نسل نو کی تربیت اور میں – نرگس زبیری




“امی آپ کھاں ہیں؟ ” ……. حفصہ ثوبیہ کو ڈھونڈتی کچن میں آگئی- “کیا ہوا خیر ہے کیوں آوازیں دے رہی ہو اورکالج سے جلدی کیسے آگئیں ؟” ، ثوبیہ نے چولھا بند کرکے حفصہ سے پوچھا-” ایک پریڈ نھیں لیا اسوجہ سے جلد آگئیی کیا پکا ہےخوشبو تو اچھی آرہی ہے” حفصہ نے پتیلی کا ڈھکن اٹھاتے ہوئے پوچھا –
“ٹھیک ہے جلدی آگئی ہو تو ٹیبل لگا کر کھانے کے لئے سب کو بلا لو”…….. ثوبیہ نے کچن سے باہر جاتے ہوئے کہا- “امی کھانے کے بعد آپ کو ایک کام کرنا ہے کل کالج میں تقریری مقابلہ ھے میں بھی حصہ لوں گی میری لکھی تقریر پڑہھکر جو ردوبدل کرنا ہو بتادیج۶ےگا- کھانے کے بعد حفصہ نے اپنی لکھی تقریر ثوبیہ کو دی ……”عزیزاساتذہ طالبات ومھمان گرامی السلام علیکم ! آج جس موضوع پر مجھے لب کشائی کا موقع ملا وہ ہے……. ” نسل نو کی تربیت میری ذمہ داری”……..عزیز ساتھیوں اچھا معاشرہ اچھے انسانوں سے تخلیق پاتا ہے ,اچھے انسان بنانا ہی انسان کی بڑی ذمہ داری ہے…. اس سلسلے میں والدین کا کردار بےحد اھم اور خاص طور پر ماں کا کردار کیونکہ ماں بچوں کی تربیت اور انکی بنیادی ضروریات کے ساتھ ان عوامل کی طرف بھی توجہ دیتی ہے جو اس کے بچوں کی شخصیت کی تکمیل کرے, اور ان کو معاشرہ کا بھترین فرد بنائے
آ سمان پر نظر رکھ انجم ومھتاب دیکھ
صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پھلے خواب دیکھ !
ساتھیوں…….! عالم اسلام واحد مذہب ہے جس نے مردو عورت کے حقوق کا تعین کردیا… مرد کو قوام بناکر خاندان کی کفالت کا ذمہ دار بنایا, اسلام نے عورتوں کو شرافت وانسانیت کی ضمانت کے ساتھ اسے شرعی آزادی عطا کی اور اس پر ایسے اعمال کی ذمہ داری ڈالی یعنی نسل نو کی محافظت جو اس کی طبیعت اور مرضی کے حساب سے ہو ….عورت میں شفقت وپیار کا جذبہ رکھا تا وہ بچوں کی تربیت کا فریضہ بھترین طریقے سے انجام دے, انھی ما۶وں کے ناز ک کاندھوں نے ایسے ایسے ھیرے تراشے ھیں جو رھتی دنیا تک لوگوں میں اپنے اثرات مرتب کررھے ھیں مثلأ پیارے نبی صل اللہ علیہ وصلم, تمام انبیا۶ے کرام, وصحابہ کرام, سرسیداحمدخان, قاید آعظم, علامہ اقبال, مولانا جوھر, ایسے بہت سے دوسرے ساتھیوں ….! اسلامی معاشرہ نسل نوکی تربیت محبت وشفقت سے سر انجام دیتا ہے دیکھاجا۶ے تو مغرب میں آج یہ محبتیں یہ حفاظتیں ختم ہوتی جارھی ہیں اب یہ مغرب تک محدود نھیں بلکہ ہمار معاشرہ بھی اسی لپیٹ میں ہے-
“جو بھی آشیانہ شاخ نازک پر بنے گا وہ ناپائیدار ھوگا”……….آج کی مسلم ماؤں کو اپنے نسل نو کی تربیت کے لئے بھت سے چیلنجوں کا سامنا ھے…. ان چیلنجوں سے نمٹنا اسکے لئے بھت ضروری ہے کیونکہ ویسٹرن انٹرسٹ نے ہمارے معا شرے میں بھی پنجے گاڑنے شروع کردیے ہیں, انکی فنڈنگ این جی اوز تک پھنچی ہوئی ہے…. وہ فنڈنگ کے بل بوتے پر جس طرح چاھتے ہیں معاشرے میں بگاڑ پیدا کردیتے ہیں, یھی وجہ ہے کہ آ ج معاشرے میں مغربی تھذیب کی ثقافتی اور فکری یلغار کا سامنا ہےان کا مقصد مسلم معاشرے کو مغربی تھذیب کے رنگ میں رنگنا اور مسلمانوں کو ان کے بنیادی تصورات جیسے دین, عقیدہ, زبان, تاریخ سے علیحدہ کردینا, اس مقصد کے ل۶ے ایسے انگلش اسکولوں اور کالجوں کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں مغربی تہذیب کا رنگ غالب کرکے مسلم بچوں کے ذہنوں کوباآسانی مفلوج اور پراگندہ کیا جاسکے, مختلف زرائع ابلاغ کے زریعے مسلمانوں کی دینی شناخت اور تہذیب و ثقافت کی دہجیاں اڑانا زہر آلود مغربی تہذیب کو فروغ دینا تھا……یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرہ بڑی تیزی سے اخلاقی قدروں سے دامن چھڑاکر مغربی تھذیب کی اندھی کھائی کی طرف بگٹٹ بھاگا جارہا ہے-
زرائع ابلاغ اپنا پیغام اپنی فکر دوسروں تک پھنچانے کے لئے ایک وسیع میدان تصور کیا جاتا ہے…… یھاں بھی مغرب اپنی پروردہ این جی اوز سے کام لےکر اپنی ثقافتی یلغار مسلم سماج پر تھوپنے کی کوشش میں اعلیٰ اسلامی اخلاقی قدروں کو پامال کرنے کے ساتھ فحش ومنکرات کو پروان چڑھاکر مسلم معاشرے میں انتشار وانارکی پھیلانے کا زریعہ بن رھا ہے, یوتھ کو مغرب سے روشناس کروانے کے لیے وہ تمام زرائع استعمال کر رہا ہے جس میں سیکولرازم سب سے خطرناک زریعہ ہے……. کیونکہ اس کا مقصود دین کو عام سیاسی اقتصادی اور تعلیمی زندگی سے الگ تھلگ رکھنا ہے, یعنی کسی دین سے جڑے بغیر نظام زندگی قائم رکھنا, اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے ل۶ے ڈراموں اور فلموں میں ایسے ماحول کی عکاسی کرنا جو مغربی تھذیب کا چربہ ہو تاکہ نوجوان نسل گمراہ ہو سکے ساتھیوں اس پر آشوب ماحول میں نسل نو کی آبیاری ہے کھٹن ,بظاھر صورت حال بہت مایوس کن ہے صورت اصلاح کچھ نظر نھیں آتی مگر اہل درد کے ل۶ے مایوسی کفر ہے………
خودبخود ٹوٹ کے گرتی نھیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ھے بدلتی نھیں تقدیر کب
آج کی ماں کوضرورت اس امر کی ہے ……… نسل نو کی پرورش کے امور میں نسل کومغرب کے جال سے نکالنے کے لئے دامے درمے سخنے نصیحت اسلامی تہذیب وثقافت سے واقفیت مذہب کا درست تصور جدید ترین علوم و سائنسی تحقیقات سے متعارف کرانا ماں بچوں کو انگلش اسکول وکالج میں بھیج کر اپنے آپ کو کبھی بری الذمہ نہیں سمجھتی ………. ماں کبھی بھی اپنی تربیت سے چوکتی نھیں…… اس کو پتاھے نسل نو کی تربیت میں جو بھی عوامل ھوں بچوں کا ذھن خام ھوتا ھے اس میں اثر پزیری بھی زیادہ ہوتی ہے انکا ذہن پگھلے موم کی مانند ہوتا ہے اسے جس سانچے میں ڈھالیں ڈھل جاتا ہے, لہذا ماں تربیت کے ہر پھلو پر نظر رکھتی ہے چاہے وہ اسکول ہو یا گھر کا ماحول, محلے کے دوست,یا ٹی وی, موبائل ہو,عقلمند معاملہ فہم ماں سب کچھ دیکھتی ہے انکو برا۶ی سے روکنے کے لئے تمام زرائع استعمال کرتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے بچوں کی تربیت اور کردار سازی میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا شدید احساس پیدا کرنا بھی ضروری ہے-کیونکہ بچوں کی تربیت کے بارے میں اللہ والدین سے بازپرس کرےگا ……..ساتھیوں ماھرین کے خیال میں تربیت میں جن اوصاف کی ضرورت ہے ان میں محبت, شفقت, صبر وتحمل, برداشت, ایثار, قربانی, مستقبل پر یقین اور اپنی کوشش پر کامیابی کا اعتماد جیسے اوصاف ہونا ضروری ہیں اور اپنی اولاد کی حلال رزق سے پرورش کی جا۶ے تب ہی ان کے اندر بہترین اوصاف پیدا ہونگے نسل کی تعلیم و تربیت میں جہاں والدین ذمہ دار ہوتے ہیں اسکول وکالج کے اساتذہ اور خاندان کے افراد بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوتے ہیں مثلأ دادا دادی تایا چچا پھوپووغیرہ سب کا ساتھ ہوگا تب ہی آج کی ماں مغربی فکر کو مات دےگی آج کی بیٹیاں کل آنے والی نسلوں کی مائیں بنیں گی –
حضور صل اللہ علیہ وسلم نے بھی بچوں کو شا۶یستہ اور مہذب بنانے کے کام کو ماں باپ کی طرف سے بہترین اور مفید قرار دیا ہے
آپ نے یہ بھی فرمایا ہے تم اولاد کی عزت کرواور انہیں اچھی تہذیب سکھاؤ…..بچپن میں اسلامی اخلاق وآداب کی تربیت کے نتا۶یج مستقبل میں بڑے شاندار نکلتے ھیں۔ باپ بھی نسل نو کی تربیت میں ایسے سازگار حالات مہیا کرتا ھے کہ موجودہ نسل پچھلی نسل سے زیادہ ترقی یافتہ زیادہ مہذب اور زیادہ اللہ والی ہو یہ ماں ہی ہوتی ہے جو اپنی نسل کی تربیت میں دن رات ایک کردیتی ہے- انکو نیکی کی طرف ما۶یل کرتی ہے نیک اولاد کے ل۶یے ہمیشہ دعا مانگنی چاہیے حضرت ابراھیم الیہ السلام اور حضرت ذکریا الیہ السلام نے بھی نیک اولاد کے لیے دعامانگ تھی
میں اپنی تقریر اس شعر پر ختم کرتی ھوں…. جو رکے تو کوہ گراں تھے ھم جو چلے تو جاں سے گزر گئے- راہ یار ھم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا-

اپنا تبصرہ بھیجیں