قصہ مختصر – محمداسعد الدین




کوئی وعظ نہیں، کوئی نصیحت نہیں۔۔۔ کسی لیکچر، کسی تقریر کی ضرورت نہیں۔۔۔ آج کی نسل نصیحتوں سے بھاگتی ہے، موقع، بہانے سے قسم قسم کے درس دینے والوں کو آج کے بچے خوب بھگاتے ہیں۔ آپ کی بیٹی ساتویں کلاس میں ہے، اسے نہ بالکل ”بچی“ سمجھیں اور نہ ہی بہت زیادہ دانشور قسم کی سمجھدار۔۔۔ کرنے کے کچھ کام ہیں انہیں سہولت سے شیڈول بناکر کریں، لیکن ریگولر۔۔۔

آپ ماں تو ہیں ہی، اگر بیٹی کی قابل بھروسہ دوست بھی بن جائیں تو کیا حرج ہے۔۔۔ سیکھنے، سکھانے کے لیے ”فریکوئنسی لیول“ برابر ہونا چاہیے۔۔۔ جب ماحول اور موڈ خوشگوار ہو تو گپ شپ کے اندازمیں بیٹی کو سمجھانے سے پہلے سوالات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کریں کہ اسکا اپنی پرسنالٹی اور فیوچر کے حوالے سے کانسپٹ کیا ہے؟ مائنڈ میں موجود کانسپٹ کہاں سے آیا ہے، کیا کیا دیکھ کر پیدا ہوا ہے (سورس آف ڈریم کیاہے)؟؟ فیوچر ڈریم سے ایموشنل وابستگی کس لیول کی ہے؟ اس کی سوچ اور خواہش آپ کے مزاج کی روایات کے خلاف ہوں، تب بھی جھٹکے دار انداز میں انکار کرنے، شرمندہ کرنے یا طعنے کا انداز اختیار نہ کریں تو بڑی مہربانی ہوگی۔۔۔ کہنے، سننے کا عمل اتنے سلیقے، حکمت سے ہوکہ بیٹی کو یقین ہوجائے کہ میں جس سے گپ شپ کرتی ہوں، بات کرتی ہوں وہ صرف میری ماما ہی نہیں بلکہ سب سے بڑھ کر قابل اعتماد سہیلی بھی ہیں۔

کہنے کو تو یہ چند باتیں ہیں (بقول ایک صاحب کے ۔۔۔۔چار لین ہی تو لکھی ہیں) لیکن یہی چند کام کرنے میں آپ کو وقت لگے گا اور برداشت والی توجہ بھی چاہیے۔۔۔ ایک بات سمجھ لیں۔۔۔ اس ایکسرسائز کا نتیجہ ایک دم سامنے نہیں آئے گا، رفتہ رفتہ، دھیرے دھیرے چلیے !! بسم اللہ کریں اور شروع ہوجائیں۔ آپ کی اس کوشش کے نتائج اور اگلے ٹاسک پر اگلے بلاگ میں بات کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں