Home » بچے اور ہمارے رویے_ ایمن طارق
خواتین کارنر

بچے اور ہمارے رویے_ ایمن طارق

سنیں آپ وہ تو نہیں جو بچوں کی آپس کی لڑائ کی وجہ سے اُن کے بڑوں سے تعلق خراب کرلیتے ہیں ؟
ہاں تو ٹھیک ہے نا بچے اپنے ماں باپ کی ہی تصویر ہوتے ہیں اور ماں باپ تربیت نہ کریں تو بچے ایسے ہی دوسروں کو تنگ کرنے والے اور بدتمیز ہوجاتے ہیں ۔

جی نہیں !
آپ سننا چاہیں گے کہ آپ کیا غلط کرتے ہیں ؟
پہلی بات یہ کہ ہر بچے کی اپنی منفرد اور مختلف شخصیت ہوتی ہے ۔ وہ والدین سے شکل ، صورت اور جسمانی ساخت میں اُن میں ملتے جلتے ہوسکتے ہیں ،اُن کی عادات و اطوار سے بھی اثر لیتے ہیں لیکن اللہ کریم نے ہر انسان کو بہت پیار سے بہت مختلف بنایا ہے اور ہر ایک کی اُنگلیوں کے فنگر پرنٹس تک مختلف ہیں ۔
دوسری بات تربیت کے باوجود بھی بچے آزمائش بن جاتے ہیں ۔
تیسری بات جو سب سے اہم ہے وہ یہ کہ “بچے بچے ہوتے ہیں بڑے نہیں اور وہ انسان ہیں روبوٹ نہیں “

اگر تو بڑوں کی آپس کی چپقلش کو بچوں کے درمیان لائیں گے اور والدین کے خراب تعلقات کی بنا پر اُن کے بچوں سے چڑ کر اُن سے بھی نفرت کرنے لگیں گے تو آپ زیادتی کریں گے ۔
اور اگر بچوں کی آپس کی شرارتوں ، چھوٹی موٹی لڑائیوں اور جھگڑوں کو جس میں وہ لڑ کر کچھ دیر میں صلح کرلیتے ہیں آپ اُسے بڑوں کے درمیان لاکر اُنہیں باتیں سنائیں تو آپ ناسمجھی کا مظاہرہ کریں گے ۔
جوائنٹ فیملی سسٹم ہو یا سوشل سرکل ہر جگہ بچوں کے والدین بن گۓ ہیں تو تھوڑا ہولا ہاتھ رکھیں خود پر بھی اور دوسروں پر بھی ۔
درگزر کرنا سیکھیں۔۔۔۔۔

اپنے بچوں کو زیادتی کا شکار ہونے سے بچائیں لیکن ایسا چھوئی موئی نہ بنائیں کہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر دوسرے ماں باپ یا چھوٹے چھوٹے بچوں پر چڑھ دوڑیں اور اپنے بچے کے تحفظ اور طرفداری میں جزباتیت اور شور شرابے کا ایسا مظاہرہ کریں کہ آپ کا بچہ جھوٹ بول کر خود کو مظلوم ثابت کرنے اور دوسروں کو بے عزت کروانے میں خوشی محسوس کرنے لگے ۔
سب سے بری بات یہ ہوگی کہ آپ چھوٹے چھوٹے بچوں کو سخت سست ، بدتمیز اور نکما کہیں اور اُن کو اپنے بچوں کو بچانے کے لئے دو ہاتھ بھی جڑ دیں ۔
سنبھل کر عقل سے تحمل سے ٹریک پر آجائیں ۔اگر کسی بچے سے شکایت ہے یا وہ آپ کے بچے کو بار بار تنگ کر رہا ہے تو والدین کو توجہ دلادیں اور اپنے بچے کو اپنے ساتھ رکھیں ۔

اور اگر شکایت اتنی بڑی نہیں تو خود کو توجہ دلائیں۔ اب آپ ہیں جو رو رہی ہیں اور اُداس ہیں کہ بات زرا سی تھی اور بچے کی وجہ سے آج تلخی بڑھ گی ۔ آپ ہمیشہ اپنے بچے کو زیادتی کرنے پر سرزنش کرتی ہیں ۔اُس کا ہاتھ اٹھنے سے روکتی ہیں اور بچوں کے آپس کے جھگڑوں کو کبھی بڑوں کے درمیان نہیں لاتیں ۔ أپ درگزر کرتی ہیں اور مسکرا دیتی ہیں ۔ آپ دوسرے بچوں کی بدتمیزی پر اُن کے والدین کو بگاڑ کا ذمہ دار قرار دے کر طعن و تشنیع نہیں کرتیں ۔ اور دوسرے بچوں کو تو آپ کبھی باتیں نہیں سناتیں کیونکہ بچے أپ کو شیطان نہیں لگتے انسان لگتے ۔
آپ کی دوسروں سے توقع بھی یہی ہے نا ؟

لیکن توقعات پوری ہونے لگیں تو دنیا جنت کا نمونہ بن جاۓ جہاں کسی کو کسی سے شکایت نہ ہو اور ہم دنیا کو ہی جنت سمجھ کر جنت کی طلب اور تڑپ نہ رکھیں ۔
ہر انسان کی سمجھ کا خانہ مختلف ہے۔
اور بردباری اور معاملہ فہمی بھی ۔
آئیں میں سمجھاتی ہوں آپ کی تسلی کے لئے ۔ سب سے پہلے پانی پی کر لمبی سانس لیں ۔ اس کے بعد بچے کو گلے لگا کر بہت سارا پیار ۔
اب بات یہ ہے کہ اگر آپ کے رشتہ دار آپ کے دوست احباب اگر آپ کے بچوں کو اچھی بات بتاتے اور بری بات سے روکتے ہیں اور غلط کام پر ہاتھ پکڑتے ہیں تو تو جائز ہے بلکہ اچھا ہے آپ کے علاوہ کوئ ہو جو بچوں کے اچھے برے کو دیکھ سکے ۔

البتہ آپ کے بچے کی تذلیل ، اُس کی عزت نفس کو کچلنے ، اُس کے جذباتی و جسمانی تشدد کی کسی کو اجازت نہیں اور نہ ہی اس پر خاموش رہیے ۔ جو لوگ آپ کے چھوٹے بچے کو بڑوں کی طرح سمجھ کر اُس سے بڑوں والی توقعات رکھیں وہ نادان ہیں ۔ سلیقہ ، ادب ، تمیز یہ سب سکھانے کی آپ نے کوشش پوری کی ہے اور ساتھ آپ اپنے بچے سے غافل اور لاپرواہ نہیں اور اُسے غلط کرنے پر ہاتھ پکڑ کر روکتی ہیں لیکن پھر بھی اگر اُس سے کوئ بھول اور غلطی ہوجاتی ہے تو قصوروار آپ نہیں ۔ اگر کوئ بچوں کی چھوٹی موٹی بھول اور غلطی اور جھگڑوں پر آپ کو باتیں سناۓ ، عزت نفس مجروح کرے، ساری محنت و کوشش کو نظر انداز کردے تو سلام کرکے اٹھ جائیں یا کانوں میں روئ لگالیں ۔

اپنے بچے کے ذہنی و جسمانی تحفظ کے ذمہ دار والدین ہیں کہ خود بھی زیادتی نہ کریں اور دوسروں کو بھی نہ کرنے دیں اور نہ ہی اتنے حساس ہوجائیں کہ ہر وقت شکی اور مشکوک نظروں سے دوسروں کو دیکھتے رہیں ۔

Add Comment

Click here to post a comment