احساس تشکر – ڈاکٹر سارہ شاہ




فلائیٹ کے دوران ایک خاتون کو لگ بھگ تین سال کے بچہ کے ساتھ دیکھا جو اسے کچھ کھلانے میں مصروف تھی۔ ایک نوالہ اسے کھلاتی اور جواب میں بچہ سے کہتی “say thankyou”۔ بچہ جواب میں تھینک یو کہتا تو اس کی ماں اس کو دوسرا نوالہ کھلاتی۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہا جب تک بچہ نے پورا کھانا مکمل نہیں کرلیا۔۔ یہ واقعہ میں نے بھی کہیں سنا اور آپ نے بھی یقیناً سنا ہی ہوگا۔

ہم اپنے بچوں میں شکر گزاری کا رویہ کیسے پروان چڑھائیں۔ شکر گزاری صرف یہی نہیں کہ احسان یا مدد کرنے والے کا احسان مانا جائے بلکہ شکر گزاری اپنے اندر بہت سارے مثبت جذبات اور احساسات لئے ہوئے ہے۔ اسی لئے رب العزت کو بھی اس کے شکر گزار بندے بہت پسندیدہ ہیں۔ جو شخص اپنے اللہ کا شکر گزار ہو وہ یقیناً بندوں کے معاملے میں بھی شکر کا رویہ رکھتا ہے۔۔

بچوں کے حوالے سے بات کی، کہ شکر کا احساس کیسے پیدا کریں جس میں acknowledgement کا عنصر شامل ہے، تو یہ عمر اور شعور کے ساتھ پروان چڑھتا ہے، لیکن reflexes بنائے جا سکتے ہیں تاکہ شعور کی منزل مضبوط ہو۔ رشتوں کے مابین بھی شکر کے جذبات کا اظہار ہو تاکہ بچے اس کا اثر لیں۔ اس سے بھی بڑھ کر اللہ کی نعمتوں کا احساس دلا کر الحمداللہ کے الفاظ کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے، ہر آسودگی، ہر عافیت، “every moment of joy” اللہ نے ہی دی ہے۔

یہ سوچ ہمارے بچوں میں ڈالنے کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ آج کے دور میں مواقع بہت ہیں۔ پر چیز کو forgranted لیا جاتا ہے بہت کچھ ہونے کے باوجود بھی کافی نہیں سمجھا جاتا اور ناقدری کا رویہ سامنے آتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ جو چیز ہمیں ملی ہے ہم اسی قابل ہیں کہ وہ ہمیں ملے حالانکہ اصل معاملہ تو یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں اس قابل سمجھا تو وہ چیز عطا کی..

شکر اپنائی جانے والی سب سے بہترین صفت اور عادت ہے. اس سے دل میں نرم دلی پیدا ہوتی ہے۔
انسان کی سوچ ہمیشہ مثبت سمت میں سفر کرتی ہے، تھوڑا میسر ہونے کے باوجود بھی دل و دماغ مطمئین رہتا ہے، انسان حساس اور قدر دان ہوتا ہے، اپنے محسن سے غافل نہیں ہوتا۔ یہی معاملہ انسان کا اللہ سے شکر گزاری اور بندوں سے احسان مندی کا رویہ ہوتا ہے۔ بچوں سے چھوٹے چھوٹے کاموں میں جزاک اللہ، تھینک یو، شکریہ کے کلمات ان کے اس احساس کو بڑھائیں گے۔
والدین کا آپس میں بھی، دیگر رشتوں میں اور اپنے ماتحتوں سے ان کلمات کا اظہار ضروری ہے۔اور ان سب کے ساتھ ہر کام کے مکمل ہونے پر، ہر چیز کے میسر آنے پر ، ہر آسانی پہ خود بھی اور بچوں کو یہ ادراک کروانا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔اس کا شکر ادا کرنا۔ اس کی حمد اور تسبیح بیان کرنا تاکہ بچے یہ سیکھ سکیں کہ ہر میسر آنے والے چیزیں، مکمل ہو جانے والے کام کتنی اہمیت رکھتے ہیں اور اللہ کی طرف سے ہے سب۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں