میرے فلسطینیو! تم اکیلے نہیں – بنت شیروانی




سات جون یوم القدس ……. مسلمانوں کا قبلہ اول …….. نہ جانے کتنی بار ذہن میں آیا کہ اس کے بارے میں کچھ لکھوں … لیکن ہاتھ رُک جاتے. کبھی نظر وں کے سامنے ہاتھوں میں پتھر اٹھاۓ ایمانی جذبوں سے بھرپور فلسطینی بچے آجاتے تو کبھی اس بیت المقدس کی آزادی کی خاطر قربانیاں دے کر شہید ہونے والے معذور ضعیف شیخ احمد یاسین آتے .

تو بسا اوقات نظریں اس جوان فلسطینی کو نہ ہٹا پاتیں کہ جس کے ہاتھ بھی کاٹ دۓ گۓ تھے تو پاؤں سے بھی وہ محروم کر دیا گیا تھا …. لیکن اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹا تھا اور نہ جانے کتنے اسرائیلی فوج کی جیلوں میں قید فلسطینی یاد آتے. پھر ساتھ ہی ان بچوں کو بھی نہ بھلا پاتی جن کی نظروں کے سامنے ان کے باپوں کو یہ اسرائیلی فوجی پکڑ اپنی فوجی گاڑیوں میں بھر کر لے جاتے ہیں ……. اور جب یہ بچے ان گاڑیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں تو یہ فوجی تمسخرانہ انداز سے ہنستے ہیں …… اور پھر آنسوؤں سے بھیگا ان بچوں کا چہرہ اور یہ تمام مناظر ایک فلم کی طرح چلتے نظر آتے، تو کبھی وہ نوجوان نہتی فلسطینی لڑکی جو کہ اپنا بستہ تک خالی کر دیتی ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں…..! پھر بھی اسے شہید کر دیا گیا. تو کبھی وہ فلسطینی خواتین جن کے گھروں کی تلاشی لینے تو کبھی ان کے گھروں کو مسمار کرنے یہ فوجی پہنچتے ہیں…… تو یہ خواتین اپنے پہلے اسکارف لیتی ہیں اور کہتی ہیں ہمیں بس اتنی مہلت دو کہ ہم حجاب لے لیں.اور جب ان کی نظروں کے سامنے ان کے باپ ، شوہر، بھائی ، بیٹوں کو یہ فوجی لے جانے لگتے ہیں تو وہ اپنوں کو پکڑتی ہیں اور یہ فوجی ان خواتین کو بھی نہیں بخشتے……

ان کو بھی گھونسوں اور لاتوں سے مارتے ہیں اور اسی دوران اگر ان کے سر یہ کپڑا جسے اسکارف کہتے ہیں…… اترنے لگے تو وہ اپنے اس کپڑے کی فکر کرتی اور بنا اسکارف کے نہ ہوتیں اور کبھی اس کی آنکھوں کے سامنے ان فلسطینیوں کے جنازے آجاتے کہ جن پر فائرنگ کی جاتی ہے….. کہ جنازوں کو بھی نہیں بخشا جاتا اور اس وقت اپنا آپ بہت حقیر لگا کہ میری کیا حیثیت ، میں کیا جانوں ان قربانیوں کو ، مجھے کیا پتہ ان اجڑے گھروں کا دکھ ، اپنی نظروں کے سامنے گولیاں چلنے کے درد کا کہ جن میں بے گناہ افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور بھی نہ جانے ان گنت قربانیاں…….. !! جسے الفاظ میں لانا نہ ممکن ہے، کہ جن کے آگے ذہن بند ہونے لگتا ہے، ان مناظر کو تو دیکھا بھی نہیں جاتا….!موبائل پر ڈیلیٹ کے بٹن کو دبا کر مٹا دیتی ہوں کہ ان سب چیزوں کو (حالانکہ یہ سب تو اس گھر کو حاصل کرنے کے لۓ دی جانے والی قربانیاں ہیں) کہ نہیں دیکھ سکتی ان سب کو……. اجڑتے گھر، گولیاں کھاتے جوانوں کو، تو اسرائیلی فوجیوں کا پکڑتے بچوں کو……. !!
پھر سوچتی ہوں تو کیا “یہ بیت المقدس” ، مسلمانوں کا پہلا قبلہ صرف فلسطینیوں کا ہے ؟؟ لیکن پھر کہتی ہوں نہیں یہ صرف فلسطینوں کا قبلہ اوّل نہیں ہے .

یہ تو میرا بھی قبلہ اول ہے……..اس کو اسرائیلیوں سے آزادی دلانے کی میری بھی ذمہ داری ہے. اس کو فتح کرانا مجھ پر بھی فرض ہے کہ یہ میرا بھی قبلہ اوّل ہے۰ تو پھر اس کے لۓ میں کیا کروں؟؟ میں تو ٹہری ایک عورت !! میں کیا کرسکتی ہوں اس کی آزادی کے لۓ؟؟ پھر ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ میں اس کے لۓ آواز اٹھا سکتی ہوں، اپنے قلم کے ذریعہ ذہنوں کو اپنے بیت المقدس کی آزادی کے لۓ جگا سکتی ہوں،اپنی نسلوں کو اس کی خاطر قربانی دینے کے لۓ تیار کرسکتی ہوں۰اور اپنے فلسطینیوں تک یہ بات پہنچا سکتی ہوں کہ میرے فلسطینیوں تم اکیلے نہیں۰ہم تمھارے ساتھ ہیں ان قربانیوں کو دینے کے لۓ ..کہ یہ “ہمارا بھی قبلہ اوّل ہے”….!

اپنا تبصرہ بھیجیں