محبت کے اظہار کا طریقہ – افشاں نوید




اس وقت محبت کے اظہار کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ گھر میں لاکھوں مرتبہ درود شریف پڑھیں۔۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ شاہراہ پر آکر احتجاج کریں۔ میں کہوں گی کہ آپ شاہراہ پر آئیں۔ یہ نہ سوچیں کہ ہزاروں لوگ ہیں ایک میرے سر کے کم ہونے سے کیا ہوگا؟ جنت میں جانے والے بھی بے شمار لوگ ہونگے پھر کیا وہاں ایک میرے کم ہونے سے فرق پڑے گا؟؟

اگر لاکھوں سروں میں ایک میرا سر بھی ہے تو یہ اس سر کی سعادت ہے۔ گئے گزرے سے گیا گزرا مسلمان چاھے اس نے زندگی بھر کوئی نماز نہ پڑھی ہو مگر بلامبالغہ اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اولاد اور اپنے والدین سے زیادہ عزیز ہی اس نے سیرت کی کوئی کتاب نہ پڑھی ہو نہ کسی حدیث کے مفہوم کو بیان کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہو مگر یہ محبت اس کے ایمان کا حصہ ہے۔ پھر جو لوگ شعوری طور پر اسلام کی سمجھ رکھتے ہیں ان کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہ ے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کٹ مرنا بڑی شہادت ہے اور اس شریعت کے نفاذ کی جدوجہد اور اس کے لیے جینا بھی سعادت۔ ہمیں سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کی دعا سکھائی گئی ہے ۔ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے سے اچھے مسلمان دنیا کو دے کر جائیں۔

سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو امت کو اس دکھ اور کرب سے نکالیں اس اسٹیٹس سے نکالیں کہ امہ کا تصور معدوم ہورہا ہے۔ کشمیر و اقصیٰ امہ کو پکار رہے ہیں ۔ ساری دنیا میں بہنے والا لہو کلمہ گو مسلمانوں کا ہے۔ابابیلوں اور صلاح الدین ایوبی کے انتظار سے آگے بھی کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔۔ دشمن بھی ہمیں یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ کچھ تو اس نام کی حرمت کا پاس کریں . جس کے اصحاب نے کوئلوں کی آگ اپنی چربی سے ٹھنڈی کی حضرت ابو ہریرہ رضہ فرماتے ہیں کہ بھوک سے غش کھا کر میں گر پڑتا تھا ۔حضرت ابوبکر رضہ نے قبول اسلام کے وقت جو چالیس ہزار درھم ان کے پاس تھے سب دعوت وجہاد کے لیے وقف کردیے۔

جب نابینا باپ ابو قحافہ انکے محاذ پر جانے کے بعد سوال کرتے ہیں کہ کیا اس نے گھر کے لئے بھی کچھ چھوڑا تو پوتیاں سیدہ اسماء رضہ اور سیدہ عائشہ رضہ ایک پوٹلی میں کچھ پتھر اور کنکر بھر کر ان کا ہاتھ پوٹلی کو لگا دیتی ہیں کہ بابا جان یہ چھوڑ کر گئے ہیں اور انہیں تسلی ہو جاتی ہے ۔۔۔ سوال یہی ہے کہ جو دین اس مشکلوں سے ہم تک پہنچا . ہم نے کیا قربان کیا اس کے لیے

اپنا تبصرہ بھیجیں