Home » شوہر اور ہیلپ – کرن خان
خواتین کارنر

شوہر اور ہیلپ – کرن خان

یہ چند سال پرانی بات ہے۔۔شدید سردیوں کے دن تھے۔۔ہلکے سے نزلے اور بخار سے بات شروع ہوئ۔۔جو میری لاپروائی کی وجہ سے دو چار دن بعد نمونیہ میں بدل چکی تھی ۔ اس رات مجھے شدید بخار نے آلیا۔۔میری کیونکہ ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے بچا جائے۔۔۔ بخار کی گولیاں پھانک کر لیٹ گئی۔۔بخار کم ہونے کے بجاے بڑھتا ہی گیا۔۔ اس رات خان صاحب کام کی مصروفیت کی وجہ سے رات بہت لیٹ گھر آئے۔۔
میری حالت دیکھ کر پریشان ہوگئے۔۔ہسپتال لے کر جانے کو تیار کرنا چاہا۔۔لیکن میری ہمت کہیں بھی جانے کی نہ ہو رہی تھی۔۔سو میں نے تسلی دی کہ بخار اتر جاے گا ابھی تو میڈیسن لی ہے۔۔۔خان کو تازہ روٹی پسند ہے تو جب آتے اسی وقت بناتی تھی۔۔کراہتے ہوئے اٹھنے لگی تو موصوف نے مجھے منع کیا۔۔۔

” میں خود روٹی بنا لیتا ہوں۔۔مجھے بس طریقہ بتا دو”
میں نے اس آفر کو غنیمت جانا۔۔کیونکہ واقعی کچن جانے کی بھی ہمت نہ تھی۔۔۔میں نے انہیں سمجھایا کہ چھوٹا سا پیڑا بنا لو۔۔اسے بیلنے کی مدد سے بیل کر چھوٹی سی روٹی بنائیں گرم توے پر ڈال دینا۔۔دھیان رہے۔۔توا فل گرم ہو۔۔۔
یہ تابعداری سے سر ہلاتے ہوئے چلے گئے۔۔تقریبا دس منٹ اٹھا پٹخ کی آوازیں آتی رہیں۔۔
” بیگم۔۔۔۔۔۔۔۔۔” بوکھلاہٹ بھری آواز کے ساتھ تیزی سے کمرے میں آئے۔ ” وہ روٹی تو بیل لی لیکن جس پر بیلی وہاں سے تو اتر ہی نہیں رہی۔۔کیسے اتاروں؟؟؟”
” اوہ خدا آپ نے خشک آٹا نہیں ڈالا تھا؟؟” میں کراہی۔۔
” تم نے کب بتایا تھا؟؟ ”
” یار کامن سینس کی بات تھی۔۔میں نے سوچا آپ کو پتہ ہوگی یہ بات ۔۔
” حد ہے۔۔۔ میں تباخی (تندورچی ) ہوں کیا؟”
میں اٹھنے لگی تو پھر سے مجھے روکا “۔۔اچھا رکو میں یہی پر آٹے کا پیڑا لے آتا ہوں۔۔تم مجھے چھوٹی سی روٹئ بنآ دو میں جا کر توے پر ڈال کر پکا لونگا۔۔ ”

واپس آگئے آٹا لے کر آگئے۔۔۔میں بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اور انکو ایک چھوٹی سی روٹی بنا دی۔۔۔خدا جانے کچن میں کیا کارنامہ کیا مجھے بس چٹاخ کی آواز آئی۔۔ ۔۔پریشانی سے واپس آئے۔۔
” وہ روٹی تو خراب ہوگئی بیگم۔۔ ”
” کیا!!!!! وہ کیسے؟” میں عاجزی سے بولی۔
“توے سے ہی نہیں اتر رہی۔۔”
“اتنی زور سے توے کو ماریں گے تو یہی ہونا تھا ۔۔” میں نے بال کیچر میں باندھے اور اٹھنے کی تیاری کرنے لگی۔۔
” اچھا اچھا رکو باہر نہ نکلو۔۔تمہیں بخار ہے ۔تم دوسری روٹی بناو ۔۔میں توا ادھر ہی لے آتا ہوں”
انکے انداز میں لجاجت تھی۔۔۔میں پھر سے بیٹھ گئی۔۔

بند ہوتی آنکھوں کو زبردستی کھول کر میں پھر سے روٹی بنانے لگی۔۔اتنے میں گرم توا لے کر آگئے۔۔میں نے احتیاط سے روٹی اس پر ڈالی۔۔توا واپس لے گئے خدا خدا کرکے ان کی دو روٹیاں بن ہی گئیں۔۔۔
میں دوبارہ غنودگی میں جانے لگی ۔۔کہ آکر پکارا۔۔۔
باقی سالن کا کیا کروں۔۔
” فریج میں رکھ دیں”
اوپر یا نیچے۔۔۔
نیچے۔۔
رائتہ سارا کھا لوں؟
ہاں خدارا کھا لیں مجھے سونے دیں۔۔۔
اور یہ میری بھول تھی۔۔۔
انہوں نے آکر ایل سی ڈی پر نیوز چینل لگا لیا آواز البتہ میوٹ کردی۔۔ اور کھانا کھانے لگے۔۔میں نیند کی وادیوں میں جانے ہی والی تھی کہ دس منٹ بعد پھر سے آواز آئی۔۔۔۔

” بیگم۔۔۔۔۔بیگم۔۔۔بات سنو”
” ہممممم۔۔۔اب کیا ہے؟؟؟”
دودھ کیسے بناوں؟
جیسا پینا ہے ویسا بنا لیں۔۔
“مجھے گرم پینا ہے چاکلیٹ پاوڈر ڈال کر ۔۔ ”
چلو پی لیں۔۔
پانچ منٹ بعد واپس آئے
پاوڈر کہاں ہے؟؟
میں سخت عاجز ہوتی جا رہی تھی یہ تو طے تھا۔۔
” سامنے کیبنٹ میں پڑا ہے ۔۔”
واپس چلے گئے ۔۔آواز سنائی دی۔۔” ارے واہ۔۔یہ تو سامنے پڑا تھا۔۔کمال ہے ۔۔مجھے کیوں نہ نظر آیا”
میں نے کمبل سر پر اوڑھ لیا ۔۔۔
” بیگم۔۔۔۔؟؟”
میں نے شدید بے بسی سے کمبل چہرے سے ہٹایا۔۔انکے چہرے پر شرمندگی نظر آئی۔۔
اتنا بتا دو کتنا پاوڈر ڈالوں۔۔۔
ایک چمچ ڈال لیں۔۔” جواب دے کر میں نے کروٹ لی۔۔۔

دو منٹ نہ گزرے کہ پھر سے آواز آئی۔۔۔
بیگم ۔۔۔۔”
میں روہانسی ہو کر اٹھ بیٹھی اور اپنا سر پکڑ لیا۔۔۔” اب کیا ہوا؟؟؟”
” دودھ اچھا بنا ہے۔۔۔دوسرا گلاس پی لوں؟؟ بچوں کے لیے تو نہیں پڑا یہ دودھ؟؟”
” خدا کے واسطے سارا پتیلا پی لیں ۔۔پھر بھی تسلی نہ ہو تو دیوار پھلانگ کر ہمسایوں کے گھر کود جاو۔۔انکا فریج بھی برآمدے میں پڑا ہوتا ہے۔۔انکا دودھ بھی پی لو۔ لیکن مجھے سونے دو۔۔میرا سر پھٹ رہا ہے”
” اوکے اوکے سو جاو۔۔پریشان نہ ہو طبیعت خراب ہے 😁

Add Comment

Click here to post a comment