ترکی – اسرائیل بنتے بگڑتے تعلقات! – اسامہ معاذ شاہ




جب کبھی ترک صدر رجب طیب اردوان کسی محاذ پر پیش قدمی کرتے ہیں تو سیکولرز کے ساتھ ساتھ چند مذہبی طبقات بھی ایسے سیخ پا ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے . ویسے تو خدا کا شکر ہے کہ مسلمانوں کی عام اجتماعیت میں خدا تعالیٰ نے اپنے اس مردِ حق کیلئے خیر کا جذبہ بھر دیا ہے اور یہ متعصب مذہبی طبقہ سکڑتا چلا جا رہا ہے.

لیکن اس مذہبی طبقہ کے پروپیگنڈہ کی وجہ سے بہت سے احباب پریشان ہوجاتے ہیں . جن کی وجہ سے میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں . ہمیشہ کی طرح آج کل بھی آیا صوفیا کے معاملہ پر بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں اور ساتھ ساتھ کچھ شرپسند یہ مہم چلا رہے ہیں کہ ایردوان اگر اتنا ہی اسلام پسند ہے تو اسرائیل سے تعلقات کیوں رکھے ہوئے ہے؟ ان عقل کے اندھوں کو جو اپنے تعصب کی وجہ سے درست تصویر دیکھنے سے محروم ہیں ، کی پرواہ کیے بغیر ہم اس مسئلہ پر غور کرتے ہیں.
جدید ترکی کا پس منظر:
خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں کمال اتاترک اور فوجی جرنیلوں کی ایک طویل حکومت رہی ہے. جتنا ایک گند انہوں نے ترکی میرے سیکولرازم کے نام پر گھولا ہے اس میں اسرائیل کو تسلیم کرنا شاید کم درجے کی حرکت ہو. آئیے ذرا کمال اتا ترک اور اس کے گماشتوں کے پھیلائے گئے اس گند کا ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں.
1. خلافت کے خاتمہ کے بعد خلیفہ اور ان کے خاندان کو ملک بدر کیا گیا
2. اذان پر پابندی لگائی گئی
3. سکارف و برقعہ پر پابندی لگائی گئی
4. داڑھی رکھنے پر پابندی لگائی گئی
5. ایک سے زیادہ شادی پر پابندی لگائی گئی
6. ملک میں رائج شرعی قوانین کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا

حتیٰ کہ اس نفرت میں وہ اس قدر آگے بڑھے کہ ترک زبان جو کہ اردو کی طرح عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی کا رسم الخط عربی سے بدل کر لاطینی کر دیا گیا. ہزاروں علماء کو قید کیا گیا اور پھانسیاں دی گئیں . ملک میں پے در پے مارشل لاء لگائے گئے. معاملہ اس قدر گھمبیر ہوا کہ 1954 میں عدنان میندرس الیکشن جیت کر ملک کے وزیراعظم بنے انہوں نے صرف آذان پر پابندی ختم کی اور عثمانی نسل کے لوگوں کو ملک میں واپس لانے کا ارادہ کیا تو فوج نے بغاوت کرکے ملک کے وزیراعظم کو اس کی کابینہ سمیت پھانسی دے دی. اسی جبر کے دور میں جب 1949 میں اسرائیل بنا تو اسلام دشمنی میں سرفہرست اتاترک کے گماشتوں نے مسلم دنیا میں سب سے پہلے اسے تسلیم کیا. ان جبر و آمریت کے حالات ہی میں ایردوان کے استاد نجم الدین اربکان نے دو الیکشن جیتے لیکن ان کے خلاف بھی مارشل لاء لگے اور ان کو جیلوں میں ڈالا گیا.
ایک صدی کی اس بدمعاشی کے بعد 2001 میں ایردوان نے ایک بار پھر الیکشن جیتا اور 10 سالوں کی انتھک محنت سے ملک کا نقشہ بدل کر رکھ دیا. لیکن اس سارے ماحول میں ترک سیکولر آئین میں صرف 4، 5 بنیادی ترامیم کے علاوہ ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں لاسکے کیونکہ وہ کمال اتاترک کا بنایا ہوا آئین ہے اور اس کو بدلنے کیلئے 75 فیصد سے زائد پارلیمانی نشستیں درکار ہیں جو کہ آج تک ایردوان کی پارٹی کو نصیب نہیں ہوئی ہیں. وہ آگ و خون کے ایک دریا کو عبور کرکے یہاں تک پہنچے ہیں جس میں ان کے خلاف دو عدد فوجی بغاوتیں بھی ہوچکی ہیں جن کو عوام کی طاقت سے ناکام بنایا جا چکا ہے.

کسی دور میں ترکی اور اسرائیل کے اتنے قریبی تعلقات رہے ہیں جیسے آج چائنہ و پاکستان کے ہیں اور ان تعلقات کی بنیاد بہت پرانی ہے کہ اسے یکمشت جڑ سے اکھاڑنا ناممکن ہے.
2011 میں ترک حکومت نے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے فریڈم فلوٹیلا کے نام سے ایک بحری جہاز روانہ کیا جس میں پوری دنیا کی این-جی-اوز غزہ کیلئے امدادی سامان لادے ہوئے تھیں. یہ جہاز بغیر کسی فوجی مدد کے نہتے انسان لے کر جا رہا تھا تاکہ اسرائیل کی طرف سے کیا گیا غزہ کا محاصرہ ختم کروا سکیں جس پر اسرائیلی فوج نے کاروائی کی اور بیسویوں لوگ شہید ہوئے اور باقیوں کو گرفتار کرلیا گیا. (واقعے کی تفصیلات گوگل میں سرچ کرسکتے ہیں اس کے علاوہ ترک حکومت نے ایک مووی valley of wolves- Filistin بھی بنائی ہے جس سے معاملے کی سنگینی کو باآسانی سمجھا جاسکتا ہے) اس واقعہ کے بعد ترک صدر نے شہداء کا جنازہ خود پڑھایا اور اسرائیلی سفیر کو ملک بدر کرکے ترکی میں موجود اسرائیلی سفارت خانے کو بند کر دیا گیا.

ترکی و اسرائیل میں یہ تعلقات کم از کم 4 سال تک بالکل معطل رہے لیکن پھر چند مجبوریوں کی وجہ سے تعلقات کو پھر مشروط طور پر بحال کرنا پڑا. غزہ اور دیگر فلسطینی علاقے مکمل طور پر دنیا سے کٹ چکے ہیں. مصر کے رفاہ بارڈر کے علاوہ غزہ میں جانے کا کوئی زمینی راستہ موجود نہیں ہے اور جب سے مصر میں محمد مرسی شہید کا تختہ الٹ کر جنرل سیسی برسرِ اقتدار آیا ہے وہ رستہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے. ان سختیوں کی وجہ سے غزہ جو کہ ایک بہت بڑی جیل کی صورت اختیار کر چکا ہے، میں معاشی بحران کے علاوہ صحت اور دیگر مسائل انتہائی دگرگوں صورت اختیار کر چکے تھے. حالات یہانتک آپہنچے تھے کہ غزہ کے لاکھوں محصورین قحط کا سامنا کر رہے تھے. مرسی کی حکومت کے بعد (جو کہ فلسطینیوں کی پشتی بان تھی) غزہ و فلسطین کے مسلمانوں کی مالی امداد کیلئے واحد راستہ بغیر جنگ کیے صرف اسرائیل سے گذر کر جاتا تھا.
ان حالات میں ترک صدر ایردوان نے حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ داران سے مشاورت کے بعد اسرائیل سے تعلقات چند شرائط پر بحال کیے جن میں سب سے اہم یہ شرط تھی کہ اسرائیل غزہ و فلسطین میں بھیجے جانے والی امداد کیلئے رستہ فراہم کرے گا. مشروط مذاکرات کے تین بڑے نکات درج ذیل ہیں:

1. اسرائیل فریڈم فلوٹیلا والے واقعے کی معافی مانگے۔
2. فریڈم فلوٹیلا کے واقعہ میں شہید ہونے والوں کے خاندانوں کو 20 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرےگا۔
3. غزہ کا محاصرہ ختم کرتے ہوئے ترکی کو غزہ تک رسائی دی جائے تاکہ ترکی غزہ میں امدادی و ترقیاتی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔
ذہن میں رہے کہ اسرائیل کو پاکستان کی طرح نہ تسلیم کرنا ابھی تک رجب طیب ایردوان اور ان کی پارٹی کیلئے ناممکن ہے کیونکہ ابھی بھی ان کے پاس اس کام کیلئے جتنی majority چاہیے وہ نہیں ہے. اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ترکی مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم کھلاڑی ہے اسرائیل سے تعلقات مکمل ختم تبھی ہونگے جب کبھی جنگ لگے گی وگرنہ اس سے تعلقات ختم کرنا خود فلسطینیوں کے حق میں بہتر نہیں ہے. اس کے بعد سے ترکی و اسرائیل کے سفارتی تعلقات بحال تو ہیں لیکن ہیں تاریخ کے کم تر درجہ پر اور یہ حالات فلسطینیوں کی مشاورت سے بحال ہوئے ہیں. اب کچھ عقل کے اندھے جو فلسطینیوں سے زیادہ فلسطین کے وفادار ہیں گلا پھاڑ پھاڑ کر برسرِ احتجاج ہیں کہ اسلام پسند ایردوان اتنا ہی اسلام پسند ہے تو اسرائیل سے تعلقات ختم کرے. ان عقل کے اندھوں کو تعصب کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق رہنے دیں اور خود ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ کر بتائیں کہ ان حالات میں اس کے علاوہ اور کیا چارہ تھا؟
ان متعصبین کی حالت دیکھ کر اب احساس ہوتا ہے کہ ایسا طبقہ ہمیشہ سے رہا ہے اور شاید ہمیشہ رہے جو رسول اللہ کے دور میں بھی صلح حدیبیہ سے لے کر مدینہ کے یہود سے ابتدائی معاہدوں تک ہر معاملہ پر پروپیگنڈہ کرکے مسلمانوں کے اتحاد کے درپے رہتا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں