امریکی لالچ پر سوڈان اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے لیے بے تاب




سوڈان پر حکومت کرنے والی خودمختار کونسل کے نائب صدر محمد حمدان دقلو کا کہنا ہے کہ سوڈان دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست سے نکلنے کی خاطر اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کرتا رہے گا۔

جمعہ کی شب مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد حمدان دقلو نے کہا کہ “اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے ملک کو بڑا فائدہ ہوگا۔ امریکا اپنے وعدے کے مطابق سوڈان کو دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دے گا”۔

انہوں نے کہا کہ شمالی افریقہ کے عوام فلسطینی رہنماؤں کی جدوجہد کو سراہتے ہیں اور نئی خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سوڈان اسرائیل سے نئے تعلقات چاہتا ہے تاکہ دہشت گردوں کی فہرست سے نکل کر سوڈان اپنی معیشت مستحکم کر سکے۔

سوڈان پر حکومت کرنے والی خودمختار کونسل کے نائب صدر محمد حمدان دقلو

واضح رہے کہ محمد حمدان دقلو سوڈان کی ایک متنازع شخصیت ہیں جنہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کی حمایت حاصل ہے۔ متحدہ عرب امارت نے اگست میں اسرائیل سے نئے تعلقات استوار کیے۔

محمد حمدان دقلو اس نیم فوج ریپڈ فورس کے بھی سربراہ ہیں جس پر جون میں حکومت مخالف مظاہروں کو پُرتشدد بنانے کا الزام ہے۔

اگست میں معاشی بحران کے باعث سابق صدر عمر البشیر کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے جس سے عمر البشیر کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد خودمختار کونسل نے ملک کا انتظام سنبھالا۔

محمد حمدان دقلو کا کہنا ہے کہ “ہمیں اسرائیل کی ضرورت ہے۔ اسرائیل ایک ترقی یافتہ ملک ہے جس سے سوڈان کو زرعی اور تکنیکی شعبے میں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “چاہے ہم اسرائیل کو پسند کریں یا نہ کریں مگر دہشت گرد ممالک کی فہرست سے نکلنے کے لیے ہمیں اسرائیل سے تعلقات بنانے پڑیں گے۔ تاکہ ملک ترقی کر سکے۔”

خودمختار کونسل کے نائب صدر نے جمعہ کے روز ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کی ملاقات سوڈان میں تعینات امریکی سفیر سے ہوئی جس میں امریکا نے یقین دہانی کرائی کہ اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے پر سوڈان کو دہشت گرد ممالک کی فہرست سے نکالنے کے اقدامات جلد از جلد کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں