تربیت کا راز – ایمن طارق




جب جب وہ ملی اُس کی ذہانت ، اُس کا جزبہ اور اُس کی صلاحیتیں حیران کُن تھیں ۔اتنی ٹیلینٹڈ اور پھر اتنی ہی بہترین ماں ۔ بچوں کے لیے اُس کے آئیڈیاز دیکھ کر عش عش کرنے کا دل چاہتا ۔شوہر کی طرف بھی مکمل توجہ رہتی کہ اُن کے لیے خود کو بنا سنوار کر رکھے اور اُن کی دلچسپی میں خود بھی دلچسپی لے ۔

اُس کی شخصیت کا ایک سحر تھا جسکا اثر ملاقات کے بعد جب ختم ہوتا تو سوچتی کہ جن لوگوں کو بہترین ماحول اور بہترین پرورش ملتی ہے وہ پھر ایسے ہی نکلتے ہیں ۔ جب جب اُسے کہتی کہ “دل چاہتا کہ تمہارے امی ابو سے ملوں اور اُن سے پوچھوں کہ اتنے شاندار بچوں کی تربیت کا راز کیا تھا ۔ “اور وہ ہمیشہ یہ سُن کر مسکرا دیتی ۔اُس دن نماز کے بعد ہم مسجد میں خواتین کی طرف والے فلور پر دیر تک بیٹھے رہے ۔ والدین کے حقوق پر لیکچر تھا اور اب دعا جاری تھی ۔ دعا کے بعد میں نے پیچھے مڑ کر اُسے مخاطب کیا کہ اب چلیں ؟ کچھ غیر معمولی تاثرات اور بھیگی ہوئ آنکھیں نظر آئیں ۔ کیا ہوا خیرئت ؟ “ہاں بس امی ابو کے لیے دعا کرتے ہوۓ بہت یاد آئی “۔

ہاں ظاہر ہے جتنی پیاری تم اُن کی بیٹی ہو اور جتنی بہترین تربیت انہوں نے تمہاری کی ہے تو اُتنا ہی گہرا تعلق بھی ہوگا ؟“یار اصل میں بات یہ ہے کہ شادی سے پہلے اتنا موقع نہ ملا اپنے پیرینٹس کے ساتھ وقت گزارنے کا ۔ دونوں ورکنگ تھے اور پھر زرا ریزرو طبعئت کے تھے ۔ جب ہم سب گھر میں ساتھ بھی ہوتے تو کام کی بات چیت ہی ہوتی ۔ اسی لیے ہم سب بہن بھائی بہت غیر جذباتی سے ہیں ۔ ایک وقت میں امی کو ڈیپریشن بھی رہا تو وہ ویسے ہی تلخ ہوجاتی تھیں ۔ تو بس پھر جب شادی کے بعد اتنی دور آگئی تو اب وہ وقت بہت یاد آتا ہے ۔ اُس وقت یہ سب بہت کھلتا تھا کہ ہمارے گھر میں کیوں سب ایک دوسرے سے اس طرح محبت کا اظہار نہیں کرتے جیسے اور لوگوں کا سنتی تھی ۔ “ آج پہلی دفعہ خلاف معمول اُس سے یہ سن کر میں چپ سی ہوگئ ۔

تو یہ اتنی کانفیڈینٹ ، باصلاحیت اور ہر دلعزیز لڑکی “بہترین اور آئیڈیل بچپن “اور بہترین والدین کی تربیت کا نتیجہ نہیں ہے کیا ؟؟ اچھا ۔تو یہ تمہارا اعتماد ، تمہارا اپنے بچوں سے بہترین تعلق یہ سب کیسے ممکن ہوا تمہارے لیے ؟ کیا وہ بچپن کی تلخ یادیں اور ماں باپ کی طرف سے وقت نہ ملنے کی محرومی تمہارے اندر تلخی نہیں بھرتی ؟ یہ سب کیسے سیکھا ؟؟

“یہ سب آسان نہیں لیکن بہت آسان ہوگیا جب میں خود ماں بنی اور احساس ہوا کہ والدین کا ٹائٹل لینا خوش تو کرتا ہے لیکن یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے جسمیں کوئ راستہ بتانے والا اورآگے کے نتائج کی خبر نہیں دیتا ۔ ““والدین تو بچوں کے لیے اچھا ہی سوچتے ہیں بس ہر ایک اتنی صلاحیت نہیں رکھتا کہ مختلف مزاجوں کے بچوں کیشخصیات کو سمجھ کر اُس کے مطابق ان پودوں کی آبیاری کرے ۔ “تو والدین کو بھی رعایت ملنی چاہیے نا !“پھر بچپن کی محرومی اور والدین کی عدم توجہ بھی کسی کو آگے بڑھنے یا اچھا انسان بننے سے نہیں روکتی بلکہ وہ انسان کو شروع سے سوچنے سمجھنے اور تجزیہ کرنے کا موقع دیتی ہے ۔ مجھے ہمیشہ اس چیز نے آگے سے آگے بڑھایا کہ جو نہیں ملا اُسے پاؤں کی زنجیر نہ بناؤں اور خود اپنے لیے آگے سے آگے جستجو کروڻ ۔ “

اور پھر بچوں کو بڑا کرکے والدین کے جسم اور جان جب ہلکان ہوجاتے ہیں اُس وقت یہ پچھتاوے بہت ازیت ناک ہوتے ہیڻ کہ اگر وہ اپنی اولاد کو بکھرا ، ٹوٹا ہوا انسان دیکھیں ۔ جو وہ نہ کرسکے اُس کا خیال اُن کی نیند اُڑا دیتا ہے ۔ ایسے میں کیا یہ نیکی نہیں کہ ہم اُن کے سامنے اپنی کوشش سے خود کو بہترین انسان بنانے کی ، رشتوں کو خوبصورتی سے نبھانے کی اور خود کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں ۔ اس سے ہم بھی سنور جائیں گے اور اُن کی زندگی بھی سکون سے گزر جاۓ گی ۔ یہ تو طے ہے کہ آج جتنے پیارے میرے بچے مجھے ہیں اُتنے ہی ہمارے ماں باپ کے لیے ہم تھے ۔ غلطیاں تو انسان سے ہی ہوتی ہیں تو پھر ماں باپ کو ہی ہر غلطی سے ماورا کیوں سمجھا جاۓ ۔

ماوں کی دعاؤں میں پہلی دعا اور باپ کی محنت مشقت کی اولین وجہ اولاد ہی تو ہوتی ہے ۔ پھر جب وہ دنیا میں نہ رہیں تو نہ کوئی بغیر یاد دلاۓ دعا کرتا ہے اور نہ اپنی جان مار کر ہماری ضروریات پوری کرنے کا انتظام کرتا ہے ۔ ہر انسان سے اُس کی کوشش کےلیے سوال کیا جاۓ گا ……. مسجد سے باہر نکلتے ہوۓ وہ ہلکے ہلکے یہ راز سمجھا گئی کہ جو شاید کسی پیرینٹنگ ورکشاپ سے نہ ملتا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں