سوال پوچھتیں تو چیٹ میں جو جوابات آتے تھے وہ بچوں سے زیادہ ان کے والدین کی طرف سے تھے۔ کیونکہ اس رفتار کو پکڑنا والدین کے ہی بس کی بات ہے چھوٹے بچوں کی نہیں۔ ٹیچر جواب پڑھ کر بچوں کو بہت خوب ، شاباش وغیرہ کہتیں۔ بچے خوش ہو جاتےحالانکہ یہ جواب مائیں دے رہی ہوتی تھیں۔  یہ ٹیچر بھی جانتی ہوں گی کہ لکھنے والے بچے نہیں ہیں۔ کیونکہ بچے اس قدر جلد ٹائپ کر نہیں سکتے اور دوسرا ان کو الفاظ کے ہجے یا سپیلنگ تو ابھی بالکل نہیں آتے۔ مائیں بتا بھی دیں تو بھی کی بورڈ پر ان کو تلاش کر کر کے لکھنے تک ٹیچر اگلے سے اگلے سوال پر پہنچ جاتیں۔ جب پڑھائی کی باری آتی تو جو ہجے کر کے سکھانے کا تو وقت ہی نہیں ہے مائیں کانوں میں الفاظ پھونک دیتی ہیں اور بچے فر فر سنا دیتے ہیں گویا وہ بہت بہترین ریڈنگ کر سکتے ہیں۔ ۔ اس سے قبل بچوں کو مائیں سکرین سے دور رکھنے کی جدوجہد کرتی تھیں .

اب سکرین کی طرف متوجہ کرنے کے جتن ہو رہے۔ ساتھ کاپی میں خود سے ہی لکھوانے کی کوشش اور ہجے کر کر کے پڑھانے کی کوشش ۔۔۔۔ اللہ اللہ کر کے پہلے سہ ماہی مکمل ہوئی گرمیوں کی چھٹیاں ہوئیں اور اب ہادیہ کی دوسری سہ ماہی شروع ہو گئی ہے۔ اس بار زووم کلاس کے ساتھ ساتھ گوگل کلاس میں بھی ہوم ورک آ رہا ہوتا ہے۔  چیٹ کا آپشن بند کر دیا گیا ہے صرف ہاتھ کھڑا کرنا ہوتا ہے تو تمام بچے ساری کلاس کے دوران ہاتھ کھڑے کئے رہتے ہیں۔  اس کے ساتھ ہی سکول والوں نے علیحدہ سے حاضری کا فارم بھی متعارف کرا دیا اور تاکید ہے کہ اس کے بغیر بچے کو غیر حاضر تصور کیا جائے گا اب ظاہر ہے یہ تمام کام اتنی چھوٹی کلاس کی بچی تو کرنے سے رہی مائیں ہی کھپ رہی تھیں سو ہیں گویا سکول کھپے کھپے کھپے۔۔۔۔ کل ہی تو ہادیہ کی امی اس کے ابو سے کہہ رہی تھیں کہ ٹیچرز  تو بچوں کو ارفع کریم رندھاوا سمجھ لیا ہے۔

روزانہ کا گھر کا کام الگ سے دیا جاتا ہے۔ ہادیہ بھی اس سب سے بہت پریشان ہے اسے سکول بہت یاد آ رہا ہے۔ ۔ اپنی دوستیں یاد آ رہی ہیں۔ ہادیہ کی امی کو بہت ساری نئی چیزیں سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ وہ کچھ خود سے اور کچھ گوگل سے سرچ کر کر کے سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جو ہوم ورک ملتا ہے وہ گوگل کلاس میں بروقت کرنا بھی ہوتا ہے ۔ وہ سوچتی ہیں کہ جو کلاس ہے وہ بھی تو گھر سے ہی ہو رہی ہے اور پھر مزید گھر کا کام چہ معنی وارد را۔۔۔۔۔؟ خیر اب تو امتحان (اسسمنٹ ٹیسٹ) بھی گوگل ہی سے ہو رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ بچے کیسے سیکھیں گے کیسے پڑھیں گے۔ ہادیہ کے چھوٹے بھائی کا داخلہ بھی کرانا تھا مگر اس سب صورتحال کو دیکھ کر اسے خود ہی کام کرانا شروع کر دیا ہے۔

(یہ کہانی کرونا کے ختم ہونے تک ہر ماں کی کہانی ہے جسے آن لائین کلاسز سے واسطہ ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں